موومنٹ فار دی رائٹس آف اوورسیز پاکستانی کے وفد کی بریڈفورڈ قونصلیٹ میں مطالبات کی یادداشت پیش

بریڈفورڈ (نوید چوھان) اوورسیز پاکستانیوں کی تحریک دن بدن اپنے منزل کی جانب رواں دواں ہے اور اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں کے حقوق کی جنگ میں موومنٹ فار دی رائٹس آف اوورسیز پاکستانی بھی پیش پیش ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کوشش میں Movement for the rights of overseas pakistanis کے وفد جس میں ڈاکٹر عنصر حیات, گوہر الماس، منور ٹوپہ، ظہیر احمد، محمد عارف، محمداصغر، راحت جاوید، ارشد کھٹانہ، جہانگیر دھامہ شامل ہیں نے قونصلر جنرل پاکستان بریڈفورڈ برانچ احمد امجد علی سے بریڈفورڈ میں واقع پاکستانی قونصلیٹ میں تفصیلی ملاقات کی اور اورسیز پاکستانیوں کو برطانیہ میں درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مطالبات اور تجاویز پیش کی۔ اور اس حوالے سے قونصل جنرل احمد امجد علی کو بتایا گیا کہ برطانیہ کے علاوہ دنیا بھر سے بھی اوورسیز پاکستانی اپنے مطالبات گورنمنٹ آف پاکستان کو بھیج رہیں ہے اور ان کا حل حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر حکومت پاکستان ان جائز مطالبات کو نہیں مانتی تو پھر اس حوالے سے ایک سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عنصر حیات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں جس میں سب سے بڑا مسلئہ ائیرپورٹ پر اورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ناروا سلوک، شکایت ڈیسک کی عدم موجودگی اور بلاوجہ ان پاکستانیوں کو تنگ کرنا اور رقم کا تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کا مسلئہ ہے جو اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں نے محنت سے بنائیں ہیں لیکن جب وہ واپس پاکستان جاتے ہیں تو ان کی جائیدادوں پر قبضہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس مسلئہ کو حکومتی سطح پر کئی بار اٹھانے کے باوجود ابھی تک حل نہیں کیا گیا ہمارا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ان تمام کیسز کے حل کے لیے احکامات جاری کرے۔ چوھدری خالق دتے وال کا کہنا تھا کہ ہم عید الفطر کے بعد ان مسائل کے حل کے لیے ایک موثر تحریک لے کر آ رہے ہیں اور اس فورم میں روزانہ کی بنیادوں پر لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اور انشاللہ اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل کا حل اسی فورم سےممکن ہو گا۔ قونصل جنرل احمد امجد علی کو اس موقع پر ڈاکٹر عنصر حیات، چوھدری خالق دتہ وال اور دیگر کی جانب سے ایک یادداشت بھی پیش کی گئی۔

Overseas

Overseas

Overseas

Overseas

Overseas

Overseas

Overseas

Overseas