پاکستان عمران خان

Imran Khan

Imran Khan

تحریر: شاہ بانو میر
گرتے ہیں شہسوار ہی جنگ کے میدان میں
وہ طفل کیا کرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے گا

سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوانے والا بچہ زندگی کی شاہراہ پے آیا تو غلطیوں سے سیکھ کر زندگی کی ناکامیوں کو خود سے پرے دھکیلتے ہوئے ہر منفی سوچ کو مثبت بنا کر دکھانے لگا – کھیل ہو یا انسانی فلاحی کام یا پھر غریب بچوں کیلئے اعلیٍ تعلیمی ادارے کا اجراء باوقار مہذب اعلی تعلیم یافتہ خاندانی بہترین سیاسی ساکھ بہترین بین القوامی مقام شان پاکستانجی ہاں یہ سب کس نے کیا وہ جس کی ذات مرصع ہے ان خوبیوں سے۔

عمران خان کسی انسان کو اللہ پاک ایسا مکمل وجود عطا کردیتے ہیں کہ دشمن خائف ہو کر اس کی برائیاں ضرور کرتا ہے خود کو زندہ رکھنے کیلئے – ان کے لئے آئے روز افواہوں کے بازار بھی گرم کئے جاتے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے – لیکن ہوتا کچھ نہیں جو بے عمل ہیں وہ عوام میں اب نمایاں ہوگئے اب چھپنا مشکل ہے -جبکہ سامنے رول ماڈل اگر عمران خان ہو تو بس پھر ان کی بربادی کا مکمل سامان ہے – عمران خان جہاں کھڑے ہوں کامیابیوں کا دراز سلسلہ وہیں سے شروع ہو جاتا ہے – کامیاب زندگی شخصیت اور رہنما کوئی تجھ جیسا کہاں؟۔

Performance

Performance

عمران خان کیلئے 2014 2015 کارکردگی کے اعتبار سے ناکام سال ثابت ہوئے –
دھرنے کی ناکامی اور اس کے بعد پے درپے ضمنی اور پھر بلدیاتی الیکشن میں ہوئی ناکامی نے بتا دیا کہ سیاست کے گھاگ منجھے ہوئے کھلاڑی تعلیم سے کوسون دور صرف سحر میں جکڑی ہوئی ہے – نسل در نسل کسی قیمتی اثاثے کی طرح اندرون سندھ اور پنجاب میں مخصوص ناموں کی مالا جپی جاتی ہے – تمام تر مایسیوں اور ناکامیوں نے گویا اس دن آخری حد پھلانگ لی جس دن ذاتی زندگی بھی صدمے سے دوچار ہوئی۔

اس آخری بڑے صدمے کے بعد عمران خان کیلئے اب کسی اور صدمے کی اہمیت کم ہوگئی – اس واقعہ کے بعد سوچ و بچار ذات کو پہنچنے والے جزباتی دھچکے اور سوچ کو ریزہ ریزہ کرتی ہر سو ہونے والی چہ مگوئیاں انسان کو نفسیاتی طور پے پرے دھکیل دیتی ہے لیکن عمران خان کرکٹ میں اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے ورلڈ کپ جیت پائے – سیاست کے ابھی کئی پیچ و خم ہیں جو موروثی سیاست میں عمران جیسے سادہ صاف گو انسان کو دکھائی نہیں دیے تھے جس کی وجہ سے کئی سیاسی چرکے برداشت کرنے پڑے۔

ایک اچھے مومن کی صفت قرآن پاک بیان کرتا ہے کہ وہ اپنی بات پر اکڑتا نہیں
اسی طرح عمران خان کا قد مزید سیاسی طور پے اس وقت بڑھا جب ان کا بینا سامنے آیا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے – اس جملے کو شائد کسی نے اہمیت دی ہو یا کسی نے نہ دی ہو لیکن عمران خان کو اچھی طرح جاننے والے جانتے تھے کہ خان اب اپنا محاسبہ خود کر کے تمام غلطیوں کا زالہ کرنے کی کوشش کرے گا بھارت کا مختصر سا دورہ عمران خان کو تفصیل سے عوام کے سامنے لے آیا عمران خان کا انٹرویو نہیں تھا بھارتی اینکرز کے باؤنسرز تھے جو عمران خان پے یکے بعد دیگرے پھینکے جاتے رہے۔

Nawaz Sharif

Nawaz Sharif

عمران خان اپنے جارحانہ انداز کی نسبت انتہائی سنجیدہ ذمہ دار دکھائی دیئے- پاکستان کے ہر سوال کو بہت سوچ بچار کرکے متوازن الفاظ میں جواب دیا- لفظوں کے ایسے چھکے مارے کہ ہر سوال کا جواب میزبان کا منہ لٹکا دیتا- حکومت وقت اور عوام نے بیحد سراہا کہ عمران خان نے ریاست کے اندر ریاست کا فارمولہ مسترد کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان سے نہیں نواز شریف سے حکومتی سطح پر گفت و شنید ہونی چاہیے ہر سوال پر میزبان شائد اس عمران خان کو کھوج رہی تھی جس کی تقریر “” اوئے نواز”” سے شروع ہوتی تھی۔

لیکن انہیں ناکامی ہوئی حب الوطنی یہی ہے کہ گھر کی لڑائی گھر میں جیسے چاہیں کریں لیکن مکار دشمن سامنے ہو تو وطن کی حرمت اولین حیثیت رکھتی ہے -الطاف حسین کے سوال پر وہی جواب سنا جو امید تھی مگر انڈیا کو وہی ہزیمت اس بار بھی کپتان نے دی جیسے وہاں شکست دے کر دی تھی جنرل راحیل کا تزکرہ اتنی معصومیت سے تعریفی انداز میں کرتے رہے انکی شہرت ان کی عزت کو ان کے ڈیلیور کرنے سے مشروط کیا اس وقت کیا قیامت ٹوٹ رہی ہوگی بھارتی میڈیا پر دانت مپیس رہے ہوں گے لیکن کر کچھ نہیں سکتے۔

متوازن شخصیت کا انوکھا روپ جس کو ہر سیاسی ورکر نے ہر عام پاکستانی نے مثبت سیاست سے تعبیر کیا ہے – حکومت وقت کی رضامندی سے ہی عمران خان وہاں گئے ہوں گے – اور وہا جا کر نواز شریف کی قانونی آئینی حیثیت کو بخوشی مانتے ہوئے ساتھ دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو جیسے پاکستان میں سیاست کے بیمار چہرے پر بھی رونق عود آئی عمران خان آپ کی انسان دوست خدمات کا تزکرہ ہر با شعور انسان جانتا ہے اس لیئےلکھنے سے گریزاں ہوں۔

Mistakes

Mistakes

لیکن کچھ غلطیاں تھیں جو آپ کی شخصیت کو آپ کے بڑے مقاصد کو چھوٹا دکھاتی تھیں الحمد للہ کہ اس ٹرپ نے جیسے یہ پکار لگا دی ہو کہ 2016 تحریک انصاف کے پختہ سیاسی سوچ رکھنے والے قائد کیلئے کامیابیوں کا سال ثابت ہونے والا ہے کیونکہ عوام نے چیختے دہاڑتے ہوئے عمران خان سے متاثر ہونا کچھ کچھ چھوڑ دیا تھا – لیکن یہ چہرہ یہ انداز یہ پختگی حکمت عملی کے ساتھ چلنے لگے ہیں اس کا اشارہ ہے جو بہت بھلا اور کامیاب رہا۔

عمران تیرے جانثار ابھی بھی
بے شمار بے شمار

پروگرام کے اختتام پر تمام حاضرین بشمول میزبان کھڑے ہوکر جس تعظیم کے ساتھ رخصت کیا وہ عمران خان کی ذات کی وہ سچائیاں اور عظمت ہے انسانیت کیلئے معاشرے کیلئے جس کے احترام کیلیئے کسی سرحد کی ضرورت نہیں صرف آپکا اچھا انسان ہونا ضروری ہے عمران خان بھارت جا کربھرپور پرجوش خیرمقدم کروا کے آئے
ہمارا فخر ہیں آپ عنوان پاکستان۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر