اوسلو : تقریب جشن آزادی کے دوران لوگ اپنے فرط جذبات روک نہ سکے، اکثر مقررین نے خوب داد وصول کی

Norway Independence Day Ceremony

Norway Independence Day Ceremony

اوسلو (پ۔ر) پاکستان یونین ناروے کے زیراہتمام یوم آزادی پاکستان کے حوالے سے پروقار تقریب منگل کی شام ناروے کے دارالحکومت اوسلومیں منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں نارویجن پاکستانیوں نے شرکت کی۔

اس تقریب کے دوران انتہائی منفرد تقاریروں نے محفل کچھ اس طرح لوٹی کہ لوگ اپنے فرط جذبات روک نہ سکے اور ان ولولہ انگیز مقررین کو خوب داد دی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام اللہ مجید سے ہوا، قاری نور عالم نے تلاوت کی سعادت حاصل کی

اس کے بعد نعت رسول مقبول(ص) پڑھی گئی۔ پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال نے خطبہ استقبالیہ پیش کرکے تقریب میں شریک لوگوں کا شکریہ اداکیا۔

تقریب کے مہمان خصوصی برگیڈیئر پروفیسر ڈاکٹرمحمد خان تھے جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں برسٹر صبغت اللہ قادری(کیوسی)، سماٹی وی کی اینکرپرسن پارس جہانزیب، ان کے شوہرجہانزیب خان، ایکپریس ٹی وی کے اینکرپرسن اورشاعر سید وصی شاہ، کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید تھے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض شاہ رخ سہیل نے انجام دیے جبکہ ان کی معاونت محمد عباس فلکی نے کی۔

تقریب کے دوران پاکستان کے انسانی حقوق کے عظیم علمبردار مرحوم عبدالستارایدھی کے احترام میں شرکا نے کھڑے ہوکر ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی اور نارویجن پاکستان صحافی عطا انصاری کی بنی ہوئی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئ۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تاریخ، قیام پاکستان اور جدوجہد پاکستان کے بارے میں پاکستان یونین کی خصوصی دستاویزی فلم بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی۔ اس کے بعد تقاریر سلسلہ شروع ہوا۔

اس موقع پرمسلم لیگ ن کے فیصل آباد سے ایم این اے رانا افضل خان کو بھی بات کرنے کا موقع دیا گیا توانھوں نےاپنی تقریر کے دوران حکومت کی تعریف کی اور حال اور مستقبل کے کچھ حکومتی منصوبوں کاذکر کیا۔ ان کے بعد برسٹرصبغت اللہ قادری نے اپنے تقریر میں یہ کہہ کر لوگوں سے داد وصول کی کہ اگر پاکستان کے سیاستدان صحیح ہوتے تو میں برطانیہ اور آپ نارویجن پاکستانی ناروے میں نہ ہوتے بلکہ اپنے وطن پاکستان میں خدمات انجام دے رہے ہوتے۔

قائداعظم ایسا پاکستان نہیں دیکھناچاہتے تھے جو آج ہے۔ قائداعظم اپنا علاج کروانے باہر نہیں آئے بلکہ ملک میں ہی علاج کو ترجیح دی۔ وہ ایسا پاکستان دیکھناچاہتے تھے، جہاں عوام کی حکمرانی ہو اور لوگوں کو بنیادی سہولیات اور انصاف مل سکے۔ کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ برسٹر صبغت اللہ قادری کا خطاب پراثر اور مدلل تھا۔

تقریب کے شرکا نے انہیں خوب داد دی۔ پھر جب اینکرپرسن پارس جہانزیب نے خطاب کیا تو انھوں نے یہ کہہ کر مرہم رکھنے کی کوشش کی کہ دنیاامید پہ قائم ہے اور ہمیں ماضی کی تلخیوں کو دیکھ کر مایوس نہیں ہوناچاہیے بلکہ موجودہ حالات کو دیکھ کر آئندہ پر نظررکھنی چاہیے۔ ان سے قبل شاعراوراینکرپرسن سید وصی شاہ نے نثر اور نظم دونوں سے شرکائے تقریب کے لیے لطف پیدا کیا۔

ان کی کچھ سنجیدہ اور کچھ رومانوی شاعری نے بعض باذوق لوگوں میں خاصی دلچسپی پیدا کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹرمحمد خان نے اپنے خطاب میں پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کو ذکر کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایاکہ کس طرح پاکستان آرمی نے ضرب عضب آپریشن انجام دیا اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کے دوران کتنی قربانیان دینا پڑیں۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان میں ہرقسم کے چینلجزکا سامنا کرنے کی صلاحیت ہے۔

کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضاسید نے اپنی گفتگو کے دوران مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ مظالم کو اجاگرکرنے کی کوشش کی۔ خاص طورپر سری نگر اور کشمیرکے دیگر مقبوضہ شہروں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک سو کے قریب مظلوم کشمیریوں کی شہادت اور پیلٹ گن سے چارسو افراد کے نابیناہونے کاذکر کیا۔

انھوں نے عالمی برادری خاص طورپر نارویجن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مظالم کو روکے اور مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے کرداراداکرے۔ تقریب کے دوران ناروے کےسابق وزیرانصاف و قانون اوڈ انار دورم، لیبرپارٹی اوسلو کے رہنما فورڈے یاکوب سن، لورسنکگ کی میئر ریگنھالد برگھیم، دریمن کے ڈپٹی میئرسید یوسف گیلانی بھی شریک ہوئے اور انہیں پاکستان یونین ناروے کی طرف پھول پیش کئے گئے۔

اس موقع پر پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال کو افواج پاکستان کے ادارے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے ان کی خدمات کے اعتراف پر شیلڈ پیش کی گئی۔ شیلڈ کے ساتھ انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آؓباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ برگیڈیئرڈاکٹرمحمد خان نے ایک تعریفی سند بھی پیش کی جس میں ناروے پاکستان تعلقات کے فروغ اور ناروے میں پاکستانی اقدار کو اجاگرکرنے میں چوہدری قمراقبال کے کردار کو سراہاگیاہے۔

پاکستان یونین ناروے نے جشن آزادی پاکستان کے موقع پرمختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت کی حامل سات شخصیات کو ایوارڈ بھی دیئے۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے برگیڈیئر پروفیسرڈاکٹر محمد خان کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں شعبہ مطالعات حاضرہ اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات اوردیگر تھینک ٹینک کے قیام میں اہم کرداراداکرنے اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں نمایاں خدمات پر ایوارڈ دیاگیا۔

صدرپاکستان پہلے ہی ان کی خدمات پر انہیں تمغہ امتیازسے نوازا ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک ایوارڈ برطانیہ میں مقیم پاکستانی قانوندان برسٹر صبغت اللہ قادری دیاگایا جنہوں نے قانون کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں جن کی بدولت انہیں متعدد اعزازات سے نوازکیاگیا۔وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں ملکہ برطانیہ نے کوئین کونسل (کیو سی) کے اعزاز سے نوازاہے۔

اس بار پاکستان یونین ناروے کشمیرکونسل یورپ کے چیئرمین علی رضاسید کو بھی ایوارڈ دیا جو ایک عرصے سے یورپ میں کشمیرکازکے لیے انتھک جدوجہد کررہے ہیں۔ پاکستان کی معروف اینکرپرسن محترمہ پارس جہانزیب کو بھی پاکستان یونین ناروے کی طرف سے ایوارڈ دیاگیا جو پاکستان میں سما ٹی وی سے وابستہ ہیں۔

پاکستان یونین ناروے نارویجن پاکستانی نوجوان محمد محسن پرویز کو بھی ایوارڈ دے گی جھنوں نے شام سے آنے والے امیگرنٹس کے لیے اپنے دل میں درد محسوس کرتے ہوئے اپنی تمام ترخدمات کو پیش کیااورمسلسل تین ماہ دن رات اپنی نینداورخوراک کی پرواہ کئے بغیر اس کام مشغول رہے۔

ایک اور نارویجن پاکستانی شخصیت محمد ریاض کیانی کو بھی ایوارڈ دیاگیا جن کے سر ناروے میں ہاکی کاکھیل متعارف کروانے اور اسے فروغ دینے کا سہرا ہے۔ نارویجن قومی ہاکی ٹیم کی تربیت کے لیے ریاض کیانی کو خصوصی طورپر انسٹرکٹر تعینات کیاگیا۔ کھیل کے شعبہ کے علاوہ ریاض کیانی ناروے میں سیاسی، سماجی اور مذھبی حوالے سے بھی کافی متحرک ہیں۔

پاکستان یونین ناروے کی طرف سے ایک ایوارڈ پاکستانی شخصیت غلام حسین کو دیاگیاجن کاتعلق منڈی بہاولدین سے ہے۔ وہ ایک سیاسی اورزمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق ایڈمنسٹریٹرسب ڈویژن منڈی بہاولدین ہیں۔ ان دنوں چیئرمین یو۔سی 70بوسال ، سب ڈویژ ن منڈی بہاولدین ہیں۔ یہ ایوارڈ انہیں اپنے علاقے کے لیے گرانقدرخدمات ہیں پر دیاجارہاہے۔