پاکستان پریس کلب پیرس فرانس کی جانب سے “یوم پاکستان” پر سلیکٹڈ کمیونٹی معززین کے اعزاز میں ڈنر

Paris Honor Dinner

Paris Honor Dinner

پیرس (اے کے راؤ سے) پاکستان پریس کلب پیرس فرانس کی جانب سے “یوم پاکستان “پر سلیکٹڈ کمیونٹی معززین میں سے الیکٹڈ سربراہان کے اعزاز میں سفیر پاکستان ڈنر، شمالی پیرس سے متصل بر لب نہر خوبصورت شاپنگ مال ” ملینیم ” کے مہاراجہ ریسٹورنٹ کے ہال میں ہوئی اس تقریب میں محترم غالب اقبال سفیر پاکستان مہمان خصوصی تھے ۔ قاری طاہر عباس گورائیہ کی تلاوت سے شروع ہونے والی اس تقریب کی نظامت جنرل سیکریٹری پاکستان پریس کلب میاں محمد امجد نے کی شاہدہ امجد کی حمد باری تعالیٰ اور ساجد گورسی کی نعت رسول مقبول (ص) کے بعد کلب کے صدر صاحبزادہ عتیق الرحمان نے معزز مہمانوں کو ویلکم کرتے ہوئے بتایا کہ 2002 میں قائم ہونے والی اس پریس کلب کا میں بانی اور قابض صدر ہوں۔

انہوں نے کمیونٹی کے سلیکٹڈ سربراہان کو سٹیج پر بلا کر ان کے ہاتھوں سفیر پاکستان کو ان کی خدمات پر شیلڈ پیش کی جس سے یہ تاثر ملا کے یہ سفیر پاکستان برائے فرانس کا الوداعی ڈنر ہے۔مقبوضہ پاکستان پریس کلب پیرس فرانس کے زیرے اہتمام ہونے والے اس شاندار پروگرام میں فرانس میں موجود پاک کمیونٹی کی نئی نسل میں اچھی خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افضائی اور انعامات دینے کا مثبت اقدام کم ہوم ورک اور مخصوص سوچ کی وجہ سے کمیونٹی سے انصاف نہ کر سکا۔

پاکستان کی فرنچ بیٹی واصفہ اسلم جس نے اگ کے ایک حادثے میں اپنی فیملی سمیت فرنچ لوگوں کو بھی محفوظ بنایا جیسے فرنچ میڈیا نے بھی تعزیم دی، واصفہ اسلم کو سفیر پاکستان کے ہاتھوں شیلڈ دینے کی رسم یقینا” قابل تحسین تھی۔ قابل احترام خواتین کی موجودگی ، خوبصورت ماحول ، خوش زائیقہ کھانے کی محسور کن خوشبو نے پی پی پی کے کامران گھمن ، پاکستان عوامی تحریک کے حاجی محمد اسلم ، پاکستان مسلم لیگ “ق” کے سجاد ڈوگہ، پاکستان تحریک انصاف کے یاسر قدیر ،چوھدری صفدر برنالی ، طاہرہ سحر اور آصفہ ہاشمی کو تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور اس موقع پر حیران کر دیا سچ بول کر پاکستان مسلم لیگ “ن” فرانس کے جنرل سیکریٹری یوسف خان جو مقبوضہ پاکستان پریس کلب کے چیرمین بھی ہیں۔ انہیں نے کہا کہ مجھے آج یہاں آکر پتا چلا ہے کہ میں بدستور چیرمین ہوں ۔ اور مجھے پریس ممبران کی تعریف کرنی ہے۔

سفیر پاکستان غالب اقبال نے اپنے صدارتی خطاب میں اس تاثر کو غلط کرار دیا کہ میں ابھی جا رہا ہوں ،ان کا کہنا تھا کہ میں حکومت پاکستان کا ملازم ہوں اور میرا دورانیہ ملازمت برائے فرانس پورا ہو چکا ہے مگر ابھی کہیں کی بھی پوسٹنگ نہیں آئی ۔ جب بھی آئے گی آپ سب کو بتا کر جاؤںگا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کمیونٹی کی جانب سے تعریفی کلمات کو شکریہ کے ساتھ لوٹاتے ہوئے کہا کہ میں گورمنٹ پاکستان کا ملازم ہوں اور میں جو کرتا ہوں وہ میرے فرائض میں شامل ہے۔ اور انہی فرائض کی انجام دہی کے بدلے حکومت پاکستان سے مجھے تنخواہ ملتی ہے۔

“اور یہی وہ گورنمنت کی ملازمت ہے اور اسی تنخواہ نے حکومت کی جانب سے ساںحہ ماڈل بپا کیے جانے پر جس میں 14 افراد شہید اور 94 زخمی ہوئے تھے جب ان کے ورثہ 150 افرا سفیر پاکستان کو پیرس ایمبیسی میں اہتجاج ریکارڈ کروانے گئے تو ان کو ملنے سے روک دیا تھا” سفیر پاکستان غالب اقبال نے کہا کہ آپ لوگوں کی بھیجی ہوئی رقوم کے ٹیکس کی کٹوتی سے ایمبیسی کی گاڑی چلتی ہے۔ انہوں نے بغیر نام ظاہر کیے کسی آرٹیکل کی تحریر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کلیر کیا کے جہاں تک میری زات کا تعلق ہے اس پر تنقید کی جا سکتی ہے اور یہ لکھنے والے کا حق ہے مگر کوئی ایمبیسی کے تقدس کو پامال کرے یہ کبھی برداشت نہیں ہو گا۔