جرمنی میں مارے جانے والے چھاپوں کے دوران چار مشتبہ انتہا پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا

Federal Office

Federal Office

پیرس (زاہد مصطفی اعوان) جرمنی کے مختلف حصوں میں مارے جانے والے چھاپوں کے دوران دائیں بازو کے چار ایسے مشتبہ انتہا پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر مسلمانوں کی مساجد اور پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پر مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ملکی اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مختلف شہروں میں یہ چھاپے آج بدھ چھ مئی کے روز مارے گئے۔ اس دوران تین مردوں اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ پولیس نے کافی مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔

برلن میں وفاقی دفتر استغاثہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق قریب ڈھائی سو تفتیشی ماہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے یہ چھاپے مشرقی صوبے سیکنسی کے علاوہ چار دیگر وفاقی ریاستوں میں بھی مارے گئے۔ فی الحال ملزمان کے مکمل ذاتی کوائف خفیہ رکھنے کی غرض سے ان کے نام صرف جزوی طور پر ہی ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک میں مسلمانوں کی مساجد اور سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والے غیر ملکیوں کی رہائش گاہوں پر مسلح حملوں کی نیت سے انتہائی دائیں بازو کے ایک شدت پسند گروپ کی تشکیل میں عملی مدد بھی کی تھی۔

وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق اس گروپ کا نام ’اولڈ اسکول سوسائٹی‘ یا OSS رکھا گیا تھا اور گروپ کے رکن انتہا پسندوں نے یہ منصوبہ بھی بنایا تھا کہ وہ جرمنی میں سلفی سوچ کے حامل مسلم انتہا پسندوں کے منظرنامے کی مشہور شخصیات کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے مرد ملزمان میں 56 سالہ آندریاز، 39 سالہ مارکُوس اور 47 سالہ اولاف شامل ہیں جبکہ حراست میں لی گئی واحد ‌خاتون کا نام ڈینِیس وینیسا بتایا گیا ہے، جس کی عمر 22 برس ہے۔

بیان کے مطابق چاروں ملزمان کو اب تک اپنے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دھماکہ خیز مواد کے غیر قانونی حصول سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں سے آندریاز نامی ملزم کو اس شدت پسند گروپ کا صدر اور مارکُوس کو اس کا نائب صدر بتایا گیا ہے۔ فیڈرل پراسیکیوشن آفس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’اب تک کی چھان بین کے مطابق اس گروپ کا مقصد یہ تھا کہ جرمنی کے اندر چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں سلفی نظریات کی حامل مشہور مسلم شخصیات، مساجد اور پناہ گزینوں کے ہوسٹلوں پر حملے کیے جائیں۔ اس مقصد کے تحت چاروں گرفتار شدگان نے ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کی خاطر دھماکہ خیز مواد بھی خریدا تھا۔‘‘

دفتر استغاثہ کے حکام نے اس بارے میں جاری کردہ تحریری بیان کے علاوہ دیگر تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے محض اتنا کہا کہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ان انتہا پسندوں نے ممکنہ حملوں کی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔