مشتاق احمد نوری کی صدارت میں بزم غزل کے زیر اہتمام بین الاقوامی آڈیو نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام

Bazme Ghazal Natiya Mushaira

Bazme Ghazal Natiya Mushaira

GHAZAL

GHAZAL

بشر سے مدحت محبوب جیسا کام لینا تھا
: شرف اللہ نے یوں ہی نہیں بخشا نیابت کا
پٹنہ (پریس ریلیز) واٹس ایپ کے سب سے مقبول انٹرنیشنل شعری گروپ ‘ بزم غزل’ کی طرف سے گزشتہ شب ایک شاندار بین الاقوامی نعتیہ آڈیو مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ مشاعرہ کی صدارت بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر ایم آر چشتی ، ڈاکٹر منصور خوشتر اور کامران غنی صبا نے انجام دئیے۔

دیر رات تک چلے اس مشاعرہ میں ملک و بیرون ملک کے تقریباً دو درجن شعرائے کرام نے اپنے کلام پیش کئے۔ مشاعرہ میں صدر مشتاق احمد نوری کے علاوہ احمد اشفاق (قطر)، خورشید الحسن نیر (ریاض)، منصور اعظمی (قطر)،نور جمشید پوری (ریاض)، رخسار ناظم آبادی (بحرین)،منصور قاسمی (ریاض)، ڈاکٹر واحد نظیر(دہلی)، امام قاسم ساقی(آندھرپردیش)، فراغ روہوی (کولکاتا)،شاہ اجمل فاروق ندوی (دہلی)، اصغر شمیم(کولکاتا) ،فاروق اعظم عاجز مشکی پوری(دہلی)، شاہین سہسرامی، مرغوب اثر فاطمی،ڈاکٹر منصور خوشتر ،ا یم آر چشتی، جہانگیر نایاب، بشر رحیمی، نصر بلخی، کامران غنی صبا،ریاض خان قادری، یوسف جمیل، سید سرفراز الہدی قیصراور رضوان احمد دربھنگوی نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ دیر رات تک چلے اس مشاعرہ میں دنیا بھر سے باذوق سامعین بھی شعرائے کرام کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود تھے۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے مشتاق احمد نوری نے کہا کہ واقعی یہ مشاعرہ بہت ہی کامیاب اور شاندار تھا۔شعرا نے بہت ہی عمدہ کلام پیش کیے۔ کچھ شعراء کے ترنم نے اتنا متاثر کیا کہ اب تک ان کا ترنم کانوں میں گونج رہا ہے۔ بزم اردو، قطر کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق کے شکریہ کے ساتھ مشاعرہ کا اختتام ہوا۔ مشاعرہ میں پیش کئے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:
مشتاق احمد نوری
زندگی بھر انہیں سینے سے لگا رکھوں گا
ان کی قربت کے جو لمحات میسرآئے
احمد اشفاق، قطر
نم عقیدت سے ہوئیں آنکھیں مری
جب پڑھا میں نے قصیدہ آپ کا
رخسار ناظم آبادی، بحرین
سورج، زمین، چاند ستارے اسی کے ہیں
سارے ہی معتبر یہ حوالے اسی کے ہیں
منصور اعظمی، قطر
در رسول ہے پروردگار آنکھوں میں
طلب ہے دید کی ان بیقرار آنکھوں میں
منصور قاسمی، ریاض
غار ثور میں رب نے نور یوں بکھیرا ہے
دشمنوں نے دیکھا تو مکڑیوں کا جالا ہے
خورشید الحسن نیر، ریاض
سب کے دل میں مثل انور ہے ثنائے مصطفی
چودہویں کا چاند ہے یہ جلوہ ہائے مصطفی
نور جمشید پوری، ریاض
نور نظروں کا بڑھے گا مری، سرمے کی طرح
خاک طیبہ کو ہم آنکھوں میں لگانے آئے
ڈاکٹر واحد نظیر، دہلی
بشر سے مدحت محبوب جیسا کام لینا تھا
شرف اللہ نے یوں ہی نہیں بخشا نیابت کا
فراغ روہوی، کولکاتا
چھوڑیں گے نہ ہر گز جیتے جی ہم آپ کا دامن شاہِ امم
جو تیرا نہیں وہ میرا وہ میرا نہیں اللہ کا جب فرمانا ہے
شاہین سہسرامی، سہسرام
کون گزرا ہے یہاں سے لے کے جلووں کی بہشت
دامنِ دل پر یہ کس کا نقشِ پا روشن ہوا
شاہ اجمل فاروق(دہلی)
سیرت کے آئینے میں کبھی خود کو دیکھئے
اس آئینے سے صاف کوئی آئینہ نہیں
مرغوب اثر فاطمی، گیا
چشم ظاہر نے آج دیکھ لیا
نور کا دائرہ رسول اللہ
امام قاسم ساقی، آندھراپردیش
حمید و احمد و محمود کو ہے میم سے نسبت
جو رشتہ میم کا سمجھا اسی کے حق میں جنت ہے
ایم آر چشتی، مظفر پوری
شہر محبوب سے لوٹا تو مجھے ایسا لگا
عمر بھر جیسے تڑپنے کی سزا پائی ہو
جہانگیر نایاب، کشن گنج
ضلالت کے سمندر میں یہ دنیا غرق ہو جاتی
”سفینے کو تباہی سے بچانے نا خدآیا”
ڈاکٹر منصور خوشتر، دربھنگہ
نبی کا نام جو وردِ زباں ہے
کھلا ایماں کا میرے گلستاں ہے
نصر بلخی، پٹنہ
پوچھا جو صحابہ نے اخلاق محمد کو
عائشہ کی وضاحت ہے قرآں کی صراحت ہو
کامران غنی صبا، پٹنہ
اب اور بارِ ہجر اٹھانا محال ہے
خوابوں میں ہی دکھا دے مجھے روئے مصطفی
سید سرفراز الہدی قیصر، پٹنہ
مدینے کی گلیوں میں کس نے جلایا
چراغ محبت سویرے سویرے
فاروق اعظم عاجز مشکی پوری
چشمہ بہنے لگا انگلیوں سے، ہے حجر موم تیری ادا سے
شق بھی سینا ہوا ہے قمر کا مکڑی تم کو چھپانے لگی ہے
بشر رحیمی، ویشالی
نعت گوئی ضامنِ بخشش عمل ہے مومنو
”مدحت سرکار میں ڈوبے ہوئے اشعار لکھ”
رضوان احمد دربھنگوی
گھر بیٹھے مدینے کا کیا میں نے نظارہ
ایسا ہی میرے ساتھ کئی بار ہوا ہے
یوسف جمیل، اورنگ آباد
انبیا آئے لاکھوں مگر
آپ محبوب رب ہو گئے
ریاض خان قادری، دربھنگہ
خدا کے نور کا جلوہ زمیں پر آنے والا ہے
نہ ہوگا جس کا سایہ وہ پیمبر آنے والا ہے