رمضان المبارک اور لوڈ شیڈنگ

Ramazan

Ramazan

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
رمضان المبارک برکتوں والامہینہ اپنے اندر برکتیں لپیٹ کے رواں دواں ہے،اس کی برکتیں خاص طور پر دو وقتوں میں نازل ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے ان دونوں وقتوںمیں بجلی کی بحران کی وجہ سے عوام سخت مشکلات کے درپے ہونے کی نتیجہ میں ان دونوں قبولیت کے وقتوں میں حکومتِ وقت کو بد دعائیں دیتے رہتے ہیں،اور عوام کی زبان پر تو یہی ورد ہوتا رہتا ہے کہ نہ جانے یہ وزیر پانی وبجلی تو کوئی غیر مسلم نہیں ہے کہ ہر دن اور ہر روز عین سحر وافطاری کے وقت بجلی کو بند کردیتا ہے،یہاں پر تو بجلی کی حالت اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ جب تراویح کا وقت شروع ہوتا ہے تو بجلی بھی اپنی آرام سو جاتی ہے،اگر تراویح کے دوران بجلی ہوتی بھی ہے تو چند منٹوں کے لیے ہوتی ہیں وہاں قاری صاحب اپنی خوش الحانی میں قرآن سُناتے ہیں اور لوگ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں،۔

مگر جب چند رکعت ہوجاتے ہیں تو بجلی بیچاری کہتی ہے کہ میں تو بہت تھک گئی اب میں آرام کرنے کے لیے چھلی جائوں گی،یہاں بجلی آرام فرماتی ہے تو وہاں جنریٹر کی شوروغل ہوجاتا ہے،اسی شوروغل سے بجلی بیچاری کی آرام بھی تکلیف دہ ثابت ہوجاتی ہے،مگر پھر بھی بجلی اسی شور میں آرام کرتی ہی رہتی ہے،یہاں جنریٹرکی شور شروع ہو جاتی ہے تو قاری صاحب کی خوش الحانی کو ضرب پڑ جاتی ہے کہ اس شور میں کیسے قرآن کریم کو توجہ کے ساتھ سُنی جائے؟اور ہماری تو نماز میں یہ توجہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی مکھی بھی ہمارے کان میں گنگنائے تو توجہ ختم۔

Load shedding

Load shedding

ایک دن اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا تو اس میں بہت ساری خبریں لوڈ شیڈنگ کے خلاف پڑھی،صرف اسی پر بھی بس نہیں کیا جاتا کہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے،بلکہ اوپر سے کمر توڑ مہنگائی سے بھی غریب عوام کو مالی ضرب پڑ رہاہے،جب بھی اور کسی بھی دن جب اخبار کو مطالعہ کے لیے اٹھاتا ہوں تومملکت خداداد کے عوام کی یہی ایک آواز ہوتی ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو ختم کردیا جائے،یہاں تو عوام کی یہی ایک صدا ہوتی ہے تو وہاں پر وزیراعظم نوازشریف بھی یہ بات کرنے سے نہیں تکتے کہ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی عوام کو ریلیف دیا جائے گا،خصوصاً سحری اور افطاری میں تو لوڈشیڈنگ کا بالکل خاتمہ کر دیا جائے گا، اسی کے ساتھ ساتھ نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان اوقات میں صنعتی کارخانوں کی بجلی بند کر دی جائے گی،تا کہ عوام کو کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،مگر ان اعلانات سے صوبائی حکومت کے کان بھی نہیں رینگتے۔

ہمارے مملکت خداداد کے بڑے اور ایوان اقتدار کے لوگوں نے تو بس صرف اعلان کرنے کو اپنا فریضہ بنا رکھا ہے،ہمارے صاحب اقتدار لوگوں کایہ ایک زعمِ فاسدہے کہ ہمارا کام تو بس صرف اعلان کرنا ہے اور پھر اس کو عملی جامہ پہنانا کسی اور کاکام ہے۔اعلان تو ہر ایک کر سکتا ہے کہ میں یہ کروں گا اور وہ کروں گا،آسمان کے تارے زمین پر لاکے دم لوں گا۔ابھی حال ہی میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے جب بھی کوئی کنڈیڈیٹ مجھ سے ملتا تو کہتا کے مولانا صاحب آپ کے پاس تو ممبر اور محراب ہے آپ اس جمعہ کو یہ بات کرلیں کہ ووٹ ایک شہادت ہے اور شہادت کسی اچھے آدمی ہی کے حق میں دی جائے تو اچھا ہوتا ہے،ساتھ یہ بھی کہتے کہ ان سب کنڈیڈیٹ میں لوگ مجھ سے زیادہ محبت کرتے ہیں مگر آپ ان کو صرف یہ کہہ دے کہ یہ اہل محلہ تو مجھے ووٹ دیدیں تو میں یہ سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔

Election

Election

ان لوگوں کی باتیں تو اپنی جگہ مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ تو خود دن بھر کے چوبیس گھنٹے علماء اور اپنے مسجد کے اماموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو ہم ان کو عوام میں رسوا کرے،حتیٰ کہ امام جب مسجد میں ایک منٹ کے تاخیر سے پہنچتا ہے تو چی می گوےّاں شروع ہو جاتی ہیں مگر میں نے کسی بھی کنڈیڈیٹ کے لیے منمبر ومحراب سے صدا بلند نہیں کیا البتہ عوام کو یہ ضرور بتایا کہ جن لوگوں پر آپ کا اعتماد ہو کہ کل یہ لوگ ہماری خدمت کریں گے اور مملکت خداداد کے ساتھ مخلص ہونگیں، تو ان کو ضرور ووٹ دیدیں۔مگر ان بلدیاتی انتخابات کے تو آج ایک مہینہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے اور پھر وہ لوگ اپنے وعدے بھول گئے،کہ ہم نے تو عوام کے ساتھ بہت سارے وعدے کیے تھے اب ان کو بھی بجالانا ضروری ہے۔ہمارے اہل اقتدار تو جب بھی انتخابات میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر کہیں اور جاکر بسنے لگ جاتے ہیں۔کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے

قدموں میں تھی زمین ،سفر فاصلوں میں تھا
وہ تھا میرے قریب،مگر راستوںمیں تھا

ملنا تھا اتفاق،بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنا ہی دور ہوگیا جتنا قریب تھا

اس کے دیکھنے کو ترستی رہے گی میری آنکھیں
جس کے ہاتھوں کی لکھیروں میں میرا نصیب تھا

قارئین کرام آمدم برسرمقصد:آخر میں اپنے محبین وطن وزراء اور ان کے مشیروں سے ایک دردمندانہ اپیل کروں گا کہ تم ہی لوگوں کے ہاتھ کے لکھیروں میں عوام کے نصیب کے فیصلے ہیں تمہاری وجہ سے ہماری نصیب بدل جائیں گے،تو پھر دیر کس بات کی!بس آج ہی اپنے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت شروع کر دیجئے اور اپنی تنخواہوں کوحلال کر کے عوام کی ہر ممکن تکلیفوں کوختم کردیجئے ۔حالاً وقت میں عوام کی یہی سب سے بڑی خدمت ہے کہ ان کے بجلی گریڈوں کی خود نگرانی کر کے ان بیچارے عوام کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے چٹکارا دیجئے۔اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہوں(آمین)

Rizwaniullah Peshawari

Rizwaniullah Peshawari

تحریر: رضوان اللہ پشاوری
rizwan.peshawarii@gmail.com