آج کی رات ساتھ چلتے ہیں

Walking

Walking

آج کی رات ساتھ چلتے ہیں
کل تو ہم کو بچھڑ ہی جانا ھے
آج کی رات بس ے محفل ھے
کل تو انجان نگر بسانا ھے
آج کی رات ہی تو اپنی ھے
کل تو اک نیا شہر بسانا ھے
اجنبی راستے نی منزل
کچھ نیے دوست اور نی محفل
بس ایک ذرا سا ے کام کر دینا
اپنے احساس کے دریچوں پر
اپنے لمحات کے صحیفوں پر
میری یادوں کے پھول رکھ لینا
میرے سپنوں کی دھول کو اپنی
راہ کا ہمسفر بنا لینا
ے جو وعدہ کیا ھے تم نیے ابھی
آج کی رات تک نہ رہ جائے
وقت کے پانیوں میں بہے جائے

شاعرہ : فہمیدہ غوری. کراچی