فقیر ہونا بھی ایک فن ہے!

Fakir

Fakir

تحریر: انعام الحق
جب فقیر گلیوں میں آواز لگاتے ہیں، اللہ کے نام پر دے دے …مانگنے والوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ دینے والے سے اُسکی کُل جائیداد ہی لے لی جائے۔بازاروں میں بھکاری مانگتے وقت تو یہ کہتے ہیں کہ کُچھ تو دے دے…جبکہ دینے والا جب سِکے نکالتا ہے تو اُسے اپنے پاس سے سِکے دیتے ہوئے کہتے ہیں”اے وی اپنے کول رکھ لے”کئی تو کہتے ہیں میرے سے زیادہ تمہیں ضرورت ہے یا پھر یہ کہ سِکوں کا زمانہ نہیں نوٹ دینے ہیں تو دو…۔پاکستان میں ہٹے کٹے لوگ بھی فقیر بنے مانگتے پھرتے ہیں جبکہ، فقیری لائین کوئی عام نہیں بلکہ خاصم خاص لائین ہے۔پاکستانی لوگ یہ سمجھتے ہیں فقیر بن کر بھیک مانگتے رہنا اُنہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کر دیگا جبکہ یہ عمل اُنہیں اللہ تعالیٰ سے دور کر رہا ہوتا ہے۔

ایک فقیر بہت مفلس و کنگال تھا۔اس کی دُعا رب تعالیٰ سے یہی تھی کہ تو نے مجھے بغیر مشقت کے پیدا کیا ہے۔اسی طرح بغیر مشقت کے مجھے روزی بھی دے وہ مسلسل یہی مانگا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ عزوجل نے اس کی دعا قبول فرمائی،اسے خواب آیا کہ تو ردی والے کی دکان پر جا وہاں بوسیدہ کاغذوں میں سے تجھے ایک کاغذ ملے گا۔اسے لے آ اور تنہائی میں پڑھ۔ صبح اٹھ کر وہ ردی کی دکان پر گیا۔ردی میں سے وہ تحریر تلاش کرنے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ تحریرنامہ اُس کے سامنے آگیا جو اسے خواب میں نظر آیا تھا۔اس نے وہ کاغذ دکاندار سے لیا۔تنہائی میں اس کاغذ کو پڑھا۔اس پرچے میں تحریر تھا کہ شہر سے دور ایک مزار ہے ادھر ہی خزانہ دفن ہے۔

Bow & Arrow

Bow & Arrow

مزار کی طرف پشت اور منہ قبلہ کی طرف کرکے تیر کوکمان میں رکھ…جہاں پر تیر گرے وہاں خزانہ دفن ہوگا۔ فقیر نے تیر کمان لے کر اپنے جوہر دکھانے شروع کر دیئے۔جہاں تیر پھینکتا وہاں جلدی سے بیلچے پھاوڑے لے کر زمین کھودنا شروع کر دیتا۔بیلچہ، پھاوڑا اور وہ فقیر کند ہوگئے مگر خزانے کا نام و نشان بھی نہ ملا۔وہ روزانہ اسی طرح عمل کرتا تیر پھینکتا جس جگہ تیر گرتا اسے کھودتا مگر خزانہ نہ ملتا۔ فقیر کے اس پروگرام کا بادشاہ وقت کو پتاچلا بادشاہ نے اسے طلب کیا۔

اس نے ساری کہانی بادشاہ کو سنائی اور کہنے لگا جب سے خزانے کا پتہ پایا ہے، تلاش میں ہوں، خزانہ تو نہ ملا البتہ سخت تکلیف اور مشقت میرا مقدر بن گئی ہے۔ بادشاہ نے فقیر سے وہ تحریر نامہ لے لیا۔خزانہ پانے کے لئے بادشاہ نے بھی تیر چلانے شروع کر دئیے۔ چھ ماہ تک بادشاہ بھی تیر چلاتا رہا مگر کُچھ ہاتھ نہ آیا۔بادشاہ سلامت نے نا امید ہو کر وہ تحریر نامہ فقیر کو واپس کر دیا۔فقیر نے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا عاجزی وانکساری اور آنکھیں اشک بار کرکے دُعا کی اے اللہ تعالیٰ میری سمجھ سے یہ تحریر نامہ بالا تر ہے۔ میں راز کو نہ پاسکا۔

Treasure

Treasure

تو خود ہی کمال مہربانی سے اسے حل کر دے اور مجھے خزانے تک پہنچا دے۔ جب وہ عاجز ہو کر بارگاہ الہی میں سچے دل سے گر پڑا تو آواز آئی۔ میں نے تجھے تیر کو کمان میں رکھنے کو کہا تھا۔تجھے تیر چلانے اور کمالات د کھانے کا نہیں کہا تھا۔ خزانہ تیرے پاس تھا ،تیرے قریب تھا۔تو تیراندازی کے سفر میں اس سے دور ہوتا گیا۔خدا کی ذات کو اپنے اندر اپنے دل میں تلاش کر جو شہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔اپنے من میں ڈوب، خزانہ تک پہنچ جائے گا۔

(حکایات سعدی)جب ہم اپنی زندگی میں اللہ تعالی سے مدد پانے کے بعد اُس میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کرتے ہیں تو ہم نقصان اٹھاتے ہیں جبکہ نام ہم قسمت کا لگا دیتے ہیں کہ قسمت ہی خراب تھی۔حقیقت میں انسان اپنی قسمت خود بنتا ہے۔فقیری ایک کاروباری پیشہ بن چکا ہے اور پاکستان میں یہ پیشہ گروپوں میں تقسیم ہے اور عام لوگ اسے مافیا کا نام بھی دیتے ہیں کیونکہ فقیروں نے علاقے اور گلیاں تک تقسیم کر رکھی ہوتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں فقیر ہونا اور دُنیاوی دولت اکٹھی کرنے کی خاطر فقیر ہونامیں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

Inam ul Haq

Inam ul Haq

تحریر: انعام الحق

Inam-ul-Haq

Inam-ul-Haq