18لاکھ والی آبادی والا ضلع بدین مختلف مسائل کا شکار

بدین (عمران عباس) 18لاکھ والی آبادی والا ضلع بدین مختلف مسائل کا شکار،2ایم این اے اور 5ایم پی ایزرکھنے والابدین لاواث بن چکا ہے جس میں نالے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے، سڑکیں زبون حالی کا شکار، پانی کا شدید بحران، صفائی کا نظام درھم برھم۔تفصیلات کے مطابق 18 لاکھ کی آبادی والا ضلع بدین مختلف مسائل کا شکار ہوچکا ہے گندے نالوں کی صفائی نا ہونے کی وجہ سے نالے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ہیں اور شہر کے اندر لوگوں کا چلنا دشوار ہوچکا ہے، کروڑوں روپے ترقیاتی بجٹ آنے کے باوجود سڑکوں کی حالت زبون ہوگئی ہے، ضلعی ھیڈ کواٹر بدین جو تقریباََ تین لاکھ کے قریب آبادی رکھتا ہے اس میں واٹر سپلائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے جس سے لوگوں کو پینے کے پانی اور استعمال کا پانی حاصل کرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دور دراز علاقوں سے پانی بھرنا پڑرہا ہے جبکہ ضلعی حکومت کی جانب سے تقریباََ 10سال پہلے لگائے گئے فلٹر پلانٹس مکمل طور پر ناکارہ ہوچکے ہیں اور ان فلٹر پلانٹس سے گندے نالے کا پانی آنا شروع ہوچکا ہے جس کے باعث بدین کے مکین بدبودار پانی پینے پر مجبور ہوگئے ہیں گندا پانی پینے کی وجہ سے بڑوں اور بچوں میں مختلف قسم کے وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں پرائیوٹ اور گورنمنٹ کی ہسپتالیں ان مریضوں سے بھری پڑی ہیں اور ان ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کی وجہ سے صحیح سے علاج بھی نہیں ہو پاتا۔

بدین شہر کے مختلف علاقاجات بھٹائی کالونی، الیاس کالونی، عابد ٹاؤن، شہباز کالونی، اتفاق کالونی، محلہ صدیق کمہار، حیدر ٹاؤں، سیرانی روڈ، گولاڑچی روڈ، حیدرآبادروڈ، کھوسکی روڈ، کڈھن روڈ اور دیگر علاقوں میں فراہمی آب کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود پانی کی فراہمی کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں علائقہ مکین رحیم کھٹی، اشفاق کھوسو، اسحاق کمہار، ظفر سولنگی، اشفاق بلیدی، ستار شیخ، اشفاق میمن، نور حسن سولنگی اور دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ گذرشتہ دس دنوں سے شہری پینے کے پانی سے محروم ہیں مجبوراََ پیسوں سے پانی خرید رہے ہیں۔

دوسری جانب میونسپل ورکر یونین کی جانب سے ہڑتالیں کرانے اور کرپشن کے پیسوں پر لڑائی سے پورا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا ہے،شہر کے اندر 15دن سے صفائی نہیں کی گئی ہے اور بدین شہر کے تین لاکھ افراد گندگی کو اٹھانے کے لیئے میونسپل کمیٹی کی آفیس کے چکر کاٹ اور احتجاج کرکے تھک گئے ہیں پھر بھی اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا،کاغذی کاروایوں میں تقریاتی کام دکھا کر ٹھیکیداروں نے اپنے بل وصول کرلیئے ہیں جبکہ حقیقت میں میں کوئی بھی کام نہیں کیا گیا ہے۔

اس کرپشن میں ان اداروں کے سربراہ بھی ان ٹھیکیداروں سے ملے ہوئے ہیں،عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنی کرپشن ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی جو پچھلے سات برسوں میں عوامی حکومت کی دعوے دار حکومت نے کی ہے شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ شہر میں پانی کی قلت کو ختم کرکے شہر کے اندر گندگی ہٹائی جائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

Badin

Badin