پیپلز پارٹی فرانس کے زیراہتمام ذوالفقار علی بھٹو کی 37 ویں یوم شہادت کے موقع پر تقریب کا اہتمام

Zulfikar Ali Bhutto Anniversary

Zulfikar Ali Bhutto Anniversary

پیرس (نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے زیر اہتمام شہید جمہوریت قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کی 37 ویں یوم شہادت کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جسکی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے نائب صدر اور کو آرڈینیٹر یورپ چوہدری یوسف کامران گھمن نے کی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ایم اے صغیرنے ادا کئے تقریب کا باقاعدہ آغاز اللہ تعالی کے پاک نام سے کیا گیا تلاوت کلام پاک کی سعادت مصطفائی نے حاصل کی۔

حال میں حاضرین کاجوش دیدنی تھا حال میں مقررین کے خطاب کے دوران زندہ ہے بھٹو زندہ ہے جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا اور پاکستان پیپلز پارٹی زندہ باد کے نعروں سے حال گونجتا رہا سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کیجیالے کارکن رزاق ملک کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے اپنے پر جوش انداز میں کہا کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو اپنے حقوق کیلئے لڑنا سکھایا اور انہوں نے کہا کہ بھٹو ایک نہیں دو ہیں ایک بھٹو میں اوردوسرا بھٹو آپ میں ہے اور جب تک آپ کے حقوق نہیں ملتے اس وقت تک میں زندہ ہوں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم سب بھٹو کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا۔

اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے کلچر ونگ کے چئیرمین ملک اللہ یار نے اپنے خطاب کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ بھٹو شہید سے ہم عشق کی حد تک پیار کرتے ہیں اس وجہ یہ ہے کہ بھٹو شہید ہر ورکرز اور کارکن سے اپنے بیٹوں کی طرح پیار کرتے تھے اور ان کی یاداشت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں کو ان کے نام تک یاد ہوتے تھے اور ان سے کئے ہوئے وعہدے بھی یاد ہوتے تھے میں نے زمانہ طالب علمی سے بھٹو کے ساتھ کام کیا ہے ہم نے محترمہ بینظیہر بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ہے
پاکستان کمیونٹی کی ہر ال عزیز شخصیت چوہدری پرویز نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مزدورں کسانوں ہاریوں طالب علموں عورتوں کے حقوق کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھٹو ہر اس شخص کے دل میں زندہ ہے جو اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑ رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی فرانس کے میڈیا ایڈوائزر ایم اے صغیر نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا انہوں نے کہا کہ 1970کی دہائی میں یہ وہ وقت تھا کہ غریب آدمی خواہ وہ کتنا ہی عزت دار ہوتا تھا اس کو اپنے حقوق کیلئے آواز ااٹھانے کا حق نہیں تھا یہ بھٹو شہید ہی تھے جنہوں نے مزدور کسان طالب علم اور عورتوں کو اپنے حقوق کیلئے لڑنا سکھایا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہر آدمی اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنی آواز اٹھا رہا ہے بھٹو شہید نے ملک کو دفاعی طور پر ایک مضبوط ملک بنایا اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک بنایا جس کی وجہ سے آج پورے اسلامی ممالک میں جب کوئی مشکل آتی ہے تو ان سب کی نظریں پاکستان کی طرف ہوتی ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ملک میں ایسے لوگ صاحب اقتدار ہیں جن کو ان کا تدارک نہیں اگر آج ان حالات میں شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر جیسی قیادت موجود ہوتی تو آج پاکستان تمام مسلم ممالک کی قیادت کر رہا ہوتا یہی وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ ہے کہ پاکستان کو ان دو لیڈران سے مرحوم کر دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی فرانس آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد افضل نے جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد عوام ایک نڈر اور بہادر شخصٰت کا نام تھا انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے جھکنے کی بجائے شہید ہونا قبول کیا اور جام شہادت نوش کیا اور رہتی دنیا تک امر ہو گیا آج ڈکٹٰیٹڑ کا نام اس کی سیاسی اولاد بھی لینے کو تیار نہیں لیکن بھٹو شہید کی برسی ہر گھر میں منائی جارہی ہے۔

تقریب کے صدر کامران یوسف گھمن نے اپنے پرجوش خطاب میں حاضرین سے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کے نعرے لگواتے اورحاضرین کے جوش کو بڑھاتے رہے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ شہید بھٹو کا ویژن ہی تھا کہ تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور ان کو اپنے دنیا عالم میں ایک نئی شان سے جینے کا ہنر دیا یہ وہ ویژن تھا جس کی تصویر آج دوبئی میں نظر آ رہی ہے اور بھٹو شہید کو ضیا آمر نے شہید کر کے ہم کو ایک دور حاضر کے ایک عظیم دانشور سے مرحوم کر دیا اگر بھٹو شہید کی قیادت پاکستان کو اور دس سال مل جاتی تو پاکستان دنیا کے بڑے ملکوں کی صف میں شامل ہو چکا ہوتا۔

آج جو ہم دربد کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اپنے ملک میں موجود ہوتے ہم چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری اور کوچئیرمین جناب آصف علی زرداری کی قیادت میں متحد ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی فرانس اور یورپ میں پارٹی کو منظم کریں گے اور اس کیلئے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤں گا اور شہید بابا ذوالفقار علی بھٹو نے جو نظریہ اور پروگرام دیا ہے اس کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ہم پاکستان پیپلز پارٹی کو پیغام لے کر گھر گھر جائیں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو آئندہ انتخابات میں کامیاب کروائیں گے ہم نہ جھکنے والے ہیں نہ بکنے والیں ہیں اور ہمار ی پیپلز پارٹی کے ساتھ عقیدت کسی قسم کے مفاد کی خاطر نہیں ہم بے لوث خدمت کے جبے سے سر شعار ہیں انہوں شہید بھو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو ایک فلسفے کا نام میں اور ہم اس فلس فے پر عمل پیرا ہیں اور اس کیلئے اپنا تن من دھن تک قربان کرنے کیلئے قیادت کے ساتھ ہیں پروگرام آخر میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہیدا جمہویت کیلئے دعا ئے مغفرت کروائی گئی۔