چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کے ناموں کی منظوری

Election Commission

Election Commission

اسلام آباد (جیوڈیسک) پاکستان کی پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کے ناموں پر اتفاق ہوا۔

الیکشن کمیشن کے نئے ارکان میں میں سے تین ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ جج ہیں جبکہ ایک کا تعلق ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ یعنی (ڈی ایم جی) سے ہے۔ ان میں صوبہ پنجاب سے جسٹس الطاف ابراہیم قریشی، صوبہ خیبر پختونخوا سے خاتون جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر، بلوچستان سے جسٹس ریٹائرڈ شکیل بلوچ اور سندھ سے عبدالغفار سومرو شامل ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ شکیل بلوچ نے چند دن پہلے ہی بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

جسٹس (ر) ارشاد قیصر کی بطور رکن الیکشن کمیشن تقرری کے نتیجے میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان کے الیکشن کمیشن میں کوئی خاتون بطور صوبائی الیکشن کمشنر کام کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کے ناموں پر جہاں سندھ اور بلوچستان کے الیکشن کمشنرز پر تمام جماعتوں میں اتفاق نظر آیا وہیں پاکستان تحریکِ انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنرز کے لیے ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کی طرف سے پنجاب کے لیے طارق محمود کھوسہ اور خیبر پختونخوا کے لیے فصیح الملک کے نام دیے گئے تھے لیکن ان ناموں کو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔

حزب مخالف کی ایک اور جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ان ناموں پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس جماعت کے رکن داؤد اچکزئی کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف نے اس بارے میں اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا جس پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس کا گلہ وہ قائد حزب اختلاف سے کریں۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’اے این پی نے اپنی رائے سے دینے سے اجتناب کیا ہے اور اس کا تعلق حزب اختلاب کے اندرونی معاملات سے ہی ہے اس لیے میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ اور اسی طرح پاکستان تحریک انصاف نے دو ناموں پر اپنا ووٹ نہ حق میں نہ محالفت میں دیا۔ شیریں مزاری کا موقف ہے کہ ان ناموں پر ان سے مشاورت نہیں کی گی۔‘

ان چاروں ناموں کی منظوری کا نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد یہ ارکان اپنے عہدوں کا حلف لیں گے اور ان کے عہدے کی میعاد پانچ برس ہوگی۔ خیال رہے کہ چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کی مدتِ ملازمت پوری ہونے کے بعد یہ عہدے خالی تھے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن غیر فعال ہوگیا تھا اور بہت سی اہم درخواستوں کی سماعت نہیں ہو پا رہی تھی۔

ان درخواستوں میں پاناما لیکس میں وزیر اعظم کا نام آنے کے بعد اُنھیں نااہل قرار دینے اور پاکستان تحریک انصاف کے فنڈز سے متعلق درخواستیں بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نامکمل ہونے کی وجہ سے متعدد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی نہیں ہو سکے تھے۔