نسلی تعصب یورپی یونین کے بنیادی اصولوں کے لئے خطرہ ہے، سجاد کریم

Sajjad H Karim MEP

Sajjad H Karim MEP

نیلسن: نسلی تعصب یورپی یونین کے بنیادی اصولوں کے لئے خطرہ ہے اسلامو فوبیا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے ہمیں سنجیدگی سے لینا ہوگااینٹی سیمیٹزم اور نسلی تعصب دونوںیورپ کے مستقبل کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔

جمہوریت ،انسانی حقوق کی پاسداری اورقانون کی عملداری جیسے جن اصولوں پریورپ کے بنیاد رکھی گئی تھی یہ ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے کمشنر فار بیٹر ریگو لیشن، انٹر انسٹیٹیوشنل ریلیشنز،رولز آف لاء اینڈ دی چارٹر آف فنڈامنٹل رائٹس جیسی متعدد تنظیموں نے یورپی یونین کمشنر فار جسٹس، کنسیومر اینڈجینڈر ایکو الٹی کے اشتراک سے ایک سالانہ غیر ادبی مباحثے کا اہتمام کیا ہے۔

اینٹی سیمٹک اور اینٹی مسلم و نفرت جیسے مرکزی نکات رواں ہفتے ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آئیں گے۔ یورپی پارلیمنٹ میں(اینٹی ریس ازم اینڈ ڈائورسٹی انٹر گروپ ) اے آر ڈی آئی کے نائب صدر اور اسی فورم کے ‘اسلام فوبیا ورکنگ گروپ ‘ کے چئیر مین نارتھ ویسٹ سے رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے ‘دی پارلیمنٹ ‘ نامی میگزین ( مطبوعہ 2 اکتوبر)میں اسی حوالے سے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اسلامو فوبیاکئی صورتوں میں سامنے آتا ہے اس کا ارتکاب ریاست بھی کرتی ہے۔

غیر ریاستی کردار بھی یا دونوں طاقتیں بیک وقت اس امر کی مرتکب ہو تی ہیں مسلمان عموماًاپنے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ضابطوں اور پالیسیوں کا ہدف ہوتے ہیں با ایں وجہ اکثر پولیس اور قومی حفاظتی اداروں کی فہرستوں میں اندراج کے مکلف قرار پاتے ہیں انہوں نے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف برھتی ہوئی نفرت اور اس ضمن میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا اور تشددکی تشویش کو اجاگر کرتے ہوئے مثال دی کہ بلجیم میں2011 کے بعدایسے واقعات میں 94% اضافہ ہؤا ہے انہوں نے فرانس 2013 میںہونے والے ایک اندوہناک واقعے کی مثال بھی دی کہ پیرس میں ایک حاملہ مسلمان خاتون کو حجاب پہننے پر اس قدر سر عام زد و کوب کیا گیا کہ حمل تک ضائع ہو گیااور یہ مثال براعظم یورپ کو پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بحثیت نائب صدر اے آر ڈی آئی اور چئیر مین ا ے آر ڈی آئی اسلاموفوبیا گروپ یورپی کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ اسلاموفوبیا سے نمٹنے کی خاطراہداف کی ترجیح مقرر کرے اس مضمون میں انہوں نے سیاسی راہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کو اسلامو فوبیا کے خلاف اپنا مؤثر کردار ادا کرنے پربھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی بیس سالہ عوامی زندگی میں متعدد بار مشاہدہ کیا کہ میڈیا اکثریتی مسلمانوں کا نکتہ نظر پیش کرنے کے بجائے اقلیتی انتہاپسند نفرت آمیزنظریات کو سامنے لاتا ہے جبکہ میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے کیونکہ ان کی نشریات رویوں کے بگاڑ سنوار کی ذمہ دار ہیں مسلمانوں کے حوالے سے مثبت سوچ بیدار کرنا ہی اس مسئلہ کا حل ہے وگرنہ جن اصولوں پر (متحدہ) یورپ کی بنیادرکھی گئی تھی وہ ہم کھو بیٹھیں گے۔

ہونے والے مذکورہ غیر ادبی مذاکرے کے حوالے سے انہوں نے کہا یہی وقت ہے کہ اسلامو فوبیا کوانتہائی اہم مسئلہ سمجھتے ہوئے فوری انسداد ی اقدامات کرنابے حد ضروری ہے سارے یورپ میں مسلمان دشنام طرازی اور جسمانی تشدد کا شکار ہو چکے ہیں اس لئے اسلامو فوبیا جیسے اہم مسئلہ کو منتظمین کی جانب سے اس مباحثے میں شامل کرنے پر انہیں خوشی ہوئی ہے۔