نیند توآئی مگر خواب کے تحفے نہ ملے

۔۔۔۔۔۔ اِس انسانی جوڑے نے جب زمین پر قدم رکھا تو دیکھا کہ یہاں انسانی زندگی کی نشوونما اور اس کی بقا کا ہر سامان موجود ہے۔ انسانی ضروریات کے تمام تر خزانوں سے دامانِ ارضی کومالا مال کر دیا گیا ہے۔ پہاڑوں کے بطن میں معدنیات اور Minerals کے خزانے محفوظ کر دیے گیے ہیں۔ زمین کے بطن میں پٹرول اور گیس کے سمندر کے سمندر اسٹور کر کے رکھے گیے ہیں۔ پہاڑوں کے نشیب و فراز پر عمارتی لکڑیوں کے جنگلات کے وسیع تر سلسلے پھیلا دیے گیے ہیں۔
فلک بوس پہاڑوں کی دشوار گزار گھاٹیوں میں حضرتِ انسان کی نقل و حرکت کو سہل ترین بنا دیا گیا ہے۔ کہساروں کے دامن میں آنکھوں کو خیرہ کردینے والی ہری بھری سپاٹ وادیاں بچھی ہیں، جہاں وہ اپنے سنگ ہائے میل نصب کر سکتا ہے، کہستانی نعمتوں سے متمتع ہو سکتا ہے۔
اِس دشوار گزار راستوں پر سفر کے لیے تیز رفتار گھوڑے اور بار برداری کے لیے خچر اور گدھے، ہاتھی اور اونٹ موجود ہیں۔ پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ صرف زمین پر دریا ں کا ایک جال بچھا ہے بلکہ زیر زمیں پانی کی نہریں بھی بہا دی گئی ہیں۔ پھر اسی زمین پر بے پناہ وسعت رکھنے والے سمندروں کے کھارے پانی میں نمک جیسی ایک سہل الحصول لا زوال دولت بھی موجود ہے، جس کے بغیر غذاں میں حقیقی لذت پیدا نہیں ہوتی۔
انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ زمین پر سے انہیں ایک آسمان نظر آرہا ہے، جہاں ستاروں کی ایک خوبصورت انجمن سجی ہوئی ہے۔ شب ہوتی ہے تو یہ ستارے اپنی محفل سجاتے ہیں، پھر خوبصورت سا چاند نمودار ہوتا ہے، صبح ہوتی ہے تو چمکدار سورج اپنی بنفشئی شعاعوں سے سارے عالم کو منور کردیتا ہے۔
پھر یہاں بادل اٹھتے ہیں، ہوائیں چلتی ہیں، بادلوں میں بجلی لپکتی ہے، دفعتا بوندا باندی شروع ہو جاتی ہے، پھر زمین پر جل تھل کر دینے والی ایک زور کی بارش برستی ہے۔ صاف و شفاف پانی کے کل کل کرتے ہوئے دھارے بہہ نکلتے ہیں۔ ندیاں، جھیل، آبشار اور تالاب بھر جاتے ہیں۔ آکسیجن سے بھرپور صاف و شفاف فضائیں ، دل پذیر سبز لباس میں ملبوس نباتات کے سلسلے ، نت نئے رنگوں کے پھولوں سے معمور لہلہاتے ہوئے باغات ، لذیذ پھلوں کے بوجھ سے جھکی جھکی ٹہنیاں اور نہ جانے کیا کیا۔
دن کے اختتام پر جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو تاریکی کر ارض کو اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے۔ یہ تاریکی خود بھی ایک نعمت بن کر انسانوں کی خدمت کے لیے حاضر ہو جاتی ہے۔ رات دھیرے دھیرے جب اپنے پر پھیلاتی جاتی ہے تو گویا کسی چادر کی طرح ہمارے لیے لباس بن جاتی ہے۔
سورج غروب نہ ہوتا تو شاید ہماری دن بھر کی تھکن ہمیں زندہ رہنے کے قابل نہ رکھتی۔ لیکن انسانوں کے اِن قدرتی خادموں میں اتنی جرات کہاں کہ وہ " فردوسی مخلوق" کے لیے کسی قسم کے مسائل کھڑے کریں۔
ما بعد غروب آفتاب دن بھر کی ہماری تھکن، سورج کی توانائی کو اپنے بدن پر جھیل لینے کے بعد راحت و سکون کا ایک ایسا ماحول بنا دیتی ہے کہ ایک عجیب کیفیت سے ہمارا سامنا ہوتا ہے
اور یہ کیفیت ہے" نیند"کی ۔۔۔۔
جو ایک عظیم نعمت بن کر ہمارے سراپا پر چھا جاتی ہے۔
دلفریب لذت کی حامل نیند کی یہی کیفیت ہے جو ہمیں اپنے بازوں میں سمیٹ لیتی ہے اور دنیا و ما فیہا سے بے خبر کر دیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں دل و دماغ سے نکلنے والے سگنلس جسمانی وحیاتیاتی اعضا کو یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ نیند کے ذریعے تم اپنی کھوئی ہوئی انرجی دوبارہ حاصل کرلو اور جوں ہی تمہاری بیٹری ریچارج ہو جائے تو تم دیکھو گے کہ صبح نمودار ہوتے ہوتے تم اپنی توانائی کو دوبارہ مجتمع کر چکے ہو۔
اٹہترویں سور کی نویں، دسویں اور گیارہویں آیتوں میں فرمایا گیا ہے:
(انسانو۔۔۔ ۔۔۔!) تمہاری نیند کو ہم نے تمہارے لئے سکون کا ذریعہ بنایا، ( تاکہ تم اپنی کھوئی ہوئی انرجی کو ری-اسٹورکرسکو ) اور( اِسی طرح) ہم نے رات کو بھی (مانندِ) لباس بنایا(تاکہ یہ تمہیں ڈھانپ لے)، نیز ہم نے دن کو( حصولِ ) معاش کے لیے(دوڑ دھوپ کرنے کا ذریعہ) بنایا۔" (سور النبا(
... مزید خبریں
- کراچی : ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں2 افراد جاں بحق
- امریکا: سان فرانسسکو ایئرپورٹ کے قریب دھماکا
- روس : جنوبی شہر کی مارکیٹ میں دھماکے،5 افراد ہلاک
- واشنگٹن : امریکی صدر اور انکی اہلیہ کی مسلمانوں کو عید کی مبارکباد
- لاہور : تمام چیزیں میڈیا میں نہیں لا سکتے۔ اعجاز بٹ
























































