اللہ کا ذکر اور اس کی فضیلت
جو میں جانتا ہوں ، وہ تم نہیں جانتے میں اس مخلوق کے ساتھ ایک نفس اور اس کے سر پر شیطان مسلط کر رہا ہوں ، شہوتیں اس کے ساتھ رہیں گی ضرورتیں اس کا پیچھا کریں گی ان سب کی موجودگی میں یہ دنیا کی کثرت سے توجہ ہٹانے والی چیزوں کے باوجود میرے ذکر سے نہیں ہٹے گا اس کی تخلیق ایک آزمائش کے لئے ہے جب اس کا نفس اسے غافل کرے گا تو میں ہدایت کا پیغام اسے پہنچائو ں گا جب یہ سرکشی کا شکار ہونے کے بعد معافی کا طلبگار ہو گا میں اسے معاف کرتا رہوں گا
مسلمان چاہتاہے کہ اس کا رب اس کے گناہوں کو معاف فرما کر اس سے کسی غلطی کا مواخذہ نہ کرے انسان کی تخلیق کے وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھا میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوںاس پر فر شتوں نے کہا باری تعالیٰ !آپ کی حمدوثناءمیں ہم پوری تند ہی سے مصروف ہیں ۔ اب کیا ضرورت ہے کہ آپ اس کی خلافت کا ارادہ کئے ہوئے ہیں ؟
رب ذوالجلال نے فرمایا جو میں جانتا ہوں ، وہ تم نہیں جانتے میں اس مخلوق کے ساتھ ایک نفس اور اس کے سر پر شیطان مسلط کر رہا ہوں ، شہوتیں اس کے ساتھ رہیں گی ضرورتیں اس کا پیچھا کریں گی ان سب کی موجودگی میں یہ دنیا کی کثرت سے توجہ ہٹانے والی چیزوں کے باوجود میرے ذکر سے نہیں ہٹے گا اس کی تخلیق ایک آزمائش کے لئے ہے جب اس کا نفس اسے غافل کرے گا تو میں ہدایت کا پیغام اسے پہنچائو ں گا جب یہ سرکشی کا شکار ہونے کے بعد معافی کا طلبگار ہو گا میں اسے معاف کرتا رہوں گا
اسی لئے ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس کا رب اس کے گناہ معاف فرما دے گا ۔ انسان کے برعکس فرشتوں کی تخلیق میں ان کی عبادت کے لئے رغبت رکھی گئی ہے وہ تمام بشری کمزوریو ں سے پاک ہیں وہ ہر دم اپنی سرشت پر قائم ہیں اور صرف عبادت ہی کرتے ہیں ۔
اور جو فرشتے اس ہیں ، وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سر تابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں ، شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں دم نہیں لیتے
اللہ نے اپنے پیغام میں قرآن کے ذریعے بار بار یاد دہانی کرائی بندے کو اپنے آقا کی تعریف و تو صیف کے لئے دو طرح کے عمل کرنے ہوتے ہیں ۔ ایک تسبیح و حمد ہے جس کا ذکر بار بار نماز کی صورت میں ہوا اور وہ فرئض میں شامل کی گئی ، دوسری حمد و تو صیف زائد از نماز ہے ۔ نماز کے احکامات اس طرح ہیں ۔
نماز قائم کرو ، آفتاب ڈھلے کے بعد سے رات کی تاریکی تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ کی کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو ۔
اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو گویا جہاں جہاں تسبیح و حمد کو اوقات کے ساتھ بیان کیا گیا ، اس سے مراد نماز ہی ہے اور نماز افضل ترین ذکر ہے تہجد کی نماز کا بھی حکم جاری ہوا ۔
ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اوراپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں تکبر نہیں کرتے ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں -پھر حکم ہوا
اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو -
اور ان لوگوں کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں
انسان کی تخلیق کا مقصد محض یہی تھا کہ وہ اپنے مالک کی تسبیح و حمد میں ہمہ وقت مصروف رہے کیونکہ ایک دن سب انسان اس کے حضور دوبارہ زندہ کئے جانے والے ہیں اور انہیں دنیا میں اپنے ہرکا جواب دینا
ہو گا اس لئے لازم ٹھہرا کہ نماز سے ہٹ کر بھی وہ غفلت کے پردے میں نہ پڑیں بلکہ ان کی زبانیں اپنے ملک کے ذکر سے تر ہوں دراصل انسان کے اخلاق و اعمال میں فساد کا سبب اس کی یادداشت ہے وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے اسے دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے اسے اس زندگی اور اپنے اعمال کا حساب مالک کے حضور دینا ہو گا ۔ اس لئے نماز اور ذکر کی بار بار یاد دہانی کرائی گئی ۔
رسول اکرم سے جب یہ پو چھا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے تو آپنے فر مایا جب تیری موت آئے تو تیری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو مقربین تووہ ہیں جو خواہ کھڑے ہوں یا لیٹے اپنے رب کا ذکر کرتے رہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اس پر غور کرتے رہیں اور عرض کریں کہ اے ہمارے مالک ! تو نے یہ سب کچھ بے فائدہ تو تخلیق نہیں کیا ؟ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں تو ہمیں آپ کے عذاب سے دور کر دے ۔
حکم ہوا ہے پس اے نبی اپنے عظیم رب کے نام کو تسبیح کرو ( سورہ واقعہ ) حکم ربی ہے اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو
اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے
فلاح کے حصول کے لئے مالک کا کثرت سے ذکر کرنا لازمی ہے ، حدےث میں یہ بیان ہوا کہ اللہ ذکر جہاد ،صدقات اور خیرات سب سے افضل ہے ۔
اللہ ہی کے واسطے ہیں ، اچھے اچھے نام پس ان کے ساتھ اللہ کو پکارو -
نبی کریم کو حکم ہوا اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کیا کیجئے
گویا اللہ کو یاد کرنا اور کثرت سے یاد کرنا ، افضل ترےن کام ہے ۔ بخشش اور آسانی کے دروازے اسی پکار اور ذکر سے کھلتے ہیں اسی پر ہدایت جاری کی جاتی ہے ۔ اسی سے رزق کا دروازہ کھلتا ہے ۔ اسی کے ذریعہ عافیت عطا کی جاتی ہے اسی سے آخرت کا امتحان آسان کر کے جنت میں داخل کیا جاتا ہے اسی سے خداکی شنا سائی کا دروازہ کھلتا ہے اللہ کو بکثرت یاد کرنے کا مطلب یہی ہے کہ آدمی کی زبان ہر وقت اور ہر معاملے میں اس کا نام شامل رکھے اسی کی طرف رجوع کرہے اسی بناءپر وہ مالک کی رحمت کا طلب گار ہو گا برائی پر خوفزدہ ہو گا اور کو تاہی پر معافی کا طلب گار ہو گا یہی وہ عبادت ہے جو ہر وقت جاری رہنے والی ہے تسبیح کے ساتھ حمد اسی بات کی دلیل ہے کہ ہمارا خالق و مالک تمام عیوب سے پاک ہے وہ تمام تر کمالات اور طاقت کا منبع ہے وہ اس کائنات کا واحد صانع و منظّم ہے جس پر تمام کمالات ختم ہو گئے ہیں وہ اکیلا ہی تعریف کے لائق ہے حمد کا مطلب ہے تعریف و ثنا بیان کرنا ہے اور تسبیح سے مراد ہے اپنے رب کو ہر اعتبار سے پاک قرار دینا ۔
مالک کی ثناءصرف فرشتے اور انسان نہیں کرتے بلکہ خالق کے حکم پر اس کائنات کی تمام مخلوقات و اجسام ہمہ وقت رب کی حمدو ثناءمیں مشغول ہیں جس کا ثبوت قرآنی آیات ہیں ۔ سورہ نور میں بیان ہوا ، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑرہے ہیں ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے ۔
گویا یہ اعلان ہے کہ مظاہر قدرت تو ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں اور خالق کی حمدو ثناءمیں مصروف ہیں لیکن غفلت کا شکار صرف انسان ہی ہے اسی کو بار بار دکھایا اور سمجھایا جاتا ہے ۔
بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ فرمایا کہ مظاہر میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ، وہ بے عیب ذات اپنی حکمت اور صناعی میں لا
شریک ہے انسان جانوروںکی طرح بادلوں کی گرج کو سنتا ہے لیکن وہ اعلان توحید نہیں سنتا ۔
ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے ۔ اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے ۔
پہاڑوں کو ہم نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ تسبیح دہرائوں اور یہی حکم پرندوں کو دیا -
دائود کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا ، جو تسبیح کرتے تھے اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز یں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں ، کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو ۔
انسان اگر نماز قائم رکھے اور اس کی زبان ذکر کرتی رہے تو رحمت الہٰی اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے اس کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ذکر کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے مالک کی بزرگی اور جلال کو جان کی عاجزی اختیار کرے اپنے رب کی عظمت اور اپنی خاکساری کو خوش بینی سے ادا کرے عجز کی حالت میں اپنے اعضاءکو حالت کے مطابق انداب کی صورت میں ڈھال لے ۔
ذکر ،اللہ تعالیٰ کی تمام عبادات کا خلاصہ ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں آسمان والے ا ہل زمین کے ان گھروں کو جن میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر ہوتا ہے ستاروں کی طرح ( چمکدار ) دیکھتے ہیں نبی کر یم نے فرمایا سب سے پہلے جنت میں وہ لوگ بلائے جائیں گے جو مصیبت و آرام کے وقت اللہ کی حمد کرتے تھے آپ نے فرمایا اللہ کا ذکر ایسی کثر سے کرو کہ لوگ مجنون کہنے لگیں ۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے اللہ کے زکر سے بڑھ کر کسی آدمی کا کوئی عمل عذاب قبر سے ذیادہ نجات دینے والا نہیں ۔
جب حضور اکرم سے پوچھا گیا کہ کوئی ایسی چیز بتا دیجئے جسے مشغلہ اور دستور بنا لیا جائے تو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ کے ذکر سے تو ہر وقت رطب اللسان رہے ۔
حضور کا ایک اور ارشاد ہے جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ہے ، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے ، ذکر کرنے والا زندہ ہے اور نہ کرنے والا مردہ ۔























































