سوال۔ :: نماز کے چیدہ چیدہ مسائل

تاریخ اشاعت - 2008-01-03
  • Agrandir la taille de police
  • Réduire la taille de police
  • Imprimer l'article
 

یہ مضمون تربیت اطفال کے اسلامی اصول سے لیا گیا ہے جسکے مصنف محمد جمیل زینو المدرس جی دارالحدیث الخریة بمکة المکرمة ہیں۔اور اسکے مترجم حافظ خالد حیات محمود پروفیسر انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، پاکستان ہیں۔

( 1 )فرض نماز کی ادائیگی سے قبل جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں۔ ان کو ''السنہ القبیلة'' کہتے ہیں اور ''السنة البعدیة'' سے مراد وہ سنتیں ہیں جو فرض نماز کے بعد ادا کی جاتی ہیں۔
( 2 )نہایت سکون و اطمینان سے نماز ادا کریں، اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے اپنے سجدہ کی جگہ پر نگاہ جمائے رکھیں۔
(3)جب آپ امام کی قرات کو سن رہے ہوں تو اس وقت آپ کو خاموشی اختیار کیے رکھنی چاہیے اور اگر امام کی قرات کو آپ سن نہ پا رہے ہوں تو اس صورت میں آپ کو قرات کرنا ہو گی۔
( 4 )جمعہ کی نماز کے فرض دو رکعت ہیں جو کہ مسجد میں خطبہ کے بعد ہی ادا کیا جاتے ہے۔
(5 )مغرب کی نماز کے فرض تین رکعت ہیں۔ پہلی دو رکعت تو آپ نماز فجر کی دونوں رکعتوں کی طرح ادا کرینگے، البتہ جب آپ سارا ''التحیات'' یعنی تشہد(و رسولہ تک ) پڑھ لیں تو سلام پھیرنے کی بجائے کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے تکبیر کہہ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اس رکعت میں صرف سورت فاتحہ کے پڑھنے پر ہی اکتفا کریں۔ اس کے بعد فجر کی نماز کی طرح اپنی اس نماز کو مکمل کر کے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیر دیں۔
( 6)ظہر، عصر اور عشاء کی نمازوں میں سے ہر نماز کے فرض کی تعداد چار چار رکعتیں ہیں۔ پہلی دو رکعت فجر کی دونوں سجدوں کے بعد چوتھی رکعت کے لیے پھر اٹھ کھڑے ہوں۔ ان دونوں رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ ہی پڑھیں اور پھر بقیہ نماز کو سلام پھیرنے تک بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق مکمل کریں۔
( 7)وتر کی نماز تین رکعتوں پر مشتمل ہے اس کو ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے دو رکعت نماز ادا کریں۔ سلام پھیرنے کے بعد فوراً اٹھ کر ایک رکعت علیحدٰہ سے ادا کر کے اس تیسری رکعت کی سلام پھیر دیں۔
( 8)اگر آپ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے لگیں تو کھڑے ہو کر تکبیر کہیں پھر امام جس حالت میں بھی ہو اس کیساتھ مل جائیں۔ چاہے وہ رکوع کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور ( اس رکعت کو شمار کر لو بشرطیکہ تم امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پیشتر رکوع میں مل جائو اور اگر امام تمہارے رکوع میں جانے سے پہلے رکوع سے سر اٹھا لے تو پھر اس رکعت کو شمار نہ کرو، اس کے بعد امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے چلے جائیں۔
( 9 )اگر آپ امام کیساتھ ایسی حالت میں ملے ہیں کہ آپ کی ایک رکعت یا اس سے کم و بیش نماز امام کیساتھ ادا کرنے سے رہ گئی ہے تو ایسی صورت میں آپ امام کی اقتداء میں وہ نماز ادا کر لیں۔ جو امام نے بھی ادا کرنی ہے لیکن جب امام سلام پھیرے تو اس کیساتھ سلام پھیرنے کی بجائے کھڑے ہو جائیں اور بقیہ نماز کی تکمیل کر لیں۔
( 10)نماز کو جلدی جلدی ادا کرنے سے احتراز کریں اس لیے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو جلدی جلدی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس سے ارشاد فرمایا کہ''یعنی تو نے جو پہلے نماز پڑھی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں لہٰذا واپس جائو اور دوبارہ نماز ادا کرو، (دوسری مرتبہ بھی اس نے اسی طرح نماز پڑھی تو اس کو پھر نماز دہرانے کا حکم دیا گیا، پھر تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا تو) آخر کار تیسری دفعہ اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نماز پڑھنا سکھلا دیجیے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا کہ ''یعنی آپ پورے اطمینان کیساتھ رکوع کریں، پھر رکوع سے اٹھ کر بالکل سیدھے کھڑے ہو جائیں۔ پھر پورے اطمینان سے سجدہ کریں، پھر سجدہ سے اٹھیں اور مکمل اطمینان و سکون کیساتھ بیٹھ جائیں۔
( 11)اگر نماز ادا کرتے ہوئے بھول چوک میں آپ سے اس کا کوئی واجب چھوٹ جاتا ہے، مثال کے طور پر آپ پہلا تشہد''التحیات'' بھول جاتے ہیں یا پڑھی ہوئی رکعتوں میں آپ کو کمی و بیشی کا شک گزرتا ہے تو اس صورت میں آپ کی کمی والے پہلو کو سامنے رکھ کر نماز کی تکمیل کریں اور تشہد کے آخر میں دو سجدے کر کے سلام پھیر دیں۔ آخر میں ادا کیے جانے والے سجدوں کو ''سجدہ سہو'' کہا جاتا ہے۔
( 12)نماز کی ادائیگی کے دوران بے جا حرکتوں سے اجتناب کریں اس لیے کہ اس سے نماز کا خشوع و خضوع ختم ہو جاتا ہے اور اگر نماز میں اس قسم کی فضول حرکتیں کثرت سے کی جائیں تو اس سے نماز کے فاسد و باطل ہو جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

 

... تازہ ترین

Today BACK NEXT