معروف شاعرہ فاخرہ بتول سے ملاقات

Fakhira Batool

Fakhira Batool

تحریر : شاہد لطیف
پاکستان میں اردو شاعری میں خواتین کی کنٹریبیوشن سے انکارممکن نہیں۔ادا جعفری،شبنم شکیل،کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر کے بعد اس خلا کوایک ہی شاعرہ ہے جوپورا کرتی ہے۔غزل اور نظم میںاس شاعرہ کا اپنا ہی انداز ہے۔قاری صرف کلام دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ یہ کلام فاخرہ بتول کا ہے۔فاخرہ بتول ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کے نانا سید امیر احمد شاہ بخاری پنجابی پوٹھوہاری زبان کے قادر الکلام شاعر تھے۔دادا سیّد یوسف علی نقوی دینی سکالر تھے۔چھوٹی بہن کرن رباب نقوی اردو کی خوبصورت شاعرہ ہیں جنکے 2 شعری مجموعے داد وصول کر چکے ہیں۔

فاخرہ بتول نے کالم نگاری میں بھی اپنامنفرد سٹائل برقرار رکھا اور2 سال تک ان کا کالم ”سرگوشی”روزنامہ نوائے وقت میں چھپتا رہا، س۔کہتے ہیں آپکی نظمیں چلتی پھرتی کہانیاں ہیں آپ کیا کہتی ہیں؟ ج۔میں عام طور پر غزل کے علاوہ پابند نظمیں اور آزادنظمیں بہت سہولت سے کہتی ہوں۔ اور نظم ہوتی ہی وہ ہے جو قاری کے ساتھ اپنا رشتہ اتنا مضبوط کر لے کہ نظم جب تک اختتام تک نہ پہنچے قاری اس کو پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔میری نظموں میں آپ کو اکتاہٹ کی فضا نہیں ملے گی، اور نہ ہی اتنا ابہام ملے گا کہ قاری سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ نظم ختم ہو گئی لیکن میسج(Message)کنوے (Convey) نہیں ہو پایا۔

س۔ کیا غزل کی جگہ نظم لے سکتی ہے؟
ج۔ادب میں غزل کا وہی مقام ہے جو کسی بھی عمارت میں بنیادکا یا جسم میں دل کا۔۔۔۔۔لہٰذا غزل کی نفی ہرگز نہیں کی جا سکتی اور سچ تو یہ ہے جو شاعر غزل نہیں کہہ سکتے وہ اچھی نظم کبھی بھی نہیں کہہ سکتے۔
اچھانظم گو غزل کی روایت سے انحراف نہیں کر سکتا۔
س۔”کہو وہ چاند کیسا تھا”مکالماتی شاعری میں کسی خاتون کی پہلی کتاب ہے یعنی مکالماتی شاعری میںآپ پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ ہیں۔یہ ریکارڈ بنانے کا خیال کیسے آیا؟
ج۔اردو غزل میں عدیم ہاشمی پہلے صاحبِ دیوان شاعر ہیں۔اور خواتین شاعرات میں یہ کریڈٹ الحمداللہ میرے پاس ہے۔کہو وہ چاند کیسا تھا؟میں نا صرف مکالماتی غزلیں ہیںبلکہ مکالماتی نظمیں بھی ہیں۔اور یہ سب ریکارڈ بنانے کیلئے نہیں کیا بس مولا پاک کی عطا ہے۔مکالماتی شاعری پر کچھ لوگوں نے اعتراض بھی کیاکہ یہ کیسا تجربہ ہے۔لیکن ادب میں تجربہ کوئی گناہ نہیں۔ مکالماتی غزل میں بھی ایک مخصوص بحر،مطلع،مقطع،قافیہ اور ردیف سے کام لیا جاتا ہے اور اس سے روایتی غزل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لہٰذا تنقید برائے تنقید سے اجتناب کرنا چاہئے۔

Writing

Writing

س۔ بچوں کے ادب پر ہمارے ہاں بہت کم لکھا جا تا ہے آپ کی بچوں کے ادب پر نظموں کی کتاب”بچے سارے سچے”آئی جو ایک خوشگوار جھو نکا ہے، کیسے خیال آیا؟
ج۔میں خود بھی ماں ہوں الحمداللہ اس لئے میں نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیاکہ مجھے بچوں کیلئے لکھنا چاہئیے۔اس کتاب میں شامل نظموں میں بچوں کو ایجوکیٹ کیا گیا ہے بچے منظوم باتیں جلدی یاد کر لیتے ہیں اور دیر تک نہیں بھو لتے۔اینجویز(NGO’s) نے پنجاب کے سکولوں میں سلیبس (Syllabus) میںمیری کتاب شامل کر لی ہے اور اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی ختم ہو چکا ہے۔
س۔ آپ کی مزاحیہ شاعری پر مبنی کتاب ”شر عادیتں”شائع ہوئی جس کے کئی ایڈیشن مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔آپ پہلی مزاح گو صاحبِ دیوان شاعرہ بھی ہیں۔شاعرات مزاح لکھتی رہی ہیں لیکن سب سے پہلا شعری مجموعہ آپ کا ہے یہ اعزاز کیسا لگا؟
ج۔اس کے لئے میںاللہ پاک کا شکر ادا کرتی ہوں میرے شوہر تنویر عباس نقوی نے مجھے کہا کہ یہ کتاب پرنٹ کرنی ہے تاکہ یہ ریکارڈ میری بیگم کے پاس رہے اور اس مجموعے میں اردوپنجابی طنزو مزاح پر مبنی کلام ہے جو لوگوں نے خاصہ پسند کیا یہ بھی اللہ پاک کا مجھ پر کرم ہے۔

س۔ شاعر حساس ہوتے ہیں اس لئے دل پر چوٹ لگتی ہے تو شعر کہتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے؟
ج۔صرف شاعر؟؟؟میرے خیال میں تو حساس ہونے کیلئے انسان ہونا شرط ہے۔
س۔ پہلا شعر اور پہلی محبت؟؟
ج۔کس کا پہلا شعر اور کس کی پہلی محبت؟؟ پہلا شعر یاد نہیںاور محبت تو ہوتی ہی پہلی ہے اور اس کو آخری بھی کہا جا سکتا ہے،میرا ایک پرانا شعر ہے
ہونی ہے تو اِک بار ہی ہو جائے محبت
یہ بھول ہے ایسی کہ دوبارہ نہیں کرتے

س۔ کہتے ہیں کہ شاعر کو داد نہ ملے تو خفا ہو جاتا ہے؟
ج ۔شاعر ہی کیوں؟؟فنکار کوئی بھی ہو اگر اس کے کام پر اسکی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو وہ ہرٹ ہوتا ہے،ہاں کچھ لوگ ذود رنج زیادہ ہوتے ہیں اور خفا ہو جاتے ہیں، کچھ ضبط کر لیتے ہیں اور اظہار نہیں کرتے لیکن دکھ سب کو ہوتا ہے۔
س۔ اچھوتا خیال کیسے آتا ہے؟
ج۔شاعری جذبات کا اظہار ہے۔دکھ سکھ زندگی کی وہ حقیقتیں ہیں جن سے انکار ممکن نہیں،اچھوتا خیال کسی لمحے بھی بارش کی بوندوں کی طرح ٹپک پڑتا ہے اور اس کو دعوت دے کر نہیں بلایا جا سکتا یہ وہ بِن بلایا مہمان ہے جس کی آمد پر میزبان کو خوشی ہوتی ہے۔
س۔وہ شعر جو آپ کی پہچان بنا؟؟
ج۔ میں نے سمجھا تھا سمندر تم کو
تھا ،کا مطلب تمہیں آتا ہو گا؟

Fakhira Batool Poetry

Fakhira Batool Poetry

س۔ اب آتے ہیں آپکو ملنے والے 2 ادبی انٹرنیشنل ایوارڈز کی طرف جن میں سے ایک گورنمنٹ آف چائنا(IPTRC )کی جانب سے آپ کو”دی بیسٹ پو ئٹ2013 ”اور دوسرا گورنمنٹ آف البانیا کی جانب سے”فرینگ برڈی بیسٹ پوئٹ 2014 ” کا ایوارڈ دیا گیا۔ پاکستان میں یہ انٹر نیشنل ادبی ایوارڈ حاصل کرنے والی آپ پہلی شاعرہ ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کیلئے یہ اعزازات حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ج ۔میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے مجھے اتنا مان دیا یہ ایوارڈز میرے وطن پاکستان کیلئے میرا تحفہ ہے اللہ پاک میرے وطن کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے ، آمین۔

فاخرہ بتول کے کریڈٹ پر مندرجہ ذیل کُتب ہیں:
.1پلکیں بھیگی بھیگی سی
.2چاند نے بادل اوڑھ لیا
.3کہو وہ چاند کیسا تھا؟
.4اب بھرے شہر میں مجھے ڈھونڈو
.5سمندر پوچھتا ہو گا
.6دُور مت نکل جانا
.7بھلا دیا ناں؟
.8گلاب خوشبو بنا گیا ہے
.9محبت کی نہیں تم نے
.10 محبت خاص تحفہ ہے
.11دشت ِ تنہائی میں (انتخاب)
.12اُسے روکتے بھی تو کس لئے؟
.13شر عادتیں (طنزو مزاح)
.14سرگوشی(کالم)
.15بچّے سارے سچّے ( بچّوں کے لئے نظمیں)
.16 حُسین فاتح ہے کربلا کا (حُسینی کلام)
17 . The Aline Eyes (Translated Poems)

تحریر : شاہد لطیف