وسائل میں اضافے کے باوجود پاکستان میں معیار تعلیم تسلی بخش نہیں: رپورٹ

Education

Education

اسلام آباد (جیوڈیسک) ماہر تعلیم ڈاکٹر خادم حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز کو معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے اور اساتذہ کی بنیادی صلاحیت کو بڑھانے پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں شعبہ تعلیم کے لیے مختص رقم میں گزشتہ سالوں کی نسبت حالیہ برسوں میں بتدریج اضافہ تو ہوا ہے لیکن امریکہ میں قائم ایک تحقیقی ادارے “ولسن سینٹر” کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے جس کی وجہ شعبہ تعلیم میں وسائل کی غیر دانشمندانہ تقسیم کو قرار دیا گیا ہے۔

ملک میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ رپورٹ کے مطابق مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ تیسری جماعت کے طلبا کی نصف سے زائد تعداد اردو کا ایک سادہ جملہ بھی صحیح سے پڑھنے سے قاصر ہے جو کہ تعلیمی معیار میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے شعبہ تعلیم کے لیے سالانہ بجٹ میں پہلے سے زیادہ رقم مختص کرنے کے علاوہ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور بچوں کے اسکولوں میں داخلے کی شرح کو بڑھانے کا عزم تو ظاہر کیا ہے لیکن ماہرین کے بقول اس کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں پر توجہ دے کر ہی معیار تعلیم کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر خادم حسین “ولسن سینٹر” کی تازہ رپورٹ کے نتائج سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے قبل بھی مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس میں ایسی ہی باتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز کو معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے اور اساتذہ کی بنیادی صلاحیت کو بڑھانے پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

“اساتذہ کی تربیت کا انتظام کیا جائے، ادارے تو موجود ہیں لیکن جو کام کے دوران تربیت ہوتی ہے کہ جو نئی تحقیق سامنے آتی ہے جو طریقہ کار سامنے آتے ہیں اس سے اساتذہ اور منتظمین با خبر نہیں ہوتے اس کی وجہ سے پڑھانے کے طریقہ کار میں خامی نظر آتی ہے۔۔۔ پھر جہاں اسکول ہوتے ہیں وہاں کی مقامی آبادی کو اس (عمل) میں موثر طریقے سے شامل نہیں کیا گیا، اس کی بھی ضرورت ہے۔”

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے اساتذہ کی تربیت کے بھی خاطر خواہ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ولسن سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماضی کی نسبت پاکستان میں صرف کاغذوں پر موجود تعلیمی اداروں یعنی “گھوسٹ اسکولز” کی تعداد میں بھی حالیہ برسوں میں کمی دیکھی گئی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔

امریکہ بھی پاکستان میں شعبہ تعلیم کی بہتری کے لیے اعانت فراہم کرتا آرہا ہے جس میں اسکولوں کی تعمیر نو، ان میں سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی تربیت اور طلبا کے لیے وظائف دینا بھی شامل ہے۔