اکیس ریال میں حج

Hajj

Hajj

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
برادر فرید پراچہ اور بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ یادداشتوں کا جو سلسلہ لکھنا شروع کیا تھا اسے جاری رکھوں۔بہت سے نوجوان جو بیرون ملک اپنے حالات بدلنے گئے انہیں پریشانی میں دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ انہیں حوصلہ دوں کہ کہ ہر تکلیف کے بعد راحت ہے اگر آج آپ مشکل میں ہیں تو کل آرام ملے گا بس محنت جاری رکھئے۔آپ اگر جدہ میں ہیں تو آپ کو طریق الجامعہ کا ضرور علم ہو گا۔ٹویوٹا کمپنی کلو خمسة سے بلد سے آتے ہوئے بائیں ہاتھ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی طرف یہ سڑک جاتی ہے کوئی پون کلو میٹر پر ایک گول چکر ہے۔

یہاں آنے کے لئے آپ پورے ہاتھ کو کھول کر اسے نیچے کی طرف جھٹکا دیتے ہیں بس کا ڈرائور سمجھ جاتا ہے کہ یہ مسافر خمسة والجامعہ کہہ رہا ہے ۔بس یہ کہانی اسی جگہ کی ہے دائیں ہاتھ ایک پمپ ہے یہ وہی پمپ ہے جہاں اس زمانے میں مفت پٹرول ملا کرتا تھا جی ہاں بلکل مفت لیکن موٹر سائیکل کے لئے اس سے ذرا پہلے چند دکانیں تھیں۔یہ کہانی اس لئے یاد آئی کہ چار روز پہلے گلزار قائد کے کوئی سو سوا سو مزدور مجھے ملے وہاں کے کونسلر نے جہاں وہ زدوری کے لئے بیٹھتے ہیں وہاں سے انہیں اٹھانے کی کوشش کی ہے مزدوروں کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے ہیں اور وہ نون لیگ کا ہے ہم آپ کے جلسے میں گئے آپ کے کیمپ میں آئے تقریریں کیں جس کا بدلہ لیا جا رہا ہے میں نے جا کر صلح صفائی کرا دی اس فٹ پاتھ کو دیکھا اور مجھے وہ دن یاد آ گیا جس کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔کل یوم مزدور تھا گائوں میں تھا نواز میرا بھانجہ ہے اس کو کھوڑی میں مزدوری کرتے دیکھا سوچا کاش کہ ہم اس دن مزدور کو مزدوری دے کر روانہ کر دیتے اور کہہ دیتے جائو آرام کرو تمہارا دن ہے چھٹی منائو لیکن ہم یہ کام کب کرتے ہیں۔میں نے ان مزدوروں کا مسئلہ سنا اور حل بھی کیا۔جب ہم واپس اپنی اپنی گاڑیوںمیں واپس گھر آ رہے تھے تو مجھے اکیس سالہ افتخار یاد آ گیا جدہ کی شارع جامعہ کے گول چکر کے پاس مزدور بیٹھا کرتے تھے۔

ہوا کچھ یوں کہ جولائی ١٩٧٧ میں عمرے کے ویزے پر سعودی عرب گیا تھا وہیں ٹک گیا ان دنوں اتنی سختی نہیں تھی کام کے لئے نکلا نہ ہی مجھے ہاتھ سے کام آتا تھا اور نہ ہی مزدوری کر سکتا تھا۔دو مہینوں میں دو جگہ سے ناکام ہو کر واپس ڈیرے پر آ گیا وہ کمرہ جہاں ہم دس لوگ چھ گدوں پر سویا کرتے تھے یہ کہانی اسی کمرے کے باسیوں کے تذکرے کے گرد گھومتی ہے جن کے اپنے بیلچے اور گینتیاں تھیں۔بھائی ولی اور کاکا نے میری واپسی پر خوشی کا اظہار کیا دوسرے دوست بھی خوش تھے۔حج کی آمد آمد تھی۔بلکہ دو ہی روز باقی تھے سارے خوشی سے جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے تیاری کیا تھی ایک احرام جائے نماز کچھ ضروری چیزیں دالیں نمک مرچ مصالحے کی خریداری کرنی تھی جانا تو اپنے خلیرے بھائی کے ہینو ٹرک میں تھا جو فالکن فریٹ کمپنی کا تھا یہ کمپنی سہگلوں کے داماد میاں منشاء کی تھی سنا تھا نشاط ملز بھی اس کی ہے ۔چھوٹی سی کمپنی تھی جس میں چند ٹرک تھے منشاء نامی ایک خوبصورت شخص کبھی کبھار آتا تھا(یہ آج کے میاں منشاء تھے) اسرار شاہ کی کرولا میں کئی بار ہم سمندر کنارے اکٹھے گئے جہاں بعد میں مجھے ایک معقول نوکری مل گئی ۔بات حج کی کروں گاسارے اپنی اپنی جگہ مسرور تھے ایک میں تھا جس کی جیب میں کوئی رقم نہ تھی۔میں نے ہمت باندھی اور وہ جگہ جہاں مزدور بیٹھا کرتے تھے وہاں جا کر بیٹھ گیا۔

شغل ما معلم؟معلم کے ساتھ کام کرو گے؟ایک عرب نیسان ١٨٠ بی میں بیٹھا مجھ سے پوچھ رہا تھا میں نے سوچا اللہ نے کرم کر دیا ہے کسی حج معلم کے ساتھ نوکری مل رہی ہے۔اچھے دن لگ جائیں گے۔دل ہی دل میں خوش ہوا کہ حج بھی ہو جائے گا اور معلم کے ساتھ منشی کا کام بھی مل جائے گا۔گاڑی میں بٹھا لیا اور مجھے گلیوں سے ہوتے ہوئے پرانی سڑک پر لے گیا۔میں سمجھا یہاں سے ہم مکہ مکرمہ چلے جائیں گے میری آنکھوں میں منی اور مزدلفہ کے میدانوں کی تصویر تھی۔لیکن ہوا یہ کہ وہ یونورسٹی پل سے اس پار لے گیا جہاں آج کل البیک کی دکان ہے غویزہ محلہ تھا۔وہ کچے راستوں پر گاڑی چلاتا رہا مجھے عربی نہیں آتی تھی۔دھول
اڑاتی سنگلاح پہاڑیوں پر گاڑی چلے جا رہی تھی مجھے خیال آیا کہ شائد یہ مکہ کے خفیہ راستے پر جا رہا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے ایک مکان زیر تعمیر آ گیا عرب نے گاڑی وہاں روکی مجھے اتارا یہ جا وہ جا۔میں حیران رہ گیا یہاں کوئی خیمہ نہیں تھا کوئی حاجی نہ تھے۔ایک مصری مستری وہاں چند سیمینٹ کی بوریوں سمیت چند سو بلاکوں کے ساتھ گھر بنا رہا تھا۔اس نے خوشی سے میرا استقبال کیا اور اشارے سے سمجھایا یہ نلاک ہیں یہ ریت اور یہ سیمینٹ اسے مکس کرو اور تغاری میں بھر کر مجھے دیتے جائو۔میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور اور سر ہلاتے ہوئے کہا انا ما عارف میں نہیں جانتا۔استاد سمجھ گیا کہ بندہ غلط آ گیا ہے وہاں جا کر پتہ چلا معلم استاد ہی کو کہتے ہیں اور میں استاد کا وہ مساعد یا معاون تھا جو اس کی مدد کرنے آیا تھا۔اللہ اس کو خوش رکھے اس نے بڑے پیار سے مصالحہ بنایا اور کہا کوئی بات نہیں شویا شویا کام کرو یعنی تھوڑا تھوڑا۔چھ فٹ سے نکلتا قد چھریرے جسم کا افتخار مرتا کیا نہ کرتا میں نے آہستہ آہستہ کام شروع کیا۔مگر درد سے کراہ اٹھتا زندگی میں ہاتھ سے کام نہیں کیا تھا پریشان ہو گیا جھک کردو تین مرتبہ تغاری اٹھائی تو کمر دوہری سی ہو گئی میں نے ہاتھ اٹھا لئے اور اسے کہہ دیا ما فی شغل (میں کام نہیں کروں گا) اتنے میں منگیریا آ گیا منگیریا ناشتے کو کہتے ہیں وہی گاڑی والا کوئی دو گھنٹے بعد آیا دونوں نے آپس میں بات چیت کی دونوں مسکرائے اور استاد نے میرے نرم ہاتھ دیکھ کر اسے کچھ کہا یقینا یہی کہا ہو گا کہاں سے پکڑ لائے ہو۔

اسے روٹی کھلائو اور جہاں سے لائے ہو چھوڑ آئو۔آج اس بات کو چالیس سال ہونے کو ہیں۔میں جب بھی اللہ سے دعا کرتا ہوں تو ان دو لوگوں کی یاد بھی آتی ہے جنہوں نے نہ جانتے ہوئے بھی شفقت سے کام لیا۔مجھے ضد کر کے کھانا کھلایا میں نے منع بھی کیا ۔خجالت یہ تھی کہ کچھ کام بھی نہیں کیا اور یہ لوگ مجھے اتنے پیار سے پیش آ رہے ہیں۔ناشتے میں جبہ،حلاوہ اور فول تھا ساتھ میں افغانی روٹی تھی۔بڑی شکل سے نوالے اتر رہے تھے ناشتے کے بعد وہ سعودی مجھے گاڑی میں بٹھا کر وہیں اتار گیا۔اترتے وقت اس نے پچاس ریال میری جیب میں ڈال دئے میں نے بہتیری کوشش کی کہ نہ لوں لیکن رکھ لئے سوچا حج پر بھی جانا ہے۔میں نے پہلی فرصت میں احرام مصلی اور چند اور چیزیں خریدیں۔اس حج پر مہم کوئی چودہ لوگ تھے منی میں کبری ملک خالد کے پاس پہاڑی پر خیمے لگائے دوست جو اب اس دنیا میں نہیں ان کے ساتھ وہ یاد گار حج کیا اسی دوران ہم ٹرک پر پیچھے بیٹھ کر مدینہ منورہ بھی گئے اس سارے سفر میں کوئی اکیس ریال خرچ ہوئے۔کسمپرسی کے ان دنوں میں پچاس ریال مل جانا یہ کوئی خدائی مدد تھی۔سڑک کنارے بیٹھنے سے اللہ نے ایک وسیلہ مہیا کر دیا۔

اگلے روز جب میں ان سڑک کنارے بیٹھے مزدوروں کے ٹھکانے کی بات کر رہا تھا تو مجھے چار دہائیاں قبل کا جدہ یاد آ گیا۔سوچتا ہوں گھر سے نکلنے والوں ان مزدوروں کو اب کوئی وہ سعودی وہ معلم مصری کیوں نہیں ملتا۔ہم کام کرنے والوں سے اس قدر سختی سے کام لیتے ہیں کہ سخت گرمی میں ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔وہ مستری اور مالک مکان جہاں کہیں بھی ہیں زیر زمین یا اپنے ملکوں میں کسی جگہ میری دعائیں ان کا پیچھا کرتی ہیں۔یہی یوم مزدور ہے کہ نرمی برتیں اپنے ان لوگوں کے ساتھ جو کسی وجہ سے آپ کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔اکیس ریال کا حج یقینا میرے لئے توشہ ء آخرت ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان دو بھائیوں کے لئے بھی باعث نجات ہو گا جنہوں نے میرے ساتھ نیکی کی۔اللہ انہیں خوش رکھے آمین۔کیا زمانہ تھا اکیس ریال میں حج ہو گیا اب تو کاروباری چمک نے سعودیوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے سب سے سستا حج ٢٠١٤ میں کیا ساڑھے چار ہزار ریال فی کس تھا وہ بھی قیام عزیزیہ میں تھا جو حرم کوسوں دور ہے۔

منی کی ایک انچ زمین بھی خالی نہیں ہے حج میں ہونے والے حادثات میں یہ فیصلے بنیادی وجہ ہیں۔ایرانی حاجیوں نے جو کیا سو کیا ایک معمولی سا واقعہ اموات کا باعث بن سکتا ہے۔لالچ کی انتہا یہ ہے کہ اب منی سے باہر بھی خیمے لگا کر بچ دئے گئے ہیں پاکستانی حاجیوں کے ساتھ یہی ہوا تھا کہ پیسے لے کر انہیں منی سے باہر بٹھا دیا گیا تھا۔کاش امت مسلمہ کی بڑی طاقت اور تیل کی دولت سے مالامال مملکت سعودی عرب اس لالچ سے باہر آ جائے اور لوگوں کو سستا حج کرنے دے۔ہم سعودی عرب پر جان نچھاور کرتے ہیں ان کی امداد اور معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن افسوس کہ وہ لوگ تاجر زیادہ اور معاون کم ثابت ہوئے ہیں۔سعودی عرب نے اپنے آپ کو جنگوں میں الجھا لیا ہے گرچہ اس کے پیچھے ایران ہے لیکن کیا یہ دو ملک دوست نہیں بن سکتے۔ہم اس ملک کے احسان مند بھی ہیں جس نے بیس لاکھ پاکستانیوں کو سر چھپانے کی جگہ دی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امت مسلمہ کو بکائو مال سمجھ کر جو جی چاہے کرے۔اکیس ریال کے حج کہاں گئے۔

Engineer Iftikhar Chaudhry

Engineer Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری