سلفیوں سے فائدہ

Protest For Kashmir

Protest For Kashmir

تحریر : راؤ خلیل احمد
کل نماز جمعہ میں زاہد ہاشمی اور خواجہ حنیف سے مرکز منہاج القرآن فرانس میں ملاقات ہوئی۔ خواجہ حنیف سے تو تقریبا” ہر جمعہ کو ملاقات ہوتی ہے پر زاہد ہاشمی خصوصی طور پر انڈیا میں جاری کشمیریوں پر ظلم کے خلاف احتجاجی ریلی 23 اکتوبر شام 4 سے 6 پیرس اور 27 اکتوبر ملین مارچ برسلز میں تعاون کے لیے منتظمین منھاج القرآن سے ملنے آئے تھے۔ صدر منھاج القرآن چوھدری محمد اعظم اور قائم مقام صدر پاکستان عوامی تحریک محمد نعیم چوھدری کے پازیٹو رسپانس نے جہاں ان کے عظم کو مزیدتقویت بخشی وہاں مجھے ان کی کاوشوں کو سیلفیوں کی نظر ہو کر مقصدیت سے دور لے جانے کا خوف دامن گیر ہو گیا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک سو سات دنوں سے جاری عوامی احتجاج میں اب تک سو سے زائدافراد شہید اور پندرہ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک درجن سے زیادہ تنظیموں کے اتحاد سی سی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کر چکی ہیں۔

کشمیر میں لاگو خصوصی قوانین کے تحت گرفتار ہونے والوں کی اکثریت کو مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ برہان وانی کی شہادت سے پنپنے والی حالیہ احتجاجی تحریک،میں سیکورٹی فروسز کو ، جسے اب تک کشمیر میں ہونے والے مظاہروں میں شدید ترین قرار دیا جا رہا ہے، کے حوالے سے پانچ ہزار پانچ سو افراد مطلوب ہیں۔

Kashmir Violence

Kashmir Violence

سی سی ایس کی تحقیق کے مطابق پندرہ ہزار زخمی افراد میں سے چار ہزار افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ایسے ہیں جن کے چہرے پر چھروں کے زخم آئے ہیں۔ سینکڑوں افراد آنکھوں میں چھرے لگنے سے جزوی یا مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں بیرونی دنیا میں موجود کشیریوں سے محبت کے دعویداروں سے درخواست ھے کہ احتجاجی ریلیوں میں شرکت کشمیر میں جاری ظلم کو مدنظر رکھ کر کریں نہ کہ سمر کولیکش شو سمجھ کر۔ اس دن اگر بچوں کو بھی ساتھ لے لیا جائے اور ان کا میک آپ بھارتی فورسز کی بربریت کا شکار پیلٹ گن سے زخمی کشمیری عوام کے مطابق کیا جائے تو پھر سیلفیوں سے بھی فائدہ ھو گا۔

یقینا” اس سلسلے میں ہماری خواتین محترمہ نینا خان کی فیشن سکل، محترمہ روحی بانو کی موٹیویشن ، محترمہ طاہرہ سحر کی مینجمنٹ بہت کارگر ثابت ھوسکتی ہے۔

مودی حکومت لوگوں کو سیاسی سطح پر ڈیل کرنے میں مکمل کام ہے اور اب انتقامی کاروائیاں شروع ہیں، یہ ڈکٹریٹرشپ کی بدترین مثال ہے۔” تحریک کشمیر آج جس موڑ پے ہے شائد کبھی پہلے نہیں تھی ضرورت اس امر کی ھے کہ ہر کسی کو دیے میں اپنے حصے کا تیل ڈالنا ہو گا۔

Rao Khalil

Rao Khalil

تحریر : راؤ خلیل احمد