مدارس میں طلبہ کو فقیری میں بھی بادشاہی سکھائی جاتی ہے، پیر ذوالفقار نقشبندی

karachi

karachi

کراچی: معروف علمی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ گزشتہ شب اصلاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خصوصی خطاب سلسلہ نقشبندیہ کے معروف روحانی پیشواء دارلعلوم جھنگ پنجاب کے مہتمم مولانا ذوالفقاراحمد نقشبندی نے کیا اس موقع پر رئیس جامعہ بنوریہ عالمیہ مفتی محمد نعیم ، ناظم تعلیمات مولانا عبدالحمید، مولانا سیف اللہ جمیل ، مولانا نادر جان ، مولانانعمان نعیم ، مولانا فرحان نعیم ، مولانا سیف اللہ ربانی ،مولانا عبدالحمید تونسوی ، مولانا جہان یعقوب سمیت ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس،علما ،طلبہ اور خواتین بھی موجود تھیں۔

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے کہاکہ مدارس بے لوث ہوکر دینی علوم کو عام کررہے ہیں یہاں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں سیکھائی جاتی،میں دنیا کے ساتوں براعظموں میں گیاہوں اور دینا کے تمام قسم کے اداروں میں خطاب کیا ہے لیکن مجھے مدارس واہل مدارس سے زیادہ محب وطن اور امن پسند لوگ کہیں نہیں ملے،مدارس کوختم کرنے کی باتیں اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کے مترادف ہیں

مدارس کا سلسلہ نبی اور وحی تک پہنچتاہے، مدارس میں طلبہ کو علوم دینیہ کے ذریعے فقیری میں بھی بادشاہی سیکھائی جاتی ہے، انھوں نے طلبہ پرزور دیا کہ علم کے ساتھ عمل اور اخلاص ضروری ہے،جس کے لیے محنت کریںاوربے لوث ہوکر دین کی اشاعت وتریج کا کام کریں ،انہوں نے کہاکہ مدارس کے طلبہ تعلیم کے ساتھ اعمال پر بھی زیادہ سے زیادہ توجہ دیں کیونکہ بغیر عمل کے علم بے ثمر ہوتاہے اور حقیقی معنوں میں عالم وہی ہوتاہے۔

جو علم پر عمل کرتاہے یہی ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیکھایا صحابہ کرام جو کچھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے تھے اس پر عمل کرتے تھے۔قبل ازیں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ زمانے میں دینی علوم حاصل کرنے والے افراد کی ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں پوری دنیا میں فتنوں کے ذریعے اسلام کیخلاف سازشی جال بچھائے جارہے ہیں

ایک طرف عالم اسلام کو دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کرکے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو دوسری طرف جدید قسم کے فتنوں کو مسلمانوں میں تیزی سے انجیکٹ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، انہوںنے کہاکہ مدارس دین اسلام کے قلعے ہیں یہاں پڑھنے والے اللہ کے دین کے داعی ہیں اس لیے ان کے اندر علم پر عمل کی کوشش کرنا زیادہ ضروری ہے،انہوںنے کہاکہ عمل سے خالی علماء کی دین دشمن قوتوں کے سامنے کوئی اہمیت نہیں بلکہ اسلام دشمن قوتیں باعمل علماء سے خائف ہیں اور مدارس کیخلاف سازشوں کی بھی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں علم پر عمل کرنے والے لوگوں کو ہی تیار کیاجاتاہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں طرح طرح کے فتنوں کے ذریعے اسلام کیخلاف پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں ان پروپیگنڈوں کا مقابلہ کرنے لیے سنت نبوی اور اسلام سے اپنی زندگیوں کو مزین کرنا ضروری ہے اور علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان فتنوں اور سازشوں کیخلاف اٹھیں ، انہوںنے کہاکہ علماء حق نے نہ پہلے مدارس اور دین کیخلاف شازشیں برداشت کی ہیں اور نہ اب کرسکتے ہیں۔