تلاش۔۔ پاکستان کے حقیقی حکمرانوں کی

Rulers

Rulers

تحریر : سجاد گل
چچا ضمیر۔۔ آپ صاحبِ اقتدار پارٹی کی حمایت کیوں کرتے ہیں ؟ چچا بے ضمیر۔۔اس لئے کہ وہ اقتدار میں ہے۔ چچا ضمیر۔۔ملک میں تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔
چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔ہر طرف چور بازاری کا راج ہے رشوت ڈہنکے کی چوٹ پر چل رہی ہے۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔ملک میں لاقانونیت ہے، بے انصافی ہے،غریب اور امیر کی سزا و جزا کے معیار الگ ہیں۔

چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔نیب، ایف آئی اے ، پیمرا،پولیس ،عدالیہ ،اینٹی کرپشن ،کو ئی ادارہ مستحق نہیں چھوڑا ان پٹواریوں نے۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔بڑھتی ہوئی مہنگائی،غربت اور بے روز گاری کا کوئی حل نہیں ،غریب کا جینا محال کر چکے یہ ٹیکس چور حکمران۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔کرپشن کی کوئی روک تھام نہیں ، اور سب سے زیادہ کرپشن حکمران کر رہے ہیں۔

Metro Bus

Metro Bus

چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔جرائم کی روک تھام کرنے میں یہ ناکام ہو چکے بلکہ قانون کے محافظ ہی جرائم کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔ملک میں بے پناہ وسائل کے ہوتے ہوئے بھی گرمیوں میں بجلی کی آنکھ مچولی اور سردیوں میں گیس کی چھپنا چھپائی۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔ہمارے ازلی دشمن ہمارے خلاف سازشوں کے جال بچھا رہے ہیں،مگر افسوس ان حکمرانوں کے کانوں پر جوتک نہیں رینگتی۔ چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ چچا ضمیر۔۔نام تو جمہوریت کا لیا جاتا ہے مگر درحقیقت اس ملک میں ایک خاندان کی بادشاہت چل رہی ہے۔

چچا بے ضمیر۔۔وہ سڑکیں تو بنا رہے ہیں ،دیکھو نا میٹرو بھی چلا دی۔ پنجابی کا محاورہ ہے جے جی روح اوجے فرشتے،جسکا اردو ترجمہ ہے”جیسی روح ویسے فرشتے”اس محاورے کی عکاسی حدیث ِرسولۖ سے بھی ہوتی ہے،امامِ کائنات محمدۖ نے فرمایا”اللہ تعالیٰ کسی قوم پرانکے اعمال کے عین مطابق حکمران مسلط کرتا ہے، یعنی ”جے جی عوام اوجے حکمران(یعنی جیسی عوام ویسے حکمران)اس حدیث کو بنیاد بنا کر کچھ لوگ اس ظالمانہ نظام سے یہ کہتے ہوئے جان چھڑا رہے ہوتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرما دیا تھا کہ جیسی عوام ویسے حکمران،اب پہلے ہمیں اپنے اعمال درست کرنے چاہئے بعد میں عادلانہ نظام کو بھی دیکھ لین گے۔

جبکہ کہ اس حدیث کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ اگر خطے میں ظالمانہ و جابرانہ نظام رائج ہو اور حکمران عوام کا خون چوس چوس کر عیش و عشرت میں لگے ہوں ،اور عوام ان کے خلاف کسی قسم کی جدوجہد جاری نہ رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی غلط تشریحات کرتی پھرے،جس رسولِ کریم ۖکی یہ حدیث ہے اسی کی ایک اور حدیث ہے کہ” اعمال میں سب سے افضل عمل ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ ِ حق کہنا ہے۔

Pakistan

Pakistan

اس ملکِ خداداد کی حالت زارپر ترس آتا ہے ،کیا یہ وہی ملک ہے جو ایک اسلامی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیاتھا؟میں کوئی لمبی چوڑی گفتگو نہیں کرنا چاہتا بس ایک سوال ہر اس پاکستانی سے کرنا چاہتا ہوں جو یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کا مطلب ”لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ”ہے۔

سوال یہ ہے ”کیاپاکستان میں اس وقت کی صاحب ِ اقتدار پارٹی اس قابل ہے کہ وہ اس ملک پر حکومت کرے جو دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر حاصل کی گیا،کیا یہ چور ،کرپٹ،بدمعاش ،ظالم،جابر پاکستان کے وارث ہو سکتے ہیں؟اگر یہ پارٹی اس قابل نہیں تو پاکستان میں موجود تمام جماعتوں میں وہ کونسی جماعت ہے جو اس قابل ہے کہ پاکستان جیسے عظیم ملک کی حکومت اسے سونپ دی جائے ؟سوال کا جواب اپنے ضمیر سے پوچھیں ،اور اس جماعت کو تلاش کریں جو واقعی اس قابل ہے کہ اسلام کے قلعے پر حکمرانی کر سکے۔

Sajjad Gul

Sajjad Gul

تحریر : سجاد گل
dardejahansg@gmail.com
Phon# +92-316-2000009
D-804 5th raod satellite Town Rawalpindi