جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے سپریم ھیڈ جناب امان اللہ خان کی قومی اور ملی خدمات

Misfar

Misfar

برمنگھم : جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے سپریم ھیڈ جناب امان اللہ خان کی قومی اور ملی خدمات اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے دی جانے والی لبریشن لیگ برطانیہ کے زیراہتمام کل جماعتی تعزیتی ریفرنس مرحوم راہنما کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے وقف کر دی تھی۔ اس ضمن میں انہیں دنیا کے کئی ممالک اور پاکستان میں قید و بند کی صوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی لیکن تمامتر مشکلات کے باوجود انکے حوصلے بلند رہے اور زندگی کی آخری سانس تک انہوں نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔

پروگرام کے آغاز پر صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ ڈاکٹر مسفر حسن نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا آج ہماری ملاقات ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب کشمیری قوم اپنے ایک اور نامور مجاہد سے محروم ہو گئی ہے۔ امان اللہ خان نے جس طرح اپنی ساری زندگی کشمیری عوام کی آزادی کے لئے وقف کی اس کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم آج بھی حالات کی مشکلات سے دوچار ہے اور انکی آزادی کی منزل کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ امان اللہ خان صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین بریقہ یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی آزادی کا درد رکھنے والے متحد ہو کر انکے مشن کی تکمیل لے لئے جدوجہد کو آگے بڑھانے کا عزم اور عہد کریں اور آپس کے اختلافات کو بھلا کر ایک قوت بن کر قومی آزادی کے حصول کی خاطر متحد ہو کر اس مشن کو آگے بڑھائیں ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے سینئر راہنما جناب ملک لطیف نے کہا کہ امان اللہ صاحب کئی محاذوں پر کام کیا آخری زانس تک تنظیم کی بات کرتے رہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

برٹش کشمیری وومن فاؤنڈیشن کی چیرپرسن محترمہ شمع نزیر نے کہا کہ بہت سی سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں لیکن کشمیر کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ پُرامن حل کے لئے دونوں حصوں کے درمیان تجاری روابط میں اضافہ ہونا چاہیے۔

لبریشن لیگ کے سینئر نائب صدر مرزا منصف دار ایڈوکیٹ نے تجویز کیا کہ کشمیریوں کو دنیا میں جاری دیگر آزادی کی تحریکوں سے فیض حاصل کرنا چاہیے اور ہمیں کشمیریات سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنا چاہیے۔ لبریشن فرنٹ کے سابق بانی صدر یو کے عبدالجبار نے بتایا کہ امان اللہ سے انکا تعلق بہت پرانا تھا اور ایک وقت میں امان صاحب نے برطانیہ کی تنظیم میں انکے ساتھ بطور سیکرٹری کام کیا۔

انہوں نے لبریشن لیگ کے بانی صدر جناب کے ایچ خورشید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب خورشید کے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اپنی انا کو چھوڑ کر کشمیر کی آزادی کیلئے ایک ایجنڈے پر کام ہونا چاہیے۔

پاکستان سے آئے ہوئے لبریشن لیگ کے سینئر راہنما محمد لطیف نے کہا کہ کشمیر کی سیاست کے بڑے نام آج دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں آباد کشمیری پالیسی سازوں سے باز پرس کریں اور ایک ایجنڈے پر سب کو ملکر کام کرنا چاہیے۔

لبریشن فرنٹ کے صدر صابر گل نے کہا کہ باہمی اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ تحریک آزادی کے لئے زندگی وقف کرنے والے مشترکہ ہیرو ہیں۔ امان اللہ خان نے قومی تشخص اور وقار کی سربلندی کیلئے زندگی وقف کی۔ جناب کے ایچ خورشید کے نظرئیے کے مطابق آزاد کشمیر حخومت کو بااختیار بنانے کیلئے کم از کم ایجنڈے پر مشترکہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

لبریشن فرنٹ کے زونل جنرل سیکرٹری تحسین گیلانی نے منزل کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی ایشوز پر اتفاق رائے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عظمت اے خان نے کہا کہ آج برطانیہ میں ہماری لابی ہونے کے برابر ہے ہمیں آزادکشمیر حکومت کے نمائندوں کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم کانفرنس برطانیہ کے صدر بشیر رئوی نے امان اللہ خان کی تحریک آزادی کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے جہ تمام جماعتیں مل کر مشترکہ جدوجہد کریں انہوں نے یقین دلایا کہ مشلم کانفرنس اس مقصد کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔

پروفیسر لیاقت نے کہا کہ باہمی اتحاد وقت کی اہم ضرورت کی اہم ضرورت ہے ہمیں اپنی شناخت اور ملکی وحدت کی خاطر ملکر کام کرنا ہوگا، کشمیر آرٹ اینڈ کلچر آرٹ ایسوسی ایشن کے چیرمین جاوید ککرو نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کو چند مفاد پرستوں نے کمرشل مفادات کی تحریک بنا دہا ہے ۔ مل کر مختلف محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بے کے پی این پی کے جناب انعام الحق نے بتایاکہ امان اللہ خان نے انکی ملاقات چکسواری میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام حریت پسند لیڈر لائق تحسین ہیں جنہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک دن مقرر کرنا چاہیے ، کموں کشمیر لبریشن کونسل کے چیرمین نجیب افسر نے اجلاس کے انعقاد پر ڈاکٹر مسفر کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کو مفاد پرستوں نے کمرشل تحریک بنا دیا ہے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ کشمیری قائندوں کو کشمیر پر قابض طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے تاکہ مسلے کا پر امن حل تلاش کیا جاسکے ۔

انہوں نے مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق کو امان اللہ کی تدفین میں شرکت پر مبارک باد دی انہوں نے کہا مطالبہ کیا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں مداخلت پیش کرنی چاہیے ، جموں کشمیر صیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ارشاد ملک ایڈوکیٹ نہ کہا کہ غیر ریاستی سیاسی جماوعتوں کو آزاد کشمیر کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، کشمیر کی آزادی کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آزادی پسند قوموں کو مشرکہ جدوکہد کرنی چاہیے ۔ جموں کشمیر لبریشن لیگ کے سینٹر راہنما چوہدی محمد صادق نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے 1970 کی دہائی میں امان اللہ خان کے ساتھ تین ماہ تک اقوام متحدہ میں کشمیر کے لیے لابی کی۔

اجلاس کے اختمام پر میزبان ڈاکٹر مسفر حسن نے تمام شرکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو تجاویز اجلاس میں دی گئیں ہیں ان کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرکے باہمی مشاورات سے تحریک کے معاملات کو آگے بڑہایا جائے گا ۔ اس ضمن میں انہوں نے لبریشن فرنٹ کے سینئر راہنما اور سفارتی شعبہ کے سربراہ پروفیسر ظفر خان سے استدعا کی وہ دیگر جماعتوں کے نمائندوں سے رابطہ کرکے اگلے مرحلے پر کام کریں۔ اجلاس کے آخر میں کل جماعتی بین القوامی رابطہ کمیٹی کے سرپرست اعلی مولانا بوستان قادری کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انکی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔