سات سالہ بچے زوھیب اللہ اور اسی سالہ بزرگ سمیت دیگر آٹھ افراد کو انسداد دھشت گردی کی عدالت کی طرف سے اشتہاری مفرور

Taimoor Lone

Taimoor Lone

لیڈز برطانی (پریس ریلیز) عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے ترجمان پروفیسر سجاد راجہ نے عوامی مفاھمتی کمیٹی کے چئیرمین ڈاکٹر محمد زمان، چوتھی جماعت کے طالبعلم سات سالہ بچے زوھیب اللہ اور اسی سالہ بزرگ سمیت دیگر آٹھ افراد کو انسداد دھشت گردی کی عدالت کی طرف سے اشتہاری مفرور قرار دئیے جانے پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا ھے –

برطانیہ سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں سجاد راجہ نے کہا کہ انسداد دھشت گردی کی دفعات کے تحت اس مقدمے کا اندراج اور وارنٹ گرفتاری کا اجراء اس بات کا ثبوت ھے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام پر ظلم اور جبر کی انتہا کر دی ھے – سجاد راجہ نے کہا کہ اصل واقعات یە ھیں کہ 8 جوں 2015 کو انتخابات کے دن عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین کو انتخابات میں شکست دینے کے لئیے ان کے مدمقابل نون لیگ کے حکومتی امیدوار نے ڈاکٹر زمان کے آبائی پولنگ اسٹیشن داریل سے انکے پولنگ باکس اٹھا لئیے – اس کھلم کھلا انتخابی دھاندلی، سرکاری بدمعاشی اور ریاستی جبر کے خلاف داریل کے عوام نے جب احتجاج کیا تو پولیس نے فائرنگ کر کے سات سالہ بچے زوھیب اللہ سمیت پانچ افراد کو زخمی کر دیا اور مظاھرین کے خلاف مقدمات بھی درج کر لئیے –

عدالت نے بعد ازاں مظاھرین کو رھا کر دیا مگر حکومت نے اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے اور انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی کے ذریعے عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چیرمین اور داریل سے گلگت بلتستان اسمبلی کے لئیے امیدوار ڈاکٹر محمد زمان کو شکست دینے کے ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد ڈاکٹر محمد زمان اور ان کے دس دیگر ساتھیوں کے خلاف انسداد دھشت گردی کے مقدمات کی دو ایف آئی آر داریل پولیس اسٹیشن میں درج کر کے ڈاکٹر محمد زمان اور انکے دیگر ساتھیوں کو انسداد دھشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے اشتہاری مفرور قرار دے دیا –
جن افراد کو مفرور قرار دیا گیا ھے ان میں ڈاکٹر زمان کے علاوہ سات سال کا بچہ زوھیب اللہ جو پھنگیچ اسکول میں چوتھی جماعت کا طالبعلم ھے، ایک اسی سالہ بزرگ اور دیگر سیاسی کارکنان شامل ھیں –

ان تمام کے خلاف دھشت گردی، چوری اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئیے گئے ھیں -سجاد راجہ نے کہا کہ حکومت اور اس کی ایجنسیاں جہاں ایک طرف ڈاکٹر زمان کی عوامی مقبولیت سے خائف ھیں وھیں ڈاکٹر زمان کے عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چئیرمین کی حیثئت میں انتخاب پر بھی برھم ھیں چنانچە اب منصوبہ بنایا گیا ھے کہ سچ اور امن کی اس آواز کو ریاستی طاقت کے بل بوتے پر خاموش کیا جائے – سجاد راجہ نے کہا کہ ڈاکٹر زمان کا قصور صرف یە ھے کہ وہ گلگت بلتستان میں شعیہ سنی فرقہ وارانہ تقسیم کو مٹانے کے لئیے مصروف عمل ھیں اور گلگت بلتستان کے عوام کے سیاسی، آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لئیے برسرپیکار ھیں – ڈاکٹر زمان عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان، لداخ، جموں، کشمیر وادی اور نام نہاد آزادکشمیر کے عوام کے مابین دوریاں مٹا کر اخوت، محبت اور باھمی بھائی چارے کو فروغ دینے کے لئیے کوشاں ھیں اور ڈاکٹر زمان کی یہ جدوجہد حکومت اور سرکاری ایجنسئیوں کے نزدیک دھشت گردی اور ڈکیتی ھے –

یہی وجە ھے کہ ڈاکٹر زمان اور انکے ساتھیوں کے خلاف ریاستی جبر کے عفریت کو بے لگام کر دیا گیا ھے –
سجاد راجہ نے کہا کہ ان کا کشمیر وادی میں عوامی مفاھمتی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اقبال وانی، لداخ میں عوامی مفاھمتی کمیٹی کے وائس چیئرمین ذاکر حسین سنگے اور دنیا بھر میں عوامی مفاھمتی کمیٹی کے کارکنان کے ساتھ مسلسل رابطہ ھے –
ڈاکٹر زمان اور انکے ساتھیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ھیں اور ریاستی دھشت گردی کی انتہا اس امر سے ثابت ھوتی ھے کہ سات سال کے بچے کو بھی چوری، ڈکیتی اور دھشت گردی کے جعلی مقدمے میں ملوث کر دیا گیا ھے –

عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے ترجمان پروفیسر سجاد راجہ نے پاکستانی حکومت، سرکاری ایجنسئیوں اور گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت کو الٹی میٹم دیا ھے کہ اگر سات دن کے اندر اندر عوامی مفاھمتی کمیٹی برائے گلگت بلتستان و جموں کشمیر کے چیرمین ڈاکٹر زمان، سات سالہ بچے زوھیب اللہ اور دیگر سیاسی قائدین پر قائم دھشت گردی کے یە جھوٹے مقدمات ختم نہ کئیے گئے تو عوامی مفاھمتی کمیٹی دنیا بھر میں اس ظلم و جبر کے خلاف احتجاجی تحریک چلائے گی اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کو گلگت بلتستان میں پاکستان کی جانب سے جاری مظالم سے آگاہ کرنے کے لئیے ایک مربوط پروگرام کے تحت جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا – اور ایسے تمام اقدامات کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال کی تمام تر ذمەداری پاکستانی حکومت، اور اسکی بے مہار ایجنسئیوں پر عائد ھو گی –