صرف شرم و حیا

Guys Looking Girl

Guys Looking Girl

تحریر : چوہدری غلام غوث
شرم اور حیا انسان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کے عناصر اربعہ میں رکھ دی گئی اور یہ خوبی ہی اصل فطرت کا حُسن ہے حیا وہ خوبی ہے جو انسان کو گناہ کے راستے پر جانے سے روکتی ہے ۔یہ انسان کے ان عناصر کو کنٹرول کرتی ہے جن کے استعمال کی وجہ سے انسان دوسری مخلوقات سے افضل گردانا گیا ہے۔یہ انسان کی زبان اس کی نگاہوں اس کی سماعتوں اور اس کے قدموں کو غلط کاموںسے روکتی ہے۔چونکہ ہم انسان ہو نے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہیں اور ہمارے لیئے تو حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں اگر مسلمان کے اندر سے حیا ء رخصت ہو گئی تو ایمان بھی کوچ کر جائے گا،کیونکہ سارے نیک اعمال کی بنیاد حیاء ہو تی ہے اور جب حیاء نہ رہے تو انسان بے حس ہو جاتا ہے اسے نہ ہی گناہ کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی چھوٹے بڑوں کا لحاظ اور سب سے بڑھ کر نہ ہی اللہ کی ناراضگی کا ڈر رہتا ہے حیاء ہی انسان کو روز مرہ زندگی کے معاملات میں توازن اور مروت سکھاتی جبکہ بد اخلاقی اور بد تہذیبی سے بچاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں شرم و حیاء کی جگہ آہستہ آہستہ روشن خیالی اور جدیدیت نے لے لی ہے جس سے ہمارے معاشرے کو کوئی اور تو افاقہ نہیں ہوا صرف فحاشی و عریانی کی بہتات ہو گئی ہے اور ہماری نوجوان نسل غیر محتاط طور پر اس میں خود کفیل ہو گئی ہے روایتی معاشرتی رکھ رکھائو اسلامی معیارزندگی اور بڑوں کی طرف سے ملنے والے سُنہری اصولوں کی وراثت سے محروم ہو گئی ہے۔

آپ صرف اپنے معاشرے میں شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع کو بغور ملاحظہ کر لیں آپکی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں ایک شادی کا وہ پُر مسرت موقع جس پر سب سے زیادہ نامحرم لوگ اکھٹے ہوتے ہیں جس میں مہندی ،بارات اور ولیمہ کے اجتماعات شامل ہیں اور اس موقع پر بُلائے گئے وہ مہمان جو ہماری خواتین کیلئے ہر لحاظ سے نامحرم ہوتے ہیں عین اس مواقع پر خواتین بن سنور کر مہنگے مہنگے میک اپ کروا کر باریک اور عریاں کپڑے زیب تن کر کے ماڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں اس موقع پر سب بھائی ،بیٹے ،باپ ،چچے ،تائے ،ماموں یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان منہ زور خواتین کے سامنے بھیگی بلی بنے ہو تے ہیںیہ تو عام خواتین و حضرات ہیں جو دعوت میں بلانے پر آئے ہوتے ہیں اب دیکھیں اس خاص حجلہ عروسی میں بیٹھی لڑکی کو جس کی شادی ہوتی ہے اس کے شرم و حیا ء کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے۔

جب نوجوان قسم کا نامحرم کیمرہ مین اسے اپنے ہاتھوں کے اشاروں پر کٹھ پتلی بناتا ہے اور اس سے تنہا مختلف زاویوں کی ماڈلنگ کروا رہا ہوتا ہے کہ اس فوٹو شوٹ کو پر و فیشنل ماڈلز لڑکیاں دیکھ کر شرما جائیں میں نے اپنے قریبی عزیزوں کی شادیوں میں ایسے مناظر بھی دیکھے ہیں کہ بچیاں حافظ قرآن ہیں عالمہ فاضلہ ہیں عام طور پر باحیا اور شرمیلی ہیں مگر شادی جیسے مقدس اور پاکیزہ فرض کی ادائیگی کے دوران ان سے جس طرح نوجوان نامحرم فوٹو گرافر سے فوٹو شوٹ کروایا گیا اسے دیکھ کر ماڈلنگ پیچھے مارے شرم کے منہ چھپاتی رہی اور یہ منظر حیاء کو تار تار کرتا رہا مدرسے کے سکھائے گئے سنہری اسلامی اصول جو بچیوں کو باعزت زندگی گذارنے کا سبق دیتے تھے سب کے سب صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور ایک دن کی روشن خیالی اور جدیدیت نے ان کا جنازہ نکال دیااور یہ سارا منظر دولہا دلہن کے نکاح سے پہلے کا ہے ۔دولہا جس کا خاندان اس شادی پر لاکھوں خرچ کر رہا ہوتا ہے انتظامات کر کے بے حال ہو جاتا ہے ابھی اس دولہے کا نکاح نہیں ہو پاتا کہ وہ اپنی دلہن کو دیکھ سکے مگر مووی والے صاحب ہیں کہ شرعی محرم کے دیکھنے سے پہلے دلہن کو آکر اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں اور فوٹو شوٹ اپنی منشاء کے عین مطابق کروا رہے ہوتے ہیں۔

Photography

Photography

کتنا افسوس کا مقام ہے کتنا غور طلب سوال ہے کم از کم اتنا حیا تو مد نظر رکھا جائے کہ مہندی اور نکاح سے قبل فوٹو سیشن بند کرویا جائے اور یہ حق صرف دولہا کو دیا جائے کہ وہ سجی سنوری ،شرماتی ہوئی دلہن سے نکاح کے بعد سب سے پہلے خود ملاقات کا شرف حاصل کر ے اس کے بعد کیمرہ مین و دیگر کی باری آئے ۔حیا صرف آنکھوں کی ہوتی ہے یہ جملہ خواتین آپکے لئے تو ٹھیک ہے مگر نامحرم کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ کن نظروں سے آپ کو دیکھ رہا ہے آپکے پاس وہ کون سی کسوٹی ہے جس سے آپ نامحرم کی آنکھوںکے حیاء کے معیار کا تعین کر سکیں۔راقم ایسے معزز خاندانوں کو جانتا ہے جو معاشرے میں پردہ داری اور شرم حیا ء کے حوالے سے ایک سمبل کی حیثیت رکھتے ہیں مگر جب ان کے بچوں اور بچیوں کی شادیوں میں جانے کاا تفاق ہوا تو ذہن میں بنایا گیا ان خاندانوں کا خاکہ جل کر راکھ ہو گیا اور اوسان خطا ہو گئے اور اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے یہ بے بسی اور بے حسی ایک دن کی پیدا وار نہیں بلکہ عشروں سے لگایا وہ پودا ہے جو اب ثمر آور ہو رہا ہے۔آپ اپنے ٹی وی چینل کی صبح کی نشریات تو دیکھیں جو کبھی تلاوت کلام پاک سے شروع ہو ا کرتی تھیں آج ناچ گانے اور بے ہودہ بحث اور مذکرات سے شروع ہوتی ہیں خبروں میں نیوز کاسٹر خواتین کا سر کا دوپٹہ غائب ہو چکا ہے جن گھروں میں صبح صبح تلاوت کلام پاک کی بھینی بھینی خوش الحان آوازیں آتی تھیں اب ہندی گانوں کی دھنیں بجتی دکھائی دیتی ہیں۔

ہماری دادیاں اور نانیاں فجر سے قبل تہجد کے وقت اٹھ کر جب دودھ مدہانی میں ڈالتی تھیں تو پورے گھر میں درود شریف کی میٹھی میٹھی آوازیں ہمارے کانوں میں رس گھولتی تھیں اب ہمارے بچے صبح صبح اٹھ کر کر کانوں میں ٹوٹیاں لگا کر میوزک سے اپنی روح کی غذا ء حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔قارئین!ایک وقت تھا ہماری خواتین شٹل کاک برقعہ پہنتی تھیں پھر اس کی جگہ فینسی برقعے نے لے لی تو بڑا واویلا ہو ا آہستہ آہستہ فینسی برقعہ بھی اتر گیا اور اس کی جگہ چادر نے لے لی اور ایک وقت آیا کہ چادر بھی اتر گئی اور ہلکا سا دوپٹہ رہ گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ دوپٹہ سر سے گلے میں آگیا ہے ۔اور گلے سے بھی اترتا ہوا نظر آ رہا ہے اور اس طرح پہننے کیلئے بے بازو(سلیویس) لمبی قمیض آ گئی ہے۔ جس کے چاک چاک ہو گئے ہیں ایک ایک گز پھٹے ہوئے ایسے کہ چلتے ہوئے کوہلے ننگے نظر آتے ہیں جسم کا ہر پوشیدہ حصہ نمایاں نظر آتا ہے جو دعوت گناہ نہ سہی مگر بے حیائی ضرور پھیلا رہے ہیں جبکہ اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ شلوار کی جگہ جینز اور سکن ٹائٹ ٹرائوزر نے لے لی ہے ۔آجکل بازاروں میں ہماری بچیاں اور عورتیں شرم و حیاء کا پیکر نظر آنے کی بجائے بے حیائی اور بے شرمی کا ماڈل نظر آتی ہیں سوائے ان خواتین کے جن خواتین میں خاندانی شرم و حیاء یا اسلامی پردہ کے مطابق زندگی گزانے کی رمق باقی ہے ۔کہاں ہیں ان بچیوں کے والدین ،بھائی ،شوہر اور بیٹے جن کی غیرت نظر نہیں آتی ہمیں اپنی عورتوں کو مزید کتنا ننگا کرنا ہے روشن خیالی کے نام پر مزید کتنی بے حیائی چاہیے اللہ سے ڈرو اور ہوش کے ناخن لو اپنے عقیدوں کو درست کر لو اپنے اندر ایمانی جرات پیدا کرو اس پھیلتی ہوئی وبا کو ہاتھ سے رکو ورنہ وہ تو قادر مطلق ہے تمہاری جگہ کسی اور کو لے آئے گا۔

معززخواتین میک اپ کرنا ،سجنا سنورنا آپ کا حق ہے لیکن صرف شوہر کیلئے آپ کا نان و نفقہ اور اخراجات تو شوہر برداشت کرے لیکن آپ کے حسن اور زیب و آرائیش سے نامحرم کیوں محظوط ہوں۔ معزز خواتین مائوں ،بہنوں ،بیٹیوں پردہ کرو قبل اس کے کہ پردے میں چلی جائو،آو مل کر اس بے حیائی کی رفتہ یلغار کو زور بازو سے روکیں اپنے اپنے گھروں کا محاسبہ کریں اپنے گلی محلوں میں اپنے اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے شرم حیا کا پر چار کریں حکومت وقت بھی ایسے قوانین بنائے جس سے ہماری آنے والی نسلیں محفوظ ہو جائیں۔خدارا سنبھالو اپنے آپ کو بیدار کرو اپنے مُردہ ضمیروں کو جگائواس بے حیائی کی روشن خیالی کو دیس نکالا دے دو اپنی روایتی شرم و حیا کا کلچر اپنائو جس میں سب بہنوں بیٹیوں کی عزت سانجھی ہو تی ہے۔ فی زمانہ فحاشی و عریانی اور بے حیائی کے سمندر کے سامنے بندھ باندھنے کیلئے ہمیں اپنی بہن بیٹیوں اور مائوں کے سروں کو حضرت فاطمہ کی ردا اور امہات المومنین کی شرم وحیاء کا زیور پہنانا ہو گا ورنہ اس سیلاب کے سامنے ہم اپنا سب کچھ بہتا ہوا دیکھیں گے اور اسی ہر طرح بے بسی کا اظہار کر تے رہیں گے ابھی وقت ہے سنبھل جائو۔

Ch Ghulam Ghaus

Ch Ghulam Ghaus

تحریر : چوہدری غلام غوث