بندر کی عقل مندی

Snake and Man

Snake and Man

تحریر: رشید احمد نعیم۔ پتوکی
ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا ۔ سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا۔ باہر آتے ہی سانپ نے کہا کہ” میں تمہیں ڈسوں گا”۔

اس شخص نے کہا کہ” میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو؟؟؟”۔ َ سانپ نے کہا کہ” ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے” ۔اس آدمی نے کہا کہ” چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں” ۔چلتے چلتے ایک گائے کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ” واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے”۔

Monkey

Monkey

یہ سن کرسانپ نے کہا کہ” اب تو میں ڈسوں گا ”اس آدمی نے کہا کہ” ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں ”۔ سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا ۔ گدھے نے بھی یہی کہا کہ” نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا”۔سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کرکے کہاکہ” ایک آخری موقع اور دو ”، سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا ، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سنا کر کہا کہ فیصلہ کرو۔۔

اس نے آدمی سے کہا کہ” مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو ۔سانپ کو اندر پھینکو اور پھر میرے سامنے باہر نکالو ۔ اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا”۔وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے۔ آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ” اس کے ساتھ نیکی مت کر ، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں”۔یوں بندر کی حاضر جوابی اور معاملہ فہمی کی بدولت اس انسان کی جان بچ گئی۔

Rasheed Ahmad Naeem

Rasheed Ahmad Naeem

تحریر: رشید احمد نعیم۔ پتوکی
حبیب آباد پریس کلب پتوکی
03014033622
rasheed03014033622@gmail.com