شجاع خانزادہ کی خودکش حملہ میں شہادت اور ایک گذارش

Shuja Hanzada

Shuja Hanzada

تحریر : محمد صدیق پرہار
قوم کو صدمہ پر صدمہ برداشت کرناپڑرہا ہے۔ایک صدمہ کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہوتے کہ قوم کوایک اورصدمہ سے دوچارہوناپڑجاتا ہے۔ ابھی قصورمیںسامنے آنے والے بداخلاقی کے سکینڈل کاصدمہ ابھی تازہ ہی تھا کہ اٹک میں خودکش حملہ میں وزیرداخلہ پنجاب کرنل (ر) شجاع خانزادہ سمیت انیس افرادکی شہادت نے قوم کوایک نئے صدمہ سے دوچارکردیا ہے۔شجاع خانزادہ ٹک کے گائوں شادی خیل میں اپنے ڈیرے پرکھلی کچہری میں لوگوں کے مسائل سن رہے تھے کہ مہمان کے روپ میںآنے والے دہشت گردنے خودکودھماکے سے اڑالیا۔بتایا گیا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ڈیرے کی کنکریٹ کی چھت زمین بوس ہوگئی۔اس خودکش دھماکے کے بعد ملک بھرکی فضاسوگوارہوگئی۔ملک کو امن وامان گہوارہ بنانے اوردہشت گردوںکوختم کرنے کی کوششوںمیں کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی خدمات کودیرتک یادرکھاجائے گا۔انہوںنے پاکستان کے امن کے خلاف سازشیں کرنے والوںکوبھی بے نقاب کیا تھا۔شجاع خانزادہ اٹھائیس اگست ١٩٣٤ ء کواٹک کے گائوں شادی خان میں پیداہوئے ۔١٩٦٦ء میں اسلامیہ کالج سے گریجوایشن کرکے ١٩٦٧ء میں پاک آرمی میںکمیشن حاصل کیا۔

شجاع خانزادہ نے ١٩٧١ء کی پاکستان اوربھارت کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں بھی حصہ لیا جس میں اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ کرنے پرانہیں تمغہ بسالت سے بھی نوازاگیا۔ ١٩٨٣ء میں سیاچن کے محاذپرپہنچنے والے اولین دستے میں شامل تھے۔١٩٩٢ء سے ١٩٩٦ء تک امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی کے منصب پربھی فائزرہے۔پنجاب انسداددہشت گردی کے محکمے کے قیام فورس کی تشکیل اوراہلکاروںکی تربیت میں انہوںنے اہم کرداراداکیا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوںکی بزدلانہ کاروائیاں ہماراعزم متاثرنہیںکرسکتیں۔ہماراحوصلہ بلندہے۔قوم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔آرمی چیف نے کہا کہ شجاع خانزادہ ایک بہادرافسرتھے۔پاکستان کودہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ان کی قربانی رائیگاںنہیںجائے گی۔آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف نے انٹیلی جنس ایجنسیوںکوواقعہ کی تحقیقات کرنے اورمجرموںتک پہنچنے کاٹاسک دے دیا ہے۔

صدرمملکت ممنون حسین نے دہشت گردحملے میں پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ سمیت پندرہ افرادکی شہادت پرگہرے دکھ کا اظہارکیا ہے اوردہشت گردوں کوخبردارکیا ہے کہ ان کی بزدلانہ کارروائیاںحکومت اورریاستی اداروںکودہشت گردی کے خلاف کارروائی سے نہیں روک سکتیں۔کرنل شجاع خانزادہ کی شہادت پراپنے تعزیتی پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ شہیدکرنل شجاع خانزادہ دلیراورمحنتی سیاسی کارکن تھے۔جنہوںنے ہمیشہ عوام کی خدمت اوربہبودکے لیے کام کیا۔وزیراعظم نوازشریف نے اپنے ایک بیان میںکرنل (ر) شجاع خانزادہ کی شہاددت پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیاہے۔ان کاکہناتھا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کوہرصورت کامیاب بنائے گی۔شجاع خانزادہ کی شہادت سے دہشت گردی کوجڑسے اکھاڑنے کاپیغام ملا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ دہشت گردوںکوان کی کمین گاہوں سے ڈھونڈ کرختم کریں گے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے آخری دہشت گردکے خاتمے تک اپنا کام جاری رکھیں۔

Shahbaz Sharif

Shahbaz Sharif

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے ایک بیان میںکہاہے کہ صوبائی وزیرداخلہ کی شہادت سے ملک سچے پاکستانی اوروطن پرجان چھڑکنے والے سیاستدان سے محروم ہوگیا ہے۔ان کاکہناتھا کہ میںکرنل (ر) شجاع خانزادہ کی شہادت کے صدمے کواپنے الفاظ میں بیان کرنے سے قاصرہوں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانی رائیگاںنہیںجائے گی۔پنجاب کابینہ کے خصوصی تعزیتی اجلاس کے دوران صوبائی وزیرداخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہید کی خدمات کے ذکرپروزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف ،صوبائی وزرائ،مشیران، معاونین خصوصی،چیف سیکرٹری، انسپکٹرجنرل پولیس،چیئرمین منصوبہ بندی وترقیات اورسیکرٹری داخلہ آبدیدہ ہوگئے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف کی آوازبرآئی اوران کی آنکھیںنم ناک ہوگئیں۔انتہائی ہردلعزیزرفیق کارکے بچھڑنے کے صدمے سے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اورکابینہ کے اراکین کے چہروںپراداسی اوردکھ کے اثرات نمایاں تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک موقع پرکہا کہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہیداپنے نام کی طرح شجاعت اورجراء ت کے پیکرتھے اورانہوںنے اس کوامربھی کردکھایا۔شجاع خانزادہ شہیدکے لیے وفاقی حکومت سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ کی سفارش کروںگا۔میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویزرشیدنے کہا کہ شجاع خانزادہ پرحملے کے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔وہ عظیم سپوت تھے۔ایسی کارروائیوں سے ہماراعزم کمزورنہیںہوسکتا۔

بلکہ اس سے دہشت گردوںکے خلاف عزم میں اضافہ ہوتا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدرآصف علی زرداری نے کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے ڈیرے پرخودکش حملے کی سخت ترین مذمت کی ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں سابق صدرنے کہا کہ اس بزدلانہ اوربہیمانہ حملے کی مذمت کے لیے کوئی بھی الفاظ کافی نہیں۔یہ حملہ دم توڑتے ہوئے دہشت گردوںکی جانب سے حملہ ہے۔اورایسے بزدلانہ حملے قوم کودہشت گردی کے خلاف جنگ کوآخری حدتک جاری رکھنے سے نہیں روک سکتے۔سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، جاویدہاشمی نے بھی کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی شہادت پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیاہے۔کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی شہادت پرپنجاب حکومت نے تین روزہ، جبکہ بلوچستان اورآزادکشمیرکی حکومتوںنے ایک ایک روزہ سوگ منایا۔امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میںکہاگیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستانی عوام اورحکومت کی کوششوں کے ساتھ ہیں۔شجاع خانزادہ پرحملے میںملوث افرادکوانجام تک پہنچانے کے لیے پاکستانی عزم کی حمایت کرتے ہیں۔اوراس وحشیانہ عمل کی تحقیقات کرنے والے حکومتی اداروںکودرخواست کرنے پرتعاون فراہم کرنے کے لیے تیارہیں۔صوبائی وزیرداخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہیدکے بیٹے جہانگیرخانزادہ نے کہا ہے کہ میرے والدشہیدنے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کرکے دہشت گردوںکوواضح پیغام دیاکہ ہم پاکستان میںامن کی خاطرکسی بھی قربانی سے دریغ نہیںکریں گے۔

میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا میں اپنے والدکے مشن کوجاری رکھوںگا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے شجاع خانزادہ اوردیگرافرادکی شہادت پررنج وغم کااظہارکیاہے۔ جماعت اہلسنت پاکستان ضلع لیہ کے سرپرست مفتی احمدرضااعظمی،صدرپیرسیّدغوث محمدگیلانی، نائب ناظم قاری محمدبنیامین چشتی سرپرست جماعت اہلسنت تحصیل لیہ علامہ منیراحمدنظامی، صدرپروفیسر احمدرضااعظمی، نائب صدرسیّد رشیداحمد شاہ، جنرل سیکرٹری غلام فریدقادری، نائب ناظم علامہ محمدیامین باروی، ناظم مالیات ڈاکٹرمشتاق حسین قادری،ناظم اطلاعات محمدصدیق پرہار،پریس سیکرٹری محمدشریف قادری ،تنظیم آئمة المساجدجماعت اہلسنت کے سرپرست صاحبزادہ خواجہ احمدحسن باروی، صدرقاری بنیامین چشتی،سینئرنائب صدرمولاناگل محمدباروی، نائب صدرمولانامشتاق احمد نقشبندی، جنرل سیکرٹری مولانامظفرحسین باروی،جوائنٹ سیکرٹری علامہ محمد نوازنورانی، پریس سیکرٹری محمدصدیق پرہارنے کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی شہادت پرگہرے دکھ اورافسوس کااظہارکرتے ہوئے دعاکی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہدائے اٹک کے درجات بلندکرے اورپاکستان کوامن کاگہوارہ بنائے۔

Terrorist

Terrorist

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بننے کے نتیجہ میںپاکستان کوبھاری جانی ومالی نقصان برداشت کرناپڑاہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ اتحادی ممالک نے افغانستان میںلڑی جبکہ اس کے ردعمل اوراثرات پاکستان کوبرداشت کرنے پڑے۔بم دھماکوں، خودکش حملوں کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگئے۔پاکستان میں دہشت گردوںکوختم کرنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ جوکہ مغربی ممالک کے کہنے پرشرو ع کی گئی تھی۔اب یہ پاکستان کی اپنی حکمت عملی کے تحت آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔دہشت گردوںکوختم کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسزنے پاکستان کے قبائلی علاقوں میںمختلف آپریشن کیے۔ان آپریشنزکے نتیجہ میںملک بھرمیںدہشت گردوں کے حملوںمیںتیزی آجاتی۔ ایک ایک دن میں ایک سے زیادہ شہروںمیں بھی دھماکے ہوچکے ہیں۔امن دشمن عناصرسے مذاکرات کے ذریعے ملک میںامن بحال کرنے کی کوششوں کے دوران پاکستانی فوج کے جوانوں کے سفاکانہ قتل کی ویڈیوسامنے آنے کے بعددہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کاآغازکردیاگیا۔پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب کی حکمت عملی خودترتیب دی۔ جس میں انہیںکامیابی بھی ملی۔دہشت گردوںکے ٹھکانوںکوتباہ کیاگیا۔ان کے اسلحے کے ذخائرتباہ کردیے گئے۔آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعدملک میں دہشت گردی کے واقعات میںنمایاںکمی دیکھنے میں آئی۔

عوام نے ابھی چین کاسانس لیناشروع ہی کیاتھا کہ پشاورمیں آرمی پبلک سکول پردہشت گردوں کے حملوںنے پوری قوم کوصدمہ سے دوچارکردیا۔جس کے بعد آپریشن ضرب عضب میں تیزی لائی گئی۔اس کے بعدبھی دہشت گردی کے واقعات میںکمی دیکھنے میںآئی۔ابھی عوام نے چین کاسانس لیناشروع کیاہی تھا کہ یکے بعددیگرے دوسانحات نے عوام کوپھرصدموںسے دوچارکردیا۔قصورمیںسامنے آنے والے بداخلاقی کے سیکنڈل کاصدمہ ابھی تازہ ہی تھا کہ قوم کواٹک میں صوبائی وزیرداخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ سمیت سولہ افرادکی شہادت نے اورزیادہ صدمہ سے دوچارکردیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میںفیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کی کامیابی ہے کہ دہشت گردوںکی کمرٹوٹ چکی ہے۔ان کاانفراسٹرکچرتباہ ہوچکا ہے۔

ہزاروں دہشت گردضرب عضب میںمارے جاچکے ہیں۔اٹک میں کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی خودکش حملہ میں شہادت سے یہ پیغام ملاہے کہ دہشت گرداب بھی ملک میںموجودہیں۔ ایک نیوزچینل کے پرگرام میں بتایا گیا کہ مطابق اٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سے زیادہ تنظیموںنے مل کرکیا ہے۔اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دہشت گردتنظیمیں اب تنہاایسی کارروائیاںکرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردتنظیمیں نہ صرف پھرسے کارروائیاںکرنے لگ گئی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کررہی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کواپنی حکمت عملی دہشت گردتنظیموںکے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے تناظرمیں پھرسے ترتیب دیناہوگی۔اگریہ رپورٹ حقیقت پرمبنی ہے تواسی تناظرمیں ایک حکمت عملی ہمارے پاس بھی محفوظ ہے۔جواس تحریرمیںنہیں لکھی جاسکتی۔کوئی حکومتی شخصیت، انتظامی افسران، اورخفیہ ایجنسیوں کے اہلکارہم سے تنہائی میںملاقات کریں تویہ حکمت عملی ہم ان کواس شرط پربتاسکتے ہیں

Nawaz Sharif and Raheel Sharif

Nawaz Sharif and Raheel Sharif

حکمت عملی من وعن آرمی چیف اوروزیراعظم تک پہنچادی جائے گی۔اٹک میںخودکش حملہ کے بعدآپریشن ضرب عضب میں پھرسے تیزی آگئی ہے۔روزانہ درجنوں دہشت گردمارے جارہے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کوابھی جاری رہناہے۔اٹک میں حالیہ خودکش حملوںسے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اگرچہ آپریشن ضرب عضب میں ہزاروںدہشت گردمارے جکاچکے ہیں تاہم بہت سے دہشت گردملک میں اب بھی موجودہیں۔جواپنی کارروائیاںکرنے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ملک بھرمیں سرچ آپریشن کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے بھی سرچ آپریشن میں بہت سے غیرملکی اوردہشت گردپکڑے جاچکے ہیں۔ملک سے دہشت گردوںکے خاتمے کے لیے سیاسی وعسکری قیادت اورعوام متفق ہیں۔پاکستان سمیت دنیابھرمیں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں سے ہاتھ جوڑکرگذارش ہے کہ اگروہ مسلمان ہیں،

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اوررسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت وختم نبوت پرایمان ویقین رکھتے ہیں تویہ بات بھی جانتے ہیں کہ ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کاقتل ہے۔شریعت کے قانون اوردنیاکے کسی بھی قانون میں قاتل سمیت کسی بھی ملزم یامجرم کوازخودسزادینے کی ہرگزاجازت نہیں ہے۔جب کوئی شخص شریعت وملکی قوانین کے مطابق اپنے کسی بھی رشتہ داریادوست وغیرہ کے قاتل کوخودسزانہیں دے سکتا۔اسے قانون کادروازہ کھٹکھٹانا ہوتا ہے۔ ملزم کوجرم ثابت ہونے پرسزادینے کاحکم سناناعدلیہ کاکام ہے۔توبے گناہ افرادکوقتل کردینا اورخودبھی ہلاک ہوجاناکس قانون ، اصول اورضابطہ کے تحت جائزہوسکتا ہے۔

اس لیے ایسی کارروائیاںکرنے والے اگرخودکومسلمان کہتے اورسمجھتے ہیں توان سے ہاتھ جوڑکرگذارش ہے کہ وہ بیگناہوں کاقتل عام کرنابندکردیں کیونکہ انہوںنے اللہ تعالیٰ کواپنے اعمال کاحساب بھی دینا ہے۔وہ خودبھی پرامن ہوجائیں اورملک کوبھی پرامن بنانے میں حکومت اورریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ان کوکسی بھی شخصیت یاادارہ کے خلاف کوئی شکایت ہے تووہ قانونی راستہ اختیارکریں۔اگروہ ایسا کرلیں تویہ ان کاملک وقوم پراحسان ہوگا۔

Siddique Prihar

Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com