مائیکل جاوید، کچھ یادیں کچھ باتیں،

Michael Javed

Michael Javed

تحریر: واٹسن سلیم گلِ، ایمسٹرڈیم
پاکستانی مسیحی سیاستدان ، سندھ اسمبلی کے رکن جناب مائیکل جاوید گزشتہ دنوں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ مسیحی کمیونٹی میں مائیکل صاحب ایک پڑھے لکھے سیاستدان تھے اور اپنے شائتہ لب و لحجہ کی وجہ سے ہر دل عزیز تھے۔ ویسے تو بنیادی طور پر ان کا تعلق کوئٹہ سے تھا مگر وہ زمانہ طالب علمی سے ہی کراچی شفٹ ہو گئے تھے اور کراچی کی سب سے بڑی مسیحی بستی عیسٰی نگری میں ان کی رہائیش تھی۔ اسی عیٰسی نگری میں ان کا اپنا اسکول بھی تھا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جس زمین پر ان کا اسکول تھا وہ کیھتولک چرچ کی جایئداد تھی اب اس میں کتنا سچ تھا یہ مجھے معلوم نہی ہے۔ میری ان سے پہلی ملاقات شائد 84 یا 85 میں ہوئ تھی جب ہم چند مسیحی طالب علم سیاسی نظریات مضید مستحکم کرنے کے لئے مائیکل جاوید صاحب سے ملے ہم اس میٹینگ میں بھی شامل ہوئے جس میں مائیکل صاحب نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان مینورٹی فرنٹ کا ڈھانچہ پیش کیا وہ ہمارے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔

ہاں ہمارا ان سے اکثر یہ سوال رہتا تھا کہ عیئسی نگری کے دو بیٹے سندھ اسمبلی میں ہیں مائیکل صاحب کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ایک اور رکن سندھ اسمبلی جناب سلیم خورشید کھوکھر کا گھر تھا مگر اس بستی کے حالات ٹھیک نہی تھے بہت سے بچے اسکول نہی جاتے تھے۔ بہت سے نوجوان بے روزگار تھے۔ ان سوالوں کا مائیکل صاحب کے پاس کوئ جواب نہی تھا۔ مگر ہم ان کے ساتھ تھے۔ ہمارے راستے ان سے اکانوے ، بانوے کے الیکشن کے دوران جدا ہوئے جب میرے دو دوستوں کو ان کے الیکشن آفس کے باہر چند دہشتگردوں نے گولیاں ماری مگر فرار بھی نہی ہوئے۔ (میں یہاں فرضی نام استمال کرونگا) یہ اکانوے، بانوے کی بات ہے جب کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ، ناتھہ خان گوٹھ، ال حیدر سوسائٹی وغیرہ ایک نام نہاد اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے قبضے میں تھے۔ اس کا تعلق سندھ کی سب سے بڑی جماعت سے تھا یہ اسٹوڈنٹ وینگ دو حصوں میں تقسیم تھا۔

Michael Javed

Michael Javed

ان کے درمیان کراچی پر قبضے کی جنگ جاری تھی۔ ڈرگ روڈ سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا مُنا (فرضی نام) اس وقت بلندی پر تھا۔ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی یہ ہے کہ اگرآپ کسی تعلیمی ادارے میں کسی سیاسی جماعت کے وینگ کا حصہ ہیں اور آپ مافیا نہی ہیں یا آپ کا رُعب اور دبدبہ نہی ہے تو آپ کامیاب نہی ہیں۔ منُا جیل سے چھوٹ کر آیا تھا اور اس کے ساتھ چند ایسے دوست بھی تھے جو کہ انتہائ خطرناک تھے۔ قبضے کی اس جنگ میں منُے کو ایک شادی ہال میں قتل کر دیا گیا۔ یہ وہی دور تھا کہ ہم سب جاوید مائیکل کی الیکشن ریلی کا حصہ تھے اور ہم سینکڑوں لوگوں کے ساتھ ڈرگ روڈ میں داخل ہوئے تو مزکورہ سیاسی جماعت کے اسٹوڈنٹ وینگ کے کچھ لڑکے ایک کار میں گزر رہے تھے ان کی کار ہماری ریلی میں کچھ دیر کے لئے پھنس گئ جس پر ان کی اور مائیکل جاوید کی ریلی میں شریک نوجوانوں میں تلخ کلامی ہوئ۔ ریلی ڈرگ روڈ کے الیکشن آفس پہنچی ۔ میں بعد میں اپنے گھر چلا گیا ابھی شام ڈھلی ہی تھی کہ کچھ دوست گھر پر آیے اور بتایا کہ ہمارے دو دوست الیکشن آفس کے باہر کھڑے تھے کہ حکومتی سیاسی جماعت کے غنڈے آئے اور ہمارے دوستوں کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ ان کو جناح ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ میں اسی وقت گھر سے نکل کر جناح ہسپتال روانہ ہو گیا ساتھ میں کچھ اور دوستوں کو بھی لیا کہ شائد خون کی ضرورت پڑ جائے۔ مائیکل جاوید صاحب بھی پہنچ گئے۔ ہم سب نوجوان نہایت غم اور غصے میں تھے۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ ان غنڈوں کے خلاف سخت ایف آئ آر کٹوائ جائے۔

تھوڑی دیر بعد ہسپتال کے ایم ایل او نے مائیکل صاحب کو آفس میں بلایا تو میں اور چند دوست بھی ساتھ چلے گئے۔ آفس میں ہم نے زاہد (ادھا نام) کو دیکھا جو کہ بہت معروف اور طاقتور تھا۔ اس کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہو کہ وہ قانونی طور پر جیل میں تھا۔ مگر اپنے لڑکوں کو سپورٹ کرنے کے لئے جیل سے چند گھنٹوں کے لئے باہر آیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایم ایل او کی کرسی پر اکڑ کر بیٹھا ہے اور سب لوگ ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑے تھے جن میں مائیکل جاوید بھی تھا۔ اس کے سامنے تو کوئ نہی بولا مگر سب لڑکوں کے دباؤ پر ایف آئ آر کٹ گئ۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ دونوں نوجوان بچ تو گئے مگر ایک کی ماں اپنے بیٹے کی حالت کو دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور وہ انتقال کر گئ۔ وہ دونوں ٹھیک تو ہو گئے مگر مائیکل جاوید صاحب نے ان کو مقدمے لڑنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا۔ میں گواہ ہوں کہ وہ بہت عرصے تک بہت دلیری کے ساتھ ان خطرناک غنڈوں کے خلاف مقدمہ لڑتے رہے اس دوران ان کے گھروں پر بھی شدید فائرینگ ہوئ۔ ان کو خوفزدہ کیا جاتا رہا۔ مگر کہتے ہیں کہ جن کو انسان انصاف نہی دیتا ان کو انصاف خدا کی عدالت سے ملتا ہے۔

Murder

Murder

مُنا اپنی فیملی کی شادی میں موجود تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش کو جب ہسپتال پہنچایا گیا تو اس وقت کے وزیراعلی کی ایک خاتون مشیر جو کہ اسی تنظیم کے خاتون وینگ کی انچارج بھی رہی تھی۔ اور بعد میں ڈپٹی سپیکر سندھ بھی رہیں تھی وہ بھی وہاں موجود تھیں۔ مُنے کے جنازے میں زاہد افسوس کے لیے آیا تو مُنے کے ساتھی محسن نے اسے بھرے جنازے میں سے گھسیٹ کر بار نکالا گاڑی میں ڈالا اور ناتھہ خان گوٹھ کے چوک میں سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں قتل کر دیا ان کو یہ شک تھا کہ زاہد نے مُنے کو قتل کروایا ہے۔ یہ وہی زاہد تھا جس کا طوطی کراچی میں بولتا تھا اور جو جیل سے غیرقانونی طور پر باہر آکرایم ایل او کی کرسی پر بیٹھا تھا۔

مُنے کے قتل کے بعد یہ غنڈہ ٹیم اتنی خطرناک ہو چکی تھی کہ ان علاقوں میں ان سے کوئ محفوظ نہی تھا۔ ان کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ ہم نے ان علاقوں میں پولیس کو کبھی نہی دیکھا تھا۔ پولیس کو اجازت ہی نہی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ خفیہ پولیس کے پانچ افسر ڈائیو ٹیکسی میں ان علاقوں میں داخل ہوئے تو صبح ایدھی والے ان کی لاشیں اٹھا رہے تھے۔ محسن کے غصے کا یہ عالم تھا کہ اس وقت چنیسر گوٹھ کا معروف مافیا اور منشیات فروش پرویز عرف پیجا جو کہ محسن کا دوست بن چکا تھا اسے محسن نے چھوٹی سے بات پر قتل کر دیا۔ ڈرگ روڈ بازار میں ایک پولیس والے کو جو یہاں کا رہایشی تھا اس لئے قتل کر دیا کہ اس نے محسن کو نظر بھر کے کیوں دیکھا۔ اسی طرح محسن اور اس کے گروپ نے بازار میں ایک شخص کو دن دہاڑے قتل کر دیا ان کو معلوم نہی تھا کہ وہ ایئر فورس کا ملازم تھا۔ اسی کا قتل اس ان کے لئے موت کا پیغام بن گیا۔ پھر جس ڈرگ روڈ میں نہ کبھی کرفیو دیکھا تھا نہ ہی فوج دیکھی تھی۔ فوج نے چار دن تک اس علاقے کو گھیرا اور اس خطرناک گروپ کو کیفرکردار تک پہنچایا۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کے سیکنڑوں نہی بلکہ ہزارو گواہ ہیں اور بہت سے واقعات کا میں خود گواہ ہوں۔ ان خوفناک حالات کی ایک تفصیلی رپورٹ کبھی پیش کرونگا جس پر ایک زبردست فلم بن سکتی ہے۔

Watson Gill

Watson Gill

تحریر: واٹسن سلیم گلِ، ایمسٹرڈیم