سندھ میں رینجرز اختیارات کا مسئلہ حل کریں ورنہ

Sindh Rangers Options

Sindh Rangers Options

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
لو بھئی … !! سندھ حکومت کی جانب سے وفاق کو رینجرز اختیارا ت کے حوالے سے بھیجی گئی سمری مسترد کئے جانے کے بعد تو اَب اِس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باق نہیں رہ گئی ہے کہ سندھ حکومت اور وفاق میں رینجرز اختیارات کا معاملہ گھمبیر سے گھمبیرتر ہوتاچلاجارہاہے اوراَب جیسے جیسے دن آگے بڑھتے جارہے ہیں وفاق اور سندھ حکومت میں رینجرزاختیارات کا تنازع وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آمریت کی اُس گہری اور اندھیری کھائی میں گرتاہوانظرآنے لگا ہے جس میں گر کر دونوں کو یہ احساس ہوگا کہ دونوں نے ہی اپنی بے مقصد کی ضد اور انا کی وجہ سے نہ صرف اپنابلکہ مُلک اور قوم کابھی وہ عظیم نقصان کردیا ہے اَب جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے اور ہمیشہ کی طرح جس کا خمیازہ مُلک اور قوم کو ہی بھگتنا ہوگا پھرتب دونوں(وفاق اور سندھ) کے حصے میں سوائے پچھتاوے اور افسوس کہ کچھ بھی نہیں آئے گا۔

بہرکیف ..!! قبل اِس کے کہ ایسی کوئی نوبت آئے اِس پر سندھ اور وفاق کو ” آو ¿ لڑائی لڑائی معاف کریں ،مل کر سب سندھ میں رینجرز اختیارات کا مسئلہ حل کریں“ کے کُلیے پرعمل کرناچاہے اورایک دوسرے کو اپنی اپنی ضد اور اَنا کو بالائے طاق رکھ کر یہ سوچنا چاہئے کہ یہ وہی کام کریں جس میں کسی کے ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے خالصتاََ مُلک اور قوم کے لئے مفادات اور فوائدعزیز ہوں۔

اَب اِس منظر اور پس منظر میں حکومتِ سندھ کو بھی رینجرز اختیارات کا معاملہ اتنانہیں اُلجھانا چاہئے کہ بات اتنی دور تک چلی جائے کہ جہاں سے واپسی کا راستہ ہی ممکن نہ رہے اور وفاق کو بھی چاہئے کہ اگر سندھ حکومت واپسی کا راستہ بھٹک گئی ہے تو وہ اِسے سمجھائے کہ آج اگر وہ کرپٹ عناصر کو بچانے کے لئے سینہ تان کر کھڑی ہوگئی ہے اور یہ کسی کو بچانے کے لئے کوئی ایسی ویسی قرارداد بھی پیش کرنے سے دریغ نہیں کررہی ہے تو وہ غلط کررہی ہے۔

Sindh Government

Sindh Government

آج سندھ حکومت کو یہ بتانا اور سمجھانا بہت ضروری ہوگیاہے کہ ڈاکٹر بھی اُسی جگہہ کا آپریشن کرتاہے مریض کے جسم کے جس حصے میں کینسر ہوتاہے وہ کینسر کو چھوڑ کر مریض کے کسی دوسرے صحت مند حصے کا کبھی بھی آپریشن نہیںکرتاہے ،آج اگر سندھ میں مُلک کو تباہ کردینے والے کرپٹ عناصر موجود ہیں تو اِن کینسر جیسے کرپٹ عناصر کا سندھ ہی میں رینجرز آپریشن بھی کرے گی اور اِ نہیں جڑسے ختم بھی کرے گی اور اگر سندھ کے علاوہ ایسے ہی کرپٹ عناصر جو مُلک اور قوم کو کینسر کی طرح تباہ کررہے ہیں پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان سمیت وفاق میں بھی موجود ہوئے تو پھربیشک یہاں بھی رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اِن کے خلاف بھی اُسی چابکدستی سے آپریشن کریںگے آ ج جیسا سندھ کے کرپٹ عناصر کے خلاف سندھ میںآپریشن کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ، وفاق نے سندھ میںر ینجرز اختیارات کو محدود کرنے کے حوالے سے سندھ اسمبلی سے منظورکی جانے والی قرارداد کی بھیجی گئی سمری کو مسترد کردیاہے جس کے بعد سندھ حکومت اپنے مقاصد میں بُری طرح سے ناکام ہوگئی ہے اور سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات کو محدود کرنے کے لئے اپنی جاری کوششوں میں اتنا کچھ کرنے اور کئی سخت ترین پاپڑ بیلنے کے بعد بھی خالی ہاتھ رہی ہے اورپھر اِس کے حصے میں سندھ کی طرح وفاق سے بھی کچھ نہیں آیاہے … اِس طرح سندھ حکومت جو پہلے ہی رینجرز اختیارات کو سندھ میں اپنی مرضی کے مطابق محدود کرنے کے حوالے سے اپنے ہی صوبے میں تنہا تھی اور اَب وہ وفاق میں بھی اپنے بے مقصد کے موقف بھیجی جانے والی سمری کے مسترد کئے جانے کے بعد یکدم اکیلی کھڑی ہے۔

اَب جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اسلام آباد میںاپنی زیرصدارت منعقدہ ایک اہم ترین اجلاس میں سندھ میں رینجرز اختیارات کو محدود کرنے کی سندھ حکومت کی وفاق کو بھیجی گئی سمری کومسترد کرتے ہوئے سندھ میں رینجرز کو مکمل اختیارات کے ساتھ 60دنوں(2ماہ) کی توسیع دے دی ہے ، اِس پر سندھ حکومت کواپنا کلیجہ چاک کرنے ، صفِ ماتم بچھانے ، آگ بگولہ اور سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اِس موقع پر تو سندھ حکومت کے کرتادھرتاو ¿ںکو سرجوڑ کربیٹھنے اور اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ یہ سوچیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کیا اور کون کون سے کیسے عوامل ہی ں…؟؟جن کی بنیاد پر وفاق نے اِن کی بھیجی گئی سمری یکسر مسترد کردی ہے اور وفاق نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سندھ میں رینجرز کو مکمل اختیارات کے ساتھ آناََ فاناََ دوماہ کی توسیع بھی کردی ہے۔

Rangers

Rangers

آج سندھ میں حکومتِ سندھ کا رینجرز کے محدود اختیارات دیئے جانے کے حوالے سے حالات اور واقعات کی روشنی میں صورتِ حال کو الجھائے جانے پر خاص و عام کا خام اور قوی خیال یہی ہے کہ یقینا سندھ حکومت کا کوئی نہ کوئی ایسا پوشیدہ معاملہ ضرور ہے جس پر کاربند رہ کر یہ ایسا کررہی ہے یاسندھ حکومت رینجرز اختیارات کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق محدود کرکے (ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد کرپشن ، دہشت گردی ، بھتہ خوری، اغواءبرائے تاوان، بہت سے مُلکی طویل اور قلیل ترقیاتی منصوبوں پر پرسنٹیج لینے والی اپنی جماعت کی اہم شخصیات اور دہشت گردوں کے سہولت کاروںجیسے گھناو ¿نے جرائم و کرائم میں ملوث بیرونِ اور اندرونِ مُلک میں بیٹھے اپنے کسی) ایک بڑے یا کئی بڑوں اور چھوٹوں کو ضرور بچانا چاہ رہی ہے۔

آج سندھ حکومت سندھ میں رینجرز کے اختیارات محدود کرکے جن کی پردہ پوشی رکھنے کے لئے طرح طرح کے جتن بھی کررہی ہے اور بھڑکیاں مارنے والی ایسی زبانیں(”وفاق کو جو کرناہے کرکے دیکھ لے“ وفاقی وزیرصرف پریس کانفرنس میں بھڑکنا جانتے ہیں،بات بڑھے گی ہے،سندھ پر حملہ ہے،مرکز نے حدسے تجاویز کیا،کیا ویزراعظم مُلک کے بادشاہ ہیں، مرکز صوبے پر حکم نہیں چلا سکتا ©، راجہ پورس کے ہاتھیوں کا سندھ پر حملہ ہے ، وفاق نے سندھ حکومت کی سمری مسترد کرکے کاری ضرب لگائی ہے “)استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہی ہے حتیٰکہ ایسے میں اِسے یہ بھی پروانہیں ہے کہ اِس کے اِس طرح کرنے سے خود سندھ حکومت اورپی پی پی کی نہ صرف مُلک بلکہ بیرونِ مُلک بھی کتنی ساکھ خراب ہورہی ہے اور اِس کی اِس قسم کے اقدامات اور وفا ق کے خلاف زبانیں استعمال کرنے سے سارے مُلک اور دنیا بھرمیں بھی( شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد) اِس کاتھوڑابہت بنابنایا سارا امیج بگڑ گیاہے۔ مگر اِس سے بے خبرسندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی والے مرغے کی ایک ٹانگ والی ضد پر اڑ کر سندھ میں کرپٹ عناصر کو بچانے کے لئے رینجرز اختیارات کو محدود کرنے کے لئے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی سینہ سپرہوکر لڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔(ختم شد)

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com