سپین بھر میں یکم اکتوبر وفات شدگان کے دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ زاہد مصطفی اعوان

Graves

Graves

پیرس (نمائندہ خصوصی) سپین بھر میں یکم اکتوبر کو وفات شدگان کے دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ جس میں شہری قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں اور قبروں کی صفائی اور ان پر پھول پیش کرتے ہیں۔

2015 میں سپین بھر میں 4.22.276 افراد خالق حقیقی کو جا ملے تھے۔ جو کہ 1941 کے بعد ایک سال کے بعد سب سے بڑی تعداد میں اموات ہیں۔ اور گذشتہ سال کی نسبت 6.7 فیصد زیادہ ہیں۔

اس سے قبل سب سے زیادہ اموات 1936 سے 1939 کے دوران سپین کی خانہ جنگی کےدوران ہوئی تھیں۔ جب تقریبا 5 لاکھ افراد تین سال میں جان کی بازی ہار گئےتھے۔ 1936 میں سپین کی آبادی سکڑ کر 2 کروڑ 40 لاکھ افراد رہ گئی تھی۔جبکہ بیسویں صدی کے آغاز پر یہ آبادی 2 کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔

سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق اگلے پچاس سالوں میں سپین بڑھوں کے ملک میں تبدیل ہو جائے گا۔ جب ہر تین میں سے ایک یعنی 54 لاکھ شہری 65 سال سے زائد عمر کے ہوں گے۔ اور سپین کی آج کی آبادی 4 کروڑ 64 لاکھ سے کم ہو کر 2066 میں 4 کروڑ 10 لاکھ رہ جائے گی۔

2015 میں سپین میں بزرگ شہری کل آبادی کا 18.7 فیصد ہیں۔ اور 2066 میں یہ کل آبادی کا 34.6 فیصد ہو جائیں گے۔