سری نگر: شدید مظاہرے، عسکریت پسندوں کے حملے میں چھہ پولیس والے ہلاک

Protestors

Protestors

سری نگر (جیوڈیسک) جمعرات کی شام گرمائی دارالحکومت سرینگر کے مضافات میں واقع رنگریٹھ علاقے میں بھارتی حفاظتی دستوں کی طرف سے مظاہرین پر کی گئی فائرنگ میں ایک 22 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے ساتھ ہی وادیِ کشمیر میں ایک بار پھر کشیدگی بھڑک اٹھی ہے۔

جمعے کے روز صورتِ حال اُس وقت مزید ابتر ہوگئی جب جنوبی ضلع اننت ناگ کے آرونی گاؤں کے ایک نجی گھر میں موجود ایک معروف عسکری کمانڈر اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف شروع کئے گئے فوجی آپریشن کے دوران ایک ہجوم پر کی گئی فائرنگ میں دو مقامی نوجوان ہلاک اور کئی دوسرے شہری زخمی ہوگئے۔

اِن پُر تشدد واقعات کے بعد، مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر میں کئی مقامات پر عوامی مظاہرے کئے گئے جن کے دوران پتھراؤ کرنے والے ہجوموں پر حفاظتی دستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

علاقے میں ٹرین سروسز جزوی طور پر معطل اور ’تھری جی‘ اور ’فور جی‘ موبائیل انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئی ہیں۔ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے ایک اتحاد نے تازہ شہری ہلاکتوں کے خلاف سنیچر کے دِن ایک عام ہڑتال کی اپیل جاری کر دی ہے، جس کے بعد بیشتر تعلیمی اداروں میں تعطیل اور امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آرونی میں جاری فوجی آپریشن کے دوران کم سے کم دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں اور ممکن ہے ان میں لشکرِ طیبہ کا انتہائی مطلوب ضلع کمانڈر، جنید متو بھی شامل ہو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ آزاد ذرائع سے تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

سرینگر سے تقریبا” 50 کلومیٹر جنوب میں واقع آرونی علاقے کو بھارتی فوج، مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ اور بھارت کے وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف نے جمعہ کو علی الصباح گھیرے میں لیکر آپریشن شروع کیا تھا۔ لیکن، بتایا جاتا ہے کہ محصور عسکریت پسندوں کو بحفاظت علاقے سے نکلنے میں مدد دینے کی غرض سے مقامی لوگ گھروں سے باہر آگئے اور آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے، اُس مقام کی طرف دوڑ پڑے جہاں حفاظتی دستوں اور محصور عسکریت پسندوں کے درمیان مقابلہ چل رہا تھا۔

حفاظتی دستوں نے مظاہرین پر گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں محمد اشرف اور احسان احمد نامی دو نوجوان ہلاک اور کئی دوسرے شہری زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حفاظتی دستوں نے اُن دو نجی گھروں کو بارودی مواد استعمال کرکے اُڑا دیا جہاں عسکریت پسندوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں۔

دھماکوں کے ساتھ ہی عمارتیں آگ کے شعلوں کی نذر ہوگئیں اور عسکریت پسندوں کی طرف سے فائرنگ رُک گئی۔ لیکن، تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔ سرینگر میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ’’عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن ابھی جاری ہے‘‘۔

جمعہ کی شام اننت ناگ ہی کے اچھہ ول علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں پانچ پولیس والے ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مقامی اسٹیشن ہاؤس آفیسر، فیروز ڈار کی قیادت میں علاقے میں موجود پولیس کی ایک جمعیت کو عسکریت پسندوں نے اچانک خودکار ہتھیاروں سے ہدف بنا کر پانچ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ بعض اطلاعات میں مارے جانے والے پولیس والوں کی تعداد چھہ بتائی گئی ہے۔ اس واقعے میں دو راہگیر زخمی ہوگئے۔

اس سے پہلے جمعرات کی شام مشتبہ عسکریت پسندوں کے تین الگ الگ حملوں میں، جو بڈگام اور کلگام اضلاع میں پیش آئے تھے، دو پولیس والے ہلاک اور اُن کا تیسرا ساتھی اور ایک دوشیزہ زخمی ہوگئے تھے۔

اس دوران، بھارتی فوج نے کہا ہے کہ اس کا ایک سپاہی متنازع کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول حصوں میں تقسیم کرنے والی حدبندی لائین کے نوشہرہ سیکٹر میں پاکستانی فوج کی طرف سے کی گئی،بقول اُن کے، ’’بِلا اشتعال فائرنگ‘‘ میں ہلاک ہوگیا۔

ترجمان لیفٹننٹ کرنل منیش مہتا نے جموں میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فائرنگ کا یہ تازہ واقعہ جمعہ کو بھارتی وقت کے مطابق صبح سوا پانچ بجے پیش آیا جس کے بعد بھارتی فوج نے، ترجمان کے اپنے الفاظ میں، ’’بھرپور طاقت کے ساتھ موزوں جواب دیا‘‘۔