چاند پور فتح، ویشالی (بہار) میں شعری نشست کا انعقاد

Mushaira

Mushaira

ویشالی (کامران غنی) امیر منزل، چاند پور فتح ضلع ویشالی (بہار) میں گزشتہ منگل کی شام ایک خوبصورت شعری نشست” تنظیم ارباب ادب” کے زیر اہتمام منظور عادل کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔اس مخصوص شعری نشست میں مقامی اور بیرونی شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے خوبصورت اور فکر انگیز کلام سے سامعین کو محفوظ کیا۔ نشست کی صدارت منظور عادل نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ نوجوان شاعر کامران غنی صبا نے انجام دیا۔ محفل کا آغاز دانش القادری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ بزرگ شاعر حسن چاند پوری نے بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ تبریک کے طور پر چندنعتیہ اشعار پیش کئے۔

اپنے ابتدائی کلمات میں ناظم مشاعرہ نے چاند پور فتح ضلع ویشالی میں شعری نشست کے انعقاد پر فرط و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مشاعرہ کے روح رواں بدر محمدی کے شعری و ادبی ذوق کی ستائش کی اور کہا کہ دیہی علاقوں میں علم و ادب کی محفل آراستہ کرنا قابل آفرین و صد تحسین قدم ہے۔واضح رہے کہ تنظیم ارباب ادب اس علاقہ کی واحد ادبی تنظیم ہے اور بدر محمدی کی کاوشوں سے اس تنظیم کے بینر تلے متعدد شعری و ادبی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔

شعری نشست میں شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ظفر انصاری ظفر، پٹنہ سے کامران غنی صبا، مہوا سے بشر رحیمی اور مظہر وسطوی کے علاوہ اعجاز عادل، بدر محمدی، حنیف اختر، دانش القادری، حسن چاند پوری، ناظم قادری اور منظورعادل نے اپنے کلام پیش کئے۔ مشاعرہ میں کثیر تعداد میں باذوق سامعین موجود تھے۔ نشست کے اختتام پر بدر محمدی نے تنظیم ارباب ادب کی جانب سے بیرونی و مقامی شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے شعراء کا کلام نمونہ کے طور پر پیش ہے:

ہر مصیبت میں جیا کرتے ہیں
غم میں بھی ہیں کہ جیا کرتے ہیں
اعجاز عادل

دریائے نیل پھر ترے درپیش ہے کوئی
ہاتھوں میں اپنے تھام عصا معجزہ نکال
بدر محمدی

کیسے گلے ملیں یہ دو افکار دیکھئے
مسلک بنا ہے بیچ میں دیوار دیکھئے
حنیف اختر

ہم ترے حسن کے بیمار بنے بیٹھے ہیں
طالبِ جلوۂ رخسار بنے بیٹھے ہیں
دانش القادری

قسمت نے مجھ کو ماں سے جدا کر دیا بشر
گویا ندی کا رشتہ سمندر سے کٹ گیا
بشر رحیمی

یہ چڑیا کیا نہیں کرتی ہے طوفانِ حوادث میں
اچھلنا، پھرپھرانا، چہچہانا چھوڑ دیتی ہے؟
مظہر وسطوی

میرے سر پہ جو امامہ ہوتا
ہم زمانے کے پیر ہو جاتے
حسن چاند پوری

خودی تاج عزت ترے واسطے ہے
یہ لعلِ گراں آج ارزاں نہ کرنا
ناظم قادری

زندگی کتنا آزمائے گی
آخرش وہ بھی ہار جائے گی
کامران غنی صبا

میری ایسی تو کوئی رات نہ تھی
جس میں اس گلبدن کی بات نہ تھی
ڈاکٹر ظفر انصاری ظفر

ضبط کرتے رہے ظلم و ستم
اشک بہتے رہے روانی میں
منظور عادل