پی چدامبرم کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ افضل گورو کو غیرمنصفانہ طور پر پھانسی دی گئی، علی رضا سید

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سیدنے سابق بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم کا بیان ظاہرکرتاہے کہ کشمیری رہنماء افضل گورو کو غیرمنصفانہ طورپر پھانسی دی گئی۔انھوں نے برسلزسے جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہاہے کہ سابق وزیرداخلہ جو کانگرس کے ایک سینئر رہنماء بھی ہیں، کا بیان بھارتی نظام عدل کو زیرسوال قراردیتاہے۔ یہ بیان اس دلیل کو زیادہ مضبوط کرتاہے کہ بھارتی نظام میں کشمیریوں کو انصاف نہیں مل سکتا۔ افضل گورو کو اس لیے پھانسی دی گئی کیونکہ وہ کشمیری تھے اور کشمیریوں کے حوالے سے بھارت کا عدالتی نظام صحیح طرح سے کام نہیں کرتا۔

یادرہے کہ بھارت کے سابق وزیرداخلہ پی چدامبرم نے بھارتی اخبار ’’دی اکنامک ٹائمز‘‘سے ایک انٹرویومیں کہاہے کہ کوئی بھی یہ ایماندارانہ رائے رکھ سکتاہے کہ افضل گوروکے مقدمے میں صحیح فیصلہ نہیں ہوا۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس مقدمے کے سلسلے میں بین الاقوامی تحقیقات کرائے اور بھارت پر دباؤ ڈالاجائے کہ وہ اس کیس دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں تعاون کرے تاکہ اس مقدمے میں ہونے والی ناانصافی سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔

علی رضاسید نے کہاکہ افضل گورو نے ہمیشہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مستردکیاتھا لیکن اس کے باوجود انہیں پھانسی دی گئی اور ان کے خاندان کی خواہش کے برعکس انہیں جیل کے احاطے میں ہی زبردستی دفنادیاگیا۔ کشمیری لوگ بھارت کے زیرتسلط بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے تحت کشمیرمیں کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کو دبانے کے لیے ہرقسم کا حربہ استعمال کررہاہے ۔ یہ صرف افضل گورو ہی نہیں جو بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکارہوئے ہیں۔

بلکہ حالیہ سالوں کے دوران ہزاروں کشمیری گرفتارہوئے یا اغوا کئے گئے اورپھرانہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا جن کی بے نام قبریں ریاستی جبرکا منہ بولتاثبوت ہیں۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای نے گذشتہ دو دنوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شبیراحمد شاہ سمیت متعدد کشمیری رہنماؤوں اورکارکنوں کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی ہے۔انھوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی پرتشدد کاروائیاں کشمیریوں کو ان کی جدوجہد آزادی سے نہیں روک سکتیں۔ وہ بھارتی مظالم کے خلاف آوازبلند کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دو دنوں سے بھارتی سیکورٹی فورسزنے شبیراحمد شاہ سمیت متعدد رہنماؤوں اور کارکنوں کو حراست میں لیاہے۔ ان گرفتاریوں کا مقصد ان رہنماؤوں کوکشمیریوں پر مظالم کے خلاف احتجاج سے روکناہے۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے واضح کیاہے کہ پرامن احتجاج کرناپوری دنیا میں ایک جمہوری حق سمجھاجاتاہے لیکن بھارتی حکام نے کشمیریوں سے یہ حق چھین لیاہے۔ یہ ظلم صرف مقبوضہ کشمیرمیں نہیں ہورہاہے بلکہ بھارت کے دیگر شہروں میں مقیم کشمیری خصوصاً کشمیری طلبہ بھارتی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ کشمیری طلبہ کے خلاف بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں حالیہ پولیس کاروائیاں اس بات کا کھلم کھلاثبوت ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا سختی س نوٹس لیناہوگا۔ یہ بھارتی اقدامات ایک مہذب معاشرے کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔

نئی دہلی میں کشمیری طلبہ کے خلاف پولیس کاروائی اورطلباء یونین کے صدر اورایک کشمیری دانشور کی گرفتاری غیرجمہوری اورغیرمہذب فعل ہے۔ یہ کاروائیاں اظہاررائے اورتقریرکی آزادی کے حق پر حملہ ہیں۔ علی رضاسیدنے کہاکہ یہ بھارت کی سول سوسائٹی خصوصاً علمی برادری کا فرض بنتاہے کہ وہ اس ملک میں طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔انھوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کا رویہ تنگ نظری پرمبنی ہے اور کشمیری طلبہ کو ہدف بنایاجاناہرگز قابل قبول نہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت ایک طرف تو دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن اس کی کاروائیاں کشمیریوں کے خلاف غیر جمہوری اورغیرانسانی ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیری رہنماء شہید افضل گروکی برسی پراس ماہ کے شروع میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے دہلی کیمپس میں ایک تقریب کے انعقاد پر طلباء یونین کے صدر کانہایاکمار کو بغاوت کے الزام لگاکرگرفتار کیاگیا ۔اسی طرح کے الزام کے تحت کشمیری دانشوراوردہلی یونیورسٹی کے سابق استادپروفیسر سید عبدالرحمان گیلانی کو بھی افضل گروکی برسی کی تقریب کا دہلی کے پریس کلب میں انعقادکرانے پر گرفتارکیاگیا۔ ان دو واقعات کے بعد بھارتی پولیس نے دہلی میں مختلف مقامات پر مقیم کشمیری طلباء کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔

اس صورتحال سے دہلی میں مقیم کشمیری طلبہ میں سخت خوف و ہراس پیداہوگیا اور بہت سے طلبہ نے اپنی رہائشیں تبدیل کرلیں، حتی کہ بہت سے طلباء اپنی تعلیم چھوڑ کرواپس مقبوضہ کشمیر جانا شروع ہوگئے۔