تو ہی تو

ALLAH

ALLAH

تحریر : شاہ بانو میر
سوائے 3 چیزوں کے دنیا لعنت زدہ ہے(حدیث مبارکہ) 1 ذکر اللہ جسے اللہ پسند کرے 2 طالبعلم جو دین کا علم حاصل کرے 3 استاد جو دین کا علم دے انسانی پیکر اپنے پیراہن سےخود کو جاذب نظر بناتا ہے ـ مگر جب روح نکھر جائے تو باطن جاذب نظر بن جاتا ہے اور انسان کا ظاہر بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے ـ ادراک اور شعور آگہی ملنے کی صورت اس جدید تراش خراش میں ملبوس خوشنما انسان کو جتلاتے ہیں جو جو کچھ اس نے نادانی میں اب تک کیا وہ عمل استدراج سے بتدریج ٹوٹنے لگتا ہے کہ وہ اب ظاہر سے بکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے عمل استدراج اسے منتشر کرتا ہےبہت آہستہ آہستہ سوچ میں تبدیلی لاتا ہے ـ طویل زندگی پر محیط اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنا اپنی ذات کو شکست دینے کے مترادف ہے ـ اور یہ اتنا آسان نہیں بہت وقت لگتا ہے ـ باوجود اب کہ سوچتے سمجھتے جانتے ہوئے بھی اس بحر بیکراں میں داخل ہوتے ہوئے کوئی نادیدہ طاقت ہے جو انسان کو روکے رکھتی ہے۔ بہت مشکل عمل ہے اس دنیا سے جیتے جی ہجرت کرنا اور ُاس اللہ کو پا لینا ـ معمولی سی کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں تو کئی کئی بار پلٹتے ہیں الُٹتے ہیں۔اس کا رنگ روپ اس کا اعلیٰ معیار اولین ضرورت ہوتی ہے۔

سوچیں!! وہ پروردگار وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ کیسے ہمیں بغیر چھان بین کے قبول کر لے؟ اس کی محبت تو انعامات سے پُرہے اسی لئے تو صعوبتوں کے بعد نصیب ہوتی ہے ـ وہ الباسط ہے کشادگی وسعت کے ساتھ سب نعمتیں دیے چلا جاتا ہے ـ لیکن اپنی محبت اور ہدایت کیلئے وہ خود کو بے نیاز ظاہر کرتا ہے ـ نعمتوں کی عطا کے بعد اس کا شکر کیسے کرنا ہے وہ یہ معاملہ انسان پر چھوڑتا ہےـ جو جتنا شکر گزار ہے جو جتنا اسکا معترف ہے اسکی نعمتوں کا وفادار ہے۔ جتنا اعلیٰ ظرف ہے وہ بندہ مومن اتنا ہی اُس کی جانب جھکتا ہے ـ اس کے جھکاؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے اور اس دنیا کے عارضی مصنوعی رنگین پرت ایک ایک کر کے اترتے چلے جاتے ہیں ـ انسان خالص ہو جاتا ہے عاری ہو جاتا ہے اس دنیا سے اس کی بے جاہ نمود و نمائش سے ـ کیونکہ وہ جان جاتا ہے کہ اُس رب کی پسندیدگی کا عنوان ایسا انسان ہے جو اُس سے مانگتا رہے ہدایت بخشش رحم اور پھر وہ رحیم جاری رہنے والی اپنی رحمت سے قبول کر کے اُس انسان کو سلیم القلب عطا کر دیتا ہے بات طلب سے آگے بڑہتی ہے اور عمل تک پہنچتی ہے ـ اظہار تکرار اصرار سب آسان انداز عبودیت ہیں۔

زبان سے اعتراف آسان عبادت ہے پانے کیلئے انسان کا عمل روح تک کو نڈھال کر دیتا ـ عمل بہت مشکل ہے ـ اور وہ ہمارے لئے نعمتوں مہیا کرنے والا عمل کی مشکل میں ڈال کر زندگی اور ہماری آخرت کو دیتا ہے ـ دنیا ایک جنجال ہے اس کو پُرپیچ طلسم کدہ اسی لئے بنایا گیا ہے کہ عقل مند لوگ دنیا کی بھول بھلیوں میں گھومتے گھومتے آخر کار اپنے اللہ کو تلاش کر لیتے ہیں ـ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا متلاشی کون ہے؟ کون ہے جو اس ظاہری طلسم کو توڑ کر اس کے پیچھے چھپے”” اصل ظاہر”” کو پا لیتا ہے؟ کون ہے جو اس کی تخلیق میں اس کی تعمیر کو ڈھونڈتا ہے؟ یہی اسکی وہ چھان بین ہے جو اس تک اخلاص والے بشر کو پہنچاتی ہے ـ اللہ والے جو اللہ کیلئے زندگیاں قربان کر گئے نام پا گئے اور ہم نے اُس ذات کو نہ پہچانا جس کی عظمت کو پانے کیلیۓ وہ ولی اللہ ہوئے ہم نے ان بزرگوں کو پردہ بنا کر اپنے اور اللہ کے درمیان حائل کر دیا ـ بزرگوں کی دن رات کی عبادات ان کی تعلیمات ہمیں بتا رہی ہیں کہ وہ عظیم کیسے ہوئے ؟ جب انہوں نے اپنے مالک کو پا لیا پھر اسی کا انعام انہیں جاوداں کر گیا۔

Holy Quran

Holy Quran

اللہ ہمیں براہ راست بتا رہا ہے اپنی کتاب میں ہم کتاب سے ہٹ کر سیرت سے لا تعلق ہو کر کہاں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ ہم لیتے براہ راست ہیں اور اُسے پانے کیلئے بلواستہ کیوں سمجھنا چاہتے ہیں؟ آئیے ایک نئے شعور کے ساتھ اپنے جلیل القدر بزرگان دین کو نئ سوچ کے ساتھ پڑھنا شروع کریں تو ہمیں نئی راہ اور نئی روشنی ملے گی کہ وہ تو اپنے نبیﷺ اور اللہ کی محبت سے چور چور ہر حرف کو لکھ گئے ـ اللہ والوں کو پڑہیں سنیں اور اُس ذات کو پا لیں جس کے وہ غلام تھے ـ ذہن و قلب پر دھند کو عقل پر حائل اس پردے کو آج اٹھا دیں رب کو پہچان لیں ـ اس شعور کے ساتھ آج ایک نئی روشن صبح کا آغاز کریں ـ یہی قبولیت کا اشارہ ہے تبدیلی منجمند سوچ پر پڑی پرانی پُختہ برف کا پگھلنا اور انعامات پر نگاہ پڑتی ہے تو قبولیت کی جانب سوچ کی صحت بہتر دکھائی دیتی ہے جو موجب سکون ہے ـ ناگہاں دن بھر اپنے مصروف نظام کو دیکھوں تو نجانے کہاں کہاں ناشکری اور نسیان کا اندازہ کرتی ہوں ـ وہ کچھ لمحات کی محبت سے کی ہوئی عبادت کو قبول کرے گا اور رحم کرے گا ہم پر ـ یا جانے انجانے میں کی گئی غلطیوں پر گرفت؟۔

یہی وہ لمحہ ہے جب ایک جانب امید کی روشنی دل کو پرسکون رکھتی ہے تو بین اسی لمحہ نعتموں کی شکر گزاری کا توازن بھاری محسوس ہو کر پریشان کر دیتا ہے اور خوف دامنگیر ہو جاتا ہے ـ بس یہی ہے وہ ایمان جو خوف اور امید کے ساتھ ہمیشہ اللہ والوں کے دلوں کو اتھل پتھل کرتا ہے پھر بات ختم ہوتی ہے صرف اس کی شان کریمی کو تسلیم کرتے ہوِئے معاملہ اس پر چھوڑنے پر کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بھر دھاگے برابر ظلم نہیں کرتا ـ اسی کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے نفس کی بغات کو کچلنا ہے اسے ریزہ ریزہ کرتے ہوئے جھکنا ہے ـ اپنے ٹوٹے پھوٹے کشکول کی ندامت کے آنسوؤں سے مرمت کرنی ہے۔

پھر پھر اترتی رحمت کو شعور کے ساتھ اسکے ہر احسان کو مانتے ہوئے کشکول کو لبا لب بھرنا ہے ـ اپنی کم علمی کا اپنی کم عملی کا اور اپنی خطاوؤں کا اِدراک کرنا ہے ـ نفس کی شکست کو بخوشی تسلیم کرتے ہوئے اصلاح کی سوچ کے ساتھ ہر بار اپنی خواہشوں کو مارنا ہے اور نفس کی عمارت کو توڑتے ہوئے دیوانہ وار اللہ کی محبت میں مسلسل آگے امت کی خلق کی فلاح میں آگے بڑھتے رہنا ہے ـ عمل کی اصلاح اور ذات میں عمل کا عمل دخل بڑھا نا ہے ـ عمل میں توفیق میں اضافہ وہ تبدیلی ہے جو اسکی قبولیت کا اور رضا کا خوبصورت اشارہ ہے ـ رحمت کے طلبگار کی صورت ایک ہی استدعا ایک ہی دعا الھمہ انی اسٔلک علم نافعا و رزق طیبا و عمل متقبلا آمین الھمہ آمین 2015 -1۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر