شاعرہ سمن شاہ کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ

Suman Shah

Suman Shah

تحریر : عامر قدوائی کویت
سمن شاہ کی بیشتر نظمیں دنیا میں ہونے والے ظلم و تشدد اور دل دہلا دینے والی بر بریت کے خلاف ہیں وہ ماتم کناں ہیں شکوہ سنج ہیں اور چیخ چیخ کر پوچھتی ہیں کہ کیا اس قیامت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ، ہر طرف خاموشی ہے، سناٹا ہے، کہیں سے کوئی آواز اس ظلم کے خلاف نہیں اٹھتی یقینا جو ظلم سہتا ہے اس کیخلاف کھڑا نہیں ہوتا وہ بھی مجرم ہے مظلوم نہیںایک حساس فنکارہ نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے نظموں کا سہارا لیا ہے اور بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی بات دنیا کے سامنے رکھی ہے جب چاروں طرف دہشت گردی ہو، فضا میں بارود کی بو ہو، ہر منظر لہولہان ہو، تو دل درد کی ہولناک چیخوں کو محسوس کرتا ہے زندگی نوحہ کناں نظر آتی ہے ایسے ماحول میں وصالِ یار کا ذکر ناممکن ہے۔
سمن شاہ کی نظم قلم گم صم نظر حیراں سے چند مصرعے قارئین کی نذر

سخن میرا بھلا کیسے وہاں مہکے
جہاں بارود کی بو میں
مری سانسیں بھی گھٹتی ہوں
تری خوشبو کو جان ِ جاں
کروں محسوس میں کیسے

سمن شاہ بہت ہی منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہیں بہت ہی آسان اور سلیس زبان میں اپنے جذبات کے اظہار کا ہنر جانتی ہیں ان کی ایک اور بہت خوبصورت نظم اری او فاختہ آجا معصوم اور بھولے بھالے انسانوں کی کہانی ہے جو سماج میں پھیلی ہوئی بد امنی سے پریشان ہیں اور ایسے ٹھکانوں کی تلاش میں ہیں جہاں وہ زندگی کو محفوظ سمجھیں اور سکون سے رہ سکیں حالات نے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے اور وہ اتنے گھبرائے ہوئے ہیں کہ اپنے تھکانوں پر واپس نہیں آنا چاہتے اب انہیں کسی پر اعتبار ہی نہیں رہ گیا ہے سمن شاہ نے اپنے خوبصورت اور نرم و نازک جذبات کا سہارا لے کر عہد حاضر کی عمدہ عکاسی کی ہے انکی اس نظم کا ایک حصہ بطور مثال پیش خدمت ہے۔

بہت زخمی ہیں پر اس کے
زباں سے خون رستا ہے
لہو ہیں گیت اب اس کے
خدارا لوٹ آو اب
مری وہ التجا سن کر تھکی آواز میں بولی
بھلا کیسے میں آجاوں تمہارے آشیاں کی ہر گلی میں اب
بسیرے چیل کووں کے
گدھوں کی خونی منقاریں مری ہی تاک میں بیٹھی
مرے پر نوچتی ہیں یہ
مجھے اُڑنے نہیں دیتیں

ایک اور بہت ہی جذباتی نظم ممکن جس میں شاعرہ اپنے محبوب سے مخاطب ہے
کہ اے میری زندگی سے زیادہ عزیز، اے میری روح ایے میرے دل ََ
جیسے سیاہ کووں کے پر کبھی سفید نہیں ہو سکتے
جیسے کڑکتی دھوپ میں کبھی کالی برف نہیں گرتی
اسی طرح میرے محبوب تمہیں بھلانا بھی میرے لیے ناممکن ہے

ایک اور مختصر ترین نظم میں شاعرہ اپنے خوبصورت تصورات میں کھوئی ہوئی ہے اور سوچتی ہے کہ

یہ برفانی حسیں موسم
لگے جیسے
فرشتوں نے پروں سے
گرد جھاڑی ہو

Poetry

Poetry

ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔ اس نظم میں حساس شاعرہ بے حس لوگوں کو متنبہ کرتی ہے ان سے فریاد کرتی ہے انہیں جھنجھوڑتی ہے کہ تم اگر اب بھی نہ جاگے تو تم بھی اسی آگ کا حصہ ہو جاو گے جس میں دوسرے جل رہے ہیں فلسطین، بیروت، افغانستان، عراق ، کشمیر یہ سب ہمارے عہد کا المیہ ہیں اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم بکھری ہوئی ہے اور یہ وہ قوم ہے جو کبھی فاتح عالم تھی آج دین سے دور ہے تو شرمناک حالات کا سامنا ہے ہر جگہ ظلم و ذیادتی کا شکار ہے۔

سمن شاہ کا دل بہت چاہتا ہے کہ وہ محبت کے گیت گائے پیار کی کہانی لکھے لیکن حالات اسے اس کی اجازت نہیں دیتے ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھ جائے تو ختم ہو جاتا ہے۔

Police Violence

Police Violence

آئیے ہم سب مل کر دعا کریں اس ظلم و بربریت کے خلاف جنگ کریں اپنے قلم کو تلوار و میزائل بنائیں ظالموں کو فنا کردیں اپنی تحریروں کے ذریعے ظالموں کے خلاف بغاوت کر کے ظالموں کے تختے پلٹ دیں اور دنیا میں ایک بار پھر محبت اور اخوت کے پرچم بلند کریں۔

تحریر : عامر قدوائی کویت