میٹھی جیل

 Riyadh Saudi Arabia

Riyadh Saudi Arabia

تحریر : سیہام کامران، الریاض
سورج جیسے آگ اُگل رہا تھا، صحرا کی وسعت کہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی ، سڑک کے کنارے کھجور کے درخت وقفے وقفے سے لگے ہوئے تھے، کوئی چرند پرند دکھائی نہیں دیتا تھا، صرِف کھجور کے درخت تھے جو اس وقت صحرا کے حکمران کی مانند محسوس ہورہے تھے کیونکہ ا ن کے علاوہ وہاں کسی ہریالی کا نام و نشان نہیں تھا، دھول مٹی سے اٹے کھجور کے ان درختوں کو میں نے کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا کہ شاید کھجور کا کوئی گچھا نظر آ جائے مگر مایوسی ہوئی، دور دراز اونچی اونچی عمارتیں اور پلازے نظر آرہے تھے، یہ سعودی عرب کا دارلحکومت ریاض تھا، نیا شہر، نیا ماحول تھا، مجھے اپنا دل اس وقت ایک معصوم بچے کی طرح محسوس ہو رہا تھا جو ہر چیز کو اپنے اندر سماتا جا رہا تھا۔

سعودی عرب میں یہ میری پہلی بار آمد تھی، ایم فلِ کا دوسرا سال چل رہا تھا جب میری شادی ہوئی اور آخری امتحان دینے کے اگلے ہی دن میری سعودیہ کی فلائیٹ تھی ، ائیر پورٹ پر میرے شوہر پہلے سے کھڑے میرا انتظار کر رہے تھے ، مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور اب میں ان کے ہمراہ گھر کی جانب گامزن تھی، صاف ستھری سڑکیں، تیز رفتاری سے بھاگتی ہوئی گاڑیاں ، بے تحاشا سٹریٹ لائیٹس ، پرسکون ماحول سب کچھ مجھے بہت بھلا محسوس ہورہا تھا ، عجیب بات یہ کہ یہاں سڑکوں پر کوئی زور زور سے ہارن نہیں بجا رہا تھا ، ہماری کار بھی تیز رفتاری سے منزل کی جانب گامزن تھی، ہمارا گھر ائیر پورٹ کے پاس ہی تھا ، ہر کمرے کا اے سی آن تھا ، مجھے یہ سب بہت بھلا محسوس ہورہا تھا کیونکہ گرمیوں کا موسم تھا اور پاکستان میں زیادہ وقت تو لائیٹ ہوتی نہیں تھی اور جب آتی تھی تو اتنی دیر نہیں رہتی تھی کہ ائیر کنڈشنرکمروں کو ٹھنڈا کرسکے،ہر وقت ٹریفک کا شور و غل ، ہارن کی آوازیں کانوں میں گونجتی تھیں، یہاں بلا تعطل ایئر کنڈشنر کا چلنا ، بجلی کا نہ جانا مجھے بہت اچھا لگا۔

میں یونیورسٹی اور پڑھائی سے بہت تھکی ہوئی تھی ، ایک دو دن نیند پور ی کی، پھر ایک دو دن گھومنے پھرنے میں گزر گئے ، خیر ایک ہفتہ آرام سکون سے بہت اچھا گزر گیا، خاوند کے زیادہ تر دوست غیر شادی شدہ تھے اس لیے کسی فیملی سے ملاقات نہ ہوسکی، البتہ شاپنگ سنٹرز اور پارک وغیرہ میں گھوم آتے تھے تاکہ گھر پر بوریت کا احساس نہ ہو،جیسے جیسے دِن گزر رہے تھے مجھے ایسا لگنے لگا جیسے ایک عرصہ ہوگیا ہو کہ میں نے خوش گپیاں نہیں لگائیں ، کسی سے دل کھول کر بات نہیں کی، کوئی سہیلی ،رشتہ دار کوئی بھی تو پاس نہیں تھا، خاوند صبح سے گئے شام کو گھر آتے تھے اور آکر بہت تھکے ہوتے تھے، ویسے بھی وہ مجھ سے ایک حد تک ہی گپیں لگا سکتے تھے، صبح سے شام تک گھر کی دیواریں دیکھتی رہتی اور دماغ میں منفی خیالات جنم لیتے ، کسی شاپنگ سنٹر میں جاتی تو کانوں میں اردو زبان سنائی دیتی یا کوئی پاکستانی فیملی نظر آجاتی تو خوش ہوجاتی تھی۔

Riyadh

Riyadh

اپنے خاوند کو دکھاتی کہ وہ دیکھیں وہ پاکستانی ہیں پر میاں صاحب بس سرسری سی نظر ڈال کر کہتے ہاں یہاں بہت پاکستانی ہیں ، میری بد قسمتی یہ تھی کہ کمپنی نے ہمیں جو گھر دیا تھا وہاں آس پاس کوئی پاکستانی فیملی نہیں تھی،اور اگر خاوند سے گلاِ کرتی تو وہ کہتے تمہیں ہر جگہ تو گھما لاتا ہوں مگر میرا مسئلہ گھومنا پھرنا نہیں تھا میں اندر سے تنہائی کا شکار ہونے لگی تھی، میری سوشل لائف ایک دم سے ختم ہوگئی تھی اور سعودیہ میں کمپنی کی طرف سے ملا ہوا گھر مجھے میٹھی جیل محسوس ہونے لگا تھا جہاں ہر سہولت میسر تھی مگر یہ ایک جیل کی مانند تھا ، جہاں میں اپنی مرضی سے کہیں جا نہیں سکتی تھی، کوئی ملنے والا نہیں تھا، بس زندگی گھر کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، ٹی وی ،انٹر نیٹ سب سے دل بھر گیا تھا ، مجھے لگنے لگا تھا میں کسی میٹھی جیل میں پھنس گئی ہوں۔

ہر وقت دل اداس رہتا، پاکستان کال کرتی تو چند منٹ ہی بات ہوتی، وہاں ہر کوئی اپنی زندگی میں مگن تھا کسی کے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا کہ چوبیس گھنٹے مجھے دلاسے دے اور میری بوریت دور کرے،بس بات با ت پر رونا آتا ، اپنا گھر ، رشتے دار،سہیلیاں ، گلی والے یاد آتے، گلی میں روزانہ گھومنے والا سبزی والا، چھابڑی والا سب کی یاد آتی، جنہیں وہاں رہتے ہوتے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا وہ بھی یاد آتے، ایک دن تو حد ہی ہوگئی جب خاوند کی کمپنی میں ایک نجی ملازم کی بیوی مجھ سے خصوصی ملنے کے لیے آئی وہ عورت پاکستان میں پنجاب سے تعلق رکھتی تھی۔

جیسے ہی وہ آکر بیٹھی مجھے اُس میں اپنی امی، بہن، خالہ، پھوپھو،چاچی پتہ نہیں کون کون سے روپ نظر آئے اور میں ان سے ایک دو باتیں کرنے کے بعد ان کی گود میں سر رکھ کر رونے لگی، وہ ایک دم سے پریشان ہوگئیں ، عمر میں وہ مجھ سے کافی بڑی تھیں سمجھ گئیں کہ میں اداس ہوں، خیر رو دھو کر جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو اپنی اس احمقانہ حرکت پر خود کو بہت کوسا۔ وقت سسُت رفتاری سے یونہی گزرتا رہا،ریاض سے مکہ تقریباً نو گھنٹے کی مسافت پر ہے، جب عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاتے تو اللہ کا لاکھ شکر ادا کرتی کہ میں سعودی عرب میں مقیم ہوں جب چاہوں مکہ ، مدینہ جاسکتی ہوں ، اللہ کا گھر دیکھ سکتی ہوں، مگر واپس آکر وہی دیواریں ہوتیں، خاموشی اور تنہائی، مگر اب میں اس کی عادی ہورہی تھی، شوہر کے دوستوں کی ایک ایک کرکے شادیاں ہونے لگیں اور پہلے ایک کی بیوی آئی ، اس کے آنے سے مجھے کافی تسلی ہوئی اور جانے کو ایک جگہ مل گئی، ویک اینڈ کے علاوہ بھی ہم ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے۔

Iftar

Iftar

کئی کئی گھنٹے ایک ساتھ گزارتے ، رمضان میں اکٹھے افطاری، سحری کرتے، وقت گزارنے کا مزہ آنے لگا تھا اور میری بوریت میں خاطر خواہ کمی ہورہی تھی، ایک کے بعد شوہر کے دوسرے دوست کی بیگم آگئی، یہ سلسلہ چلتا رہا اور ہمارا ایک گروپ بن گیا،کچھ پاکستانی جو ریاض میں پہلے سے مقیم تھے ان سے بھی ملنا ملانا شروع ہوگیا اور بہت سی اچھی دوست بن گئیں، اب مجھے خوب ہنسنے ، گپیں لگانے، کپڑوں اور فیشن کی ڈسکشن کے لیے خاوند سے امید نہیں لگانی پڑتی تھی کہ میں اپنی باتیں کس سے کروں، اب ملناِ ملانا اتنا بڑھ گیا کہ ویک اینڈپر اپنے لیے ہی ٹائم نہیں ملتا ، کبھی ہم کہیں جارہے ہیں تو کبھی کوئی آرہا ہے، پھر اللہ نے مجھے بیٹی کی صورت میں اپنی رحمت سے نوازا اور میری زندگی مکمل ہوگئی۔

ریاض جو آج سے تین سال پہلے مجھے سوکھی جھاڑیوں اور بنجر ریت کی طرح محسوس ہوتا تھا آج میرے لیے بہت کچھ تھا، بہت اچھے لوگ اور قدر کرنے والی فیمیلیز ملیں جنہوں نے ہر دکھ تکلیف میں ہمارا ساتھ دیا، جو شاید میرے لیے عمر بھر کا سرمایہ ہیں ، آج جب میرے خاوند کو پاکستان میں ایک اچھی نوکری مل گئی ہے اور ہم سعودی عرب چھوڑ کر جارہے ہیں تو دل اداس ہے، وہی جگہ جہاں میرا دم گھٹتا تھا آج یہاں سے جانے کو دل نہیں کررہا ،کچھ دوست اور حلقہ احباب ایسا بن گیاہے جو اپنوں سے بڑھ کر لگنے لگاہے، اچھے دوست واقعی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں، جن پر آپ کو مان ہوتاہے کہ کل کو اگر آپ کو کوئی مشکل درپیش آئے تو یہ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، کوئی بھی جگہ بنجر سے سرسبز لگنے لگتی ہے اگر آپ کو اچھے انسان مل جائیں، آج میں سوچتی ہوں آج کے شہر ریاض اور تین سال پہلے کے شہر میں کتنا فرق ہے۔

Saudi Arabia

Saudi Arabia

ملک،شہر اور جگہیں تو وہیں موجود رہتی ہیں ، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اپنی اچھی اور بُر ی یادوں کو سمیٹتے ہیں اور کسی نئے آنے والے کے لیے وہ جگہ خالی کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ،کوئی بھی شخص جب کسی نئی جگہ جاتا ہے تو پہلے وہ جگہ اسے چبھتی ہے ، اجنبی لگتی ہے ،مگر کچھ ہی عرصے بعد وہ اپنی لگنے لگتی ہے، مختلف لوگوں کی مختلف زبانیں اور ثقافت دیکھنے کو ملتی ہے اس لیے کسی بھی نئی جگہ جا کر وہاں اپنے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہیے، مختلف لوگوں سے ملنا چاہیے ان کی ثقافت کے بارے میں جاننا چاہیے ، کہیں یہ نہ ہو کہ میری طرح آپ بھی اپنی زندگی کے قیمتی پل اداسی کے نا م کردیں اور بعد میں پشیمان ہوں، امید کا دیا اپنے دل میں ہمیشہ روشن رکھنا چاہیے،کیا پتہ اس کی لوُ کب کس کو سُلگا جائے اور حالات آپ پر مہربان ہو جائیں۔

تحریر : سیہام کامران، الریاض