اگر یوں ہوتا کہ۔۔۔

Universe

Universe

تحریر: سید فیضان رضا
کائنات اور انسان کے اندرونی اور خارجی وجود کی تخلیق، ظہورا ور ترکیب میں غور و خوض اور تفکر و تدبر حکمِ خداوندی ہے ۔جہاں اللہ نے احکامات کے ذریعےعبادات کا حکم دیا ہے وہیں تحصیل علم کو بھی اسی شد ومد سے بیان کیا ہے ۔۔اسلام اُنتماماَحوالوتغیراتپرنظررکھتاہےجن کا تعلق علم و تحقیق کے عصری تقاضوں سے ہے۔۔

سورہ عمران میں کس قدر خوبصورت انداز میں رب تعالیٰ عقل سلیم کا معیار متعین فرماتا ہے: یہوہ لوگ ہیں جو (سراپانیازبنکر) کھڑےاور (سراپاادببنکر) بیٹھےاور (ہجرمیںتڑپتےہوئے) اپنیکروٹوںپر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کار فرمااسکی عظمت اور حُسن کے جلووں) میں فکر کرتے رہتے ہیں، (پھر اسکی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں:) اےہ مارےرب! تو نے یہ (سبکچھ) بے حکمت اور بےتدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے پسہ میں دوزخ کے عذاب سے بچالے
(آلعمران، 3 : 191)۔۔

خیر اس مضمون میں قرآن مجید کی وہ آیات ترغیب بیان نہیں کی جائیں گی جس میں اللہ عزوجل نےعلم و جستجو کی تلقین کی ہے۔ ہم ایک فرضی مثال کے ذریعے بیان کرتے ہیں کیا اسلام علم وسائنس کی ترقی میں رکاوٹ ہے یا خود مسلمانوں کا طرز عمل؟۔

Mughal Darbar

Mughal Darbar

ہم ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب “مغل دربار” کی سیر کریں گے نہ خلافت عثمانیہ کی کمزوریوں اور نااہلیوں کانوحہ پڑھیں گے۔۔بہت دور جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔! اسی مملکت خداداد پاکستان کی مثال لے لیجیئے۔
اسلام کے نام اور بنیاد پرپاکستان وجود پاتا ہے۔۔ ہمارے اولین حکمران اگر بنیاد پرست مسلمان ہوتے تو وہ بخوبی جانتے کہ قوم کے درجات بلند کرنے کا کیا نسخہ بیان کیا گیا ہے۔”اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے (اﷲ) اُن لوگوں کے درجے بلند کرے گا” (المجادلہ 11)۔۔۔۔وہ اسلامی تعلیمات سے واقف ہوتے تو جانتے کہ سب سے بڑا انسانیت کا علمبردار مذہب کن لوگوں سے اعراض کی ترغیب دیتا ہے۔۔”اور جاہلوں سے کنارہ کشی اِختیار کر لیں” (الاعراف 199) ۔۔اگر وہ قرآن فہم ہوتے تو جان لیتے کہ برابری کی تلقین اور بات کرنے والا مذہب اسلام کس مقام پر آکر انسانی تفریق کی بات کرتا ہے۔۔۔”آپ فرما دیجئے کہ علم والے اور بے علم کہیں برابر ہوتے ہیں! تحقیق سوچتے وُہی ہیں جو صاحبِ عقل ہیں” (الزمر-9)۔۔ وہ اگر اسلام پسند ہوتے تو جانتے کہ اللہ کو کرپشن، رشوت، بدعنوانی، فراڈ، حرام کی کمائی اور سود کا نظام کس قدر ناپسند ہے۔چنانچہ وہ فوری طور پر ملک میں علم و حکمت کی بنادیں رکھنا شروع کردیتے۔۔

وہ اگر
٭ ملک کا کثیر بجٹ ابتدائی تعلیم کے لیے مختص کرتے تو اسلام کی کوئی حد ان پر نافذ نہ کی جاتی۔
٭قوم میں تحصیل علم کی اسلامی و عصری اہمیت اجاگر کرتے تو یہ بات تعلیمات اسلام کے عین موافق ہوتی۔
٭ملک میں یونیورسٹیز کا جال بچھادیتے۔۔ان میں درکار تمام ضروری لوازمات کو پورا کرتے۔ تو نہ ان کا ہاتھ کاٹا جاتا اور نہ ہی انہیں رجم کیا جاتا۔
٭علم سائنس میں تحقیق کے لیے ملک بھر میں لیبارٹریز قائم کردیتے تو کسی حدیث نبوی ﷺ کے منکر نہ ٹھہرتے۔
٭ ایمان اور خوف خدا رکھتے ہوئے وہ کرپشن نہ کرتے نہ ہونے دیتے اور اس سارے پیسے سے ملک کی معیشت بہتر کرنے کی کوشش کرتے، جس سے عام فرد کی زندگی میں بہتری آتی اور وہ ایک تازہ دماغ کے ساتھ علم و تحقیق کی سرگرمیوں میں حصہ لیتا۔
٭حلال روزی کی ضروریات اوراحکامات کو بیان کرتے، اس کی تلقین کرتے، لوگوں کو فرض شناس بناتے، ان کو نہ صرف اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کا احساس دلاتے بلکہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بناتے تو اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ٹھہرتے۔
٭پاکستان جیسا ملک جسے اللہ نے ہر زمینی نعمت سے نوازا ہے یہاں پر ملک کے سو امیر ترین خاندانوں کے ذریعے انڈسٹریز اور مینوفیکچرنگ فیکٹریز کا جال بچھادیتے۔۔پاکستان کے ساحل کو عالمی تجارت کے لیے استعمال کرتے۔۔۔یہاں پائے جانے والی دنیا کی سستی اور ماہر لیبر سے کام لیتے اور ملکی برآمدات میں اضافہ کر کے معیشت کو مضبوط اور مستحکم کرتے۔۔اور یقین جانیں، ان سب کے دوران ہر ہر مقام پر اسلام ممد و معاون تو ثابت ہوتا لیکن رکاوٹ کا سبب نہ بنتا۔۔
٭معیار اور کوالٹی پر توجہ دی جاتی۔۔”پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی” کو شروع وقت میں ہی قائم کیا جاتا، اس میں رشوت اور سفارش کلچر کا خاتمہ کیا جاتا اور عمدگی پر فوکس کیا جاتا۔۔جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں کے قابل ہوتی اور ان کی مانگ میں اضافہ ہوتا۔۔ ان سب چیزوں کی تشکیل و تعبیر میں اسلام کہیں بھی روڑے نہیں اٹکاتا۔۔

Pakistan

Pakistan

یہ اور اس طرح کے وہ تمام افعال سر انجام دینے میں جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہیں انہیں اسلام کہیں بھی نہ چیلنج کرتا ہے اور نہ ہی راستے کی دیوار بنتا ہے بلکہ یہ اسلام کا منشا و مقصود ہے، وہ اس سلسلے میں نہ صرف راہنمائی کرتا ہے بلکہ ترغیب دیتا ہے۔۔۔
ان سب کے بعد ہوتا کیا؟

٭پاکستان دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہوتا۔
٭ پاکستانی یونیورسٹیز عالمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بہترین رینکنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتیں۔
٭پاکستان کے سائنسدان دنیا بھر میں اپنا سکہ منواتے۔
٭شخصی اور ملکی ترقی حاصل ہوتی، نظام زندگی بہتر ہوتا۔۔
٭علم و شعور کی منزلیں مقدر بنتی، ہم ہجوم کے بجائے ایک قوم بنتے جس کا ہر فرد انسانیت کی بھلائی میں اپنا حصہ شامل کرتا۔
٭پاکستانی برآمدات سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں سے پوری دنیا میں پہنچتی اوریوں ہم عالمی قرضے لینے والے نہیں دینے والے بنتے۔

وغیرہ وغیرہ ہمیں اچھی قیادت کے ساتھ ترقی کے لیے صرف 20 سے 30 سال کا عرصہ درکار ہے۔۔کہنے کا مقصد بس یہ ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ اسلام ہرگز نہیں ہے۔۔یہ ہماری قیادتیں ہیں جنہوں نے کرپشن کے ذریعے اس مملکت کی کمر توڑ رکھی ہے۔۔برسبیل تذکرہ آپ کو ایک دلچسپ بات بتا کر مندرجات کو سمیٹا ہوں۔ نیب کا ادارہ 1999 میں قائم کیا گیا تھا لیکن اس کے قوانین 1985 سے لاگو کیئے گئے۔۔ یعنی پاکستان میں 1985 سے لے کر اب تک جتنی کرپشن ہوئی اس کے ذمہ داران کو پکڑ کر داخل حوالات کرناتھا۔۔۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ 1985 سے لے کر اب تک تمام سیاسی کردار اِس وقت ایسے ہی جوں کے توں موجود ہیں، اور ان سب سیاستدانوں سے سوال کرلیں کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو سب یک زبان ہوکر کہیں گے ۔۔۔کرپشن!

Syed Faizan Raza

Syed Faizan Raza

تحریر: سید فیضان رضا