حلقہ فکروفن کی سید ضمیر جعفری کو زبردست خرج عقیدت

Muhammad Riaz Chaudhry

Muhammad Riaz Chaudhry

ریاض (پریس ریلیز) ریاض حلقہء فکروفن۔ ریاض۔ سعودی کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوھدری نے پاکستان کے منفرد مائہ ناز شاعر و ادیب اور مزاح کے شہنشاہ سید ضمیر جعفری کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انکو ہم سے بچھڑے آج اٹھارہ برس بیت گئے ہیں۔ اپ چک عبدالخالق نزد دینہ ضلع جہلم میں 1 جنوری 1916 پیدا ہوئے۔

انہوں نے اردو ادب میں ایک نئی طرع ڈالی۔ ان کے تخیلات اردو ادب کے افق پر ایک عرصہ تک سایہ فگن رہے ۔وہ ایک نہایت ہی قابل ترین انسان تھے انہوں نے اپنی پوری صلاحیتیں سنجیدہ شاعری کے اندر مزاحیہ شاعری کو فروغ دینے میں صرف کیں- بقول اشفاق احمد “ضمیر جعفری قسم کے لوگ عجیب و غریب مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہر ملک میں انکی تعداد دس پندرہ دانوں سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن یہ ہر ملک ہوتے ضرور ہیں ۔

Syed Zamir Jafri

Syed Zamir Jafri

اگر یہ نہ ہوں تو اس ملک کی آبادی بے کاری اور بدکاری کے درمیان سے گزر کر تباہ کاری کے ڈھنڈار ویرانے میں جا کر ختم ہو جائے اور ساری بستیاں بھنبھور سی بن کر رہ جائیں”
وہ اپنی محب آلوطنی ، خوش اسلوبی ، نیک بیتی ، اعلی ظرفی اور اپنے ادبی مقام کی بنیاد پر بلند پایہ دانشوروں کے علاوہ اہل وطن میں بھی نیک نام اور بلند مقام پر فائز ہیں ۔

انکو زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے انکی شاعری میں سے انتخاب پیش خدمت ہے
:اپ فرماتے ہیں

ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا سکی
ہر اک نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے

یہاں جشن بہاراں ہوگا لیکن ہم نہیں ہوں گے
بیاباں میں گلستان ہوگا لیکن ہم نہیں ہوں گے
آگے کہتے ہیں

جوانسان نوح انسانی کا استحصال کرتے ہیں
نہایت ریشمی الفاظ استعمال کرتے ہیں
کبھی ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں
پھر اس کے بعدجوکرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں
جہاں میں زور و زر والے ہنر والے خبر والے
عمومآ دوسروں کا مال استعمال کرتے ہیں
بسا اوقات کھلتا ہی نہیں منشا حسینوں کا
قمیض سبز رکھتے ہیں دوپٹے لال کرتے ہیں
جہاں کی تیزرفتاری کو روکا تو ہےکچھ ہم نے
ہمیں جو آج کرنا ہے وہ اگلے سال کرتے ہیں
بچارا مرد مومن بھی تو آخر پیٹ رکھتا ہے
مجاہد لوگ بھی روٹی تو استعمال کرتے ہیں

انکی قبر پر یہ اشعار چسپاں ہیں

قبر میں کوئی غم نہ کوئی سختی ہے
شہر اجڑ جائے تو یہ بستی ہے کیسی آسائش بے تختی ہے
یہ میری آخری خوش بختی ہے