میٹ دی پریس کلب یو کے کے تحت میٹ دی پریس! امجد ملک کے ساتھ رپورٹ ! لیاقت علی شفقت

Manchester

Manchester

مانچسٹر (پریس ریلیز) حکومت پاکستان نے پہلی دفعہ 80 لاکھ سے زیادہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے بنائی گئی اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن (POF) کا سربرا ہ اوورسیز پاکستانیوں میں سے چنا ہے ـ میں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی ہو گی ـ۔ ان خیالات کا اظہار اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن کے سربراہ بیرسٹر امجد ملک نے پریس کلب آف پاکستان یو کے کے تحت مانچسٹر میں پہلے”میٹ دی پریس ” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیاـ تقریب کی صدارت پریس کلب کے صدر محبوب الٰہی بٹ نے کی جبکہ مہمانان خصوصی قونصل جنرل آف پاکستان مانچسٹر ڈاکٹر ظہور احمد اور کمیونٹی ویلفئیر قونصلر فضہ نیازی تھیں ـ اس موقع پر صحافیوں کے علاوہ دانشوروں اور کمیونٹی کے لیڈروں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی ـ بیرسٹر امجد ملک نے اس موقع پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب چئیرمین ان لوگوں میں سے ہو گا جن کے لئے یہ تنظیم بنائی گئی ہے تو یقینا وہ ان کے مسائل سے بھی آگاہ ہو گا اور اس بارے میں حکومت پاکستان کے اداروں کو بریف بھی کر سکتے گا ـ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسا قدم اٹھا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔

پاکستانیوں کا دیار غیر میں جذبہ حب الوطنی بیدار کرنے اور انہیں ملک کے اندر باہر کے مسائل سے نجات دلانے کے لئے 1979 میں قائم کی گئی قومی فائونڈیشن کوپہلی اووسیز پاکستانیوں کے حوالے کردیا ہے ۔ اب ہم اس حکومتی اقدام پر بیرون ملک بہتر انداز میں اپنے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیںـ انہوں نے سپاسنامے کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ صحافی قوم کے معمار ہیں اور میری پوری کوشش ہو گی کہ برطانیہ سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد صحافیوں کے مسائل بھی حل ہوں اور انہیں پاکستان میں وہی سہولتیں دی جائیں جو پاکستان کے اندر کام کرنے والے صحافیوں کومیسر ہیں ـ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے صحافی سید علی شان بخاری کا کیس وہ ذاتی طور پر حکومت کے ساتھ اٹھائیں گے نیزر ان کی وطن واپسی اور جاب پر باعزت بحالی کو یقینی بنائیں گے ـ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماضی میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے 11 ہائوسنگ سکیمیں بنائی گئیں جس نے 9603 رہائشی اور503 کمرشل پلاٹ دئے گئے ـ تاہم سرخ فیتے اور عدم توجہ کے باعث لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ او پی ایف کے بنائے گئے سکول اور کالجزپر بھی توجہ نہیں دی گئی لیکن اب اسکو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ہائسنگ اسکیموں میں تاخیر کے معاملات کا بھی پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے متعلق بعض تجاویز او پی ایف نے نادرا کے حکام اور وزارت داخلہ کو دی ہیں جن پر جلد عملدرآمدہو جائیگا۔قبل ازیں برطانیہ میں پاکستانی پاسپورٹ بنوانے والے کو برطانیہ میں اپنے قانونی قیام ثبوت پیش کرنا ہوتا تھا لیکن اب یہ شرط ختم کر دی گئی ہے بلکہ اب بیرون ملک مقیم کسی بھی پاکستانی شہری کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے ـ یہ سب کچھ او پی ایف کی کوششوں سے ہی ہوا ہے ـ انہوں نے کہا کہ پی او ایف کو مڈل ایسٹ میں مین پاور دینے کے لئے بنائی گئی تھی جنکے کام ، رہائش ، پنشن اور دیگر مسائل حل کرنا تھے، مگر اب اس کا دائرہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ تک بڑھا دیا گیا ہے، 11 ممالک میں تعلیم اور تربیت یافتہ ویلفیئر اتاشی تعینات کئے گئے ہیں جو اپنے لوگوں کے مسائل کے حل اور انہیں سہولتوں کی فراہمی کے کام کر رہے ہیں۔ امجد ملک نے کہا کہ میڈیا جس تیزی سے عوامی مسائل اجا گر کرتا ہے اس سے کوئی بھی شعبہ صرف نظر نہیں کرسکتا، تحریری شکایات کے حل اورمثبت تجاویز کو عملی جامہ پہننانے میں غفلت کے مرتکب سرخ فیتے کو ختم کرنے پر کام جاری ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ صحافی جس طرح ملک میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مسائل کا بیرون ملک مقیم صحافیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ او پی ایف اوورسیز پاکستانی صحافیوں کے لئے وہی فائدے اور سہولیات ملک کے اندر دلوانے میں اپنا کردا ادا کرے گی جو وہاں پر دیئے جا رہے ہیں۔امجد ملک نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قانون اور معاملات سے ناواقفیت کی بنا پر مسائل کا شکار بنتے ہیں انہیں اجتماعی طور ایجوکیٹ کرنے والوں کو سپورٹ کرنا چاہئے، تاکہ بہتر اور مثبت سوچ کے ساتھ ملک کو اربوں روپے کا زرمبادلہ بھیجنے والوں کو ملک میںعزت اور اچھا مقام ملے ۔انہوں نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے میاںشہباز شریف کی پنجاب حکومت نے اووسیز پاکستانیوں کو ملک میں درپیش مسائل کے فوری حل کے لئے 36 اضلاع میںپروٹیکشن سیل بنائے ہیں جو بہتر طور پر کام کر رہے ہیں، اور ہم دوسرے صوبوں میں بھی ایسے ہی سیل بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے ائیرپورٹس پر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ عملے کے ناروا سلوک اور ناجائز تنگ کرنے والوں کے خلاف ڈیسک بنادیئے ہیں۔

ہر پاکستانی ان ڈیسکوں پر اپنی شکائت درج کرائے تو یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات بڑی تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیںـ اوورسیز پاکستانی اپنے زرمبادلہ سے ملک میں انوسٹمنٹ کریں تو انہیں ہر قسم کی سہولیات دی جائیں گی۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بیرون ملک تو ڈالرز میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی فیس ادا کرنا مشکل نہیں لیکن پاکستان میں کئی گنا ذیادہ فیس کی وصولی ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نادرا کارڈوں کی سرجریاں بند کر دی گئی تھیں جس کی وجہ سے برطانیہ میں کمیونٹی کو سخت مشکلات درپیش تھیں ـ ہم نے حکومت پاکستان سے مذاکرات کر کے یہ سرجریاں دوبارہ بحال کروائی ہیں ـ قبل ازیں سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے پریس کلب آف پاکستان کے صدر محبوب الٰہی بٹ نے صحافیوں کو درپیش مشکلات اور پاکستان میں انہیں درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کو ملک میں کام کرنے والے صحافیوں کی طرح ہر قسم کی سہولتیں دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ میٹ دی پریس کا آغاز پریس کلب آف پاکستان یو کے نے کیا ہے اور ہم اس کو جاری رکھیں گے ـان تقاریب میں مختلف شعبوں کے اہم شخصیات اور نامور افراد کو شرکت کی دعوت دے کر انہیں عوام کے سامنے لائے گا۔

انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برطانیہ میں پاکستان کے سفارتی دفاتر برطانیہ میں کام کرنے والے پیشہ ورپاکستانی صحافیوں کی ایک لسٹ بنائیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس لسٹ میں صرف مستند صحافی شامل ہوں ـ سفارتی دفاتر کے افسران پیشہ ور صحافیوں سے ہر تین ماہ بعد ملاقات کر کے حکومت پاکستان اور صحافیوں کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ بنیں نیز ملکی معاملات کو برطانیہ میں اجاگر کرنے کے لئے راہنمائی فراہم کریں ـ یہ بھی ذہن میںر ہے کہ بھارتی سفارت خانہ باقاعدگی سے اپنے ملک کے صحافیوں کو یہ مشاورت فراہم کر تا ہے ـانہوں نے کہا کہ پاکستان کے جو صحافی سیاسی پناہ پر اس ملک میں آئے ہیں ان کی وطن واپسی کے لئے مناسب انتظامات کئے جائیں نیزپاکستان میں موجود صحافیوں کو جو سہولتیں حکومت پاکستان کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں وہی سہولتیں برطانیہ سے پاکستان جانے والے پاکستانی صحافیوں کو بھی دی جائیں جس میں ائرلائنوں اور ٹرینوں میں رعایتی سفر ، ہوٹلوں میں رعایتی نرخوں پر قیام ، محکمہ اطلاعات میں ان کی رجسٹریشن سمیت دیگر تمام سہولتیں شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ برطانیہ کے پاکستانی صحافیوں کے حوالے سے کچھ شکایات بھی پائی جاتی ہیں جبکہ اس کے لئے کچھ صحافتی اداروں کا معیار بھی اچھے درجے کا نہیں ہے ـ کچھ غیر صحافی بغیر کسی تربیت اور معلومات کے فون یا کیمرے پکڑ کر ہر جگہ صحافی بن کر پہنچ جاتے ہیں جن سے اگر کمیونٹی یا سفارتی افسر ان تنگ ہیں تو پروفیشنل صحافی بھی ان کی وجہ سے سخت ذہنی اور نفسیاتی کوفت کا شکار ہیں کیونکہ ان کی حرکات سے ان کی عزت نفس بھی محفوظ نہیںـ انہوں نے کہا کہ ہم یہ باور کرواتے ہیں کہ صحافت کے معیار کوگرانے والے پروفیشنل صحافی نہیں بلکہ یہ سارے کا سارا قصور چند صحافتی اداروں کا ہے جو نہ صرف یہ کہ صحافیوں کو ان کی خدمات کا معاوضہ نہیں دیتے بلکہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ بعض بڑے اداروں کے ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر اپنے نمائندوں سے باقاعدہ بھتہ مانگتے ہیں ـ صحافتی اداروں کے مالکان خود اپنے نمائندوں کو کہتے ہیں کہ ”اپنی کھاآئو اور ہماری لے آئو” ـ خبر کے معیار کی بجائے اس بات سے ہونے والی آمدنی پر توجہ دی جاتی ہے ـ اس روش نے صحافیوں کو گداگر بنا دیا ہے ـ ظاہر ہے کہ کوئی پروفیشنل صحافی یہ کام نہیں کر سکتا۔

اس لئے انہوں نے وہی لوگ بھرتی کئے ہیں جوان کی ناجائز کمائی کا ذریعہ بن سکیں ـانہوں نے کہا کہ وہ اس کی مذمت کرتے ہیں اور ان لوگوں اور ان اداروں سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں ـ ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم صحافی اور صحافت کے پیشے کے وقار کو ہمیشہ اولیت دیں گے ـ میں بحیثیت صدر پریس کلب آف پاکستان برطانیہ یہ چیلنج کرتا ہوں کہ ہم نے سکروٹنی کے عمل کو ترجیح دی ہے اور میری تنظیم میں کوئی ایک بھی ایسا رکن نہیں ہے جو پیشہ ور صحافی نہ ہو یا کسی مستند صحافتی ادارے کے ساتھ کام نہ کرتا ہوں ـ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک رکن سید علی شان بخاری جو حکومت پنجاب کے شعبہ اطلاعات سے وابستہ تھے ـ وہ کئی سال قبل دہشت گردوں کی طرف سے ہونے والے حملوں کے بعدا پنی جان بچانے کے لئے برطانیہ آئے تھے لیکن اتنا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود اور صحافیوں کی طرف سے بار بار کی درخواستوں کے باوجود ان کی باعزت وطن واپسی اور ان کی جاب پر باعزت بحالی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

ہم صحافیوں کو اس بات پر سخت تشویش ہے ـ قونصل جنرل آف پاکستان ڈاکٹر ظہوراحمد نے بتایا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے بارے میں نئی ہدایات آ چکی ہیںاور قونصل خانے نے اب ان پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ دوہرے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ والوں کو رعائیت دی گئی ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اپناایک کارڈ اور پاسپورٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ بعد میںدو شناختی کارڈوالے کے دونوں کارڈ بلاک ہو جائیں گے ایسی صورت میں مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔انہوں نے بیرسٹر امجد ملک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قانونی پیچیدگیوں اور سائل کے پیدا کردہ مسائل سے جو مشکلات درپیش تھیں و ہ ایک قانون دان کے او پی ایف کا سربراہ بننے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ وہ ان سے رابطے میں رہیں گے اور لوگوں کے مسائل جو میڈیا کے ذریعے ملیں گے وہ حتی المقدورحل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کمشنر آف پاکستان سید ابن عباس آئندہ جب بھی مانچسٹر آئیں گے ان کی صحافیوںکے ساتھ خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔

ویلفیئر اتاشی فضہ نیازی نے کہا کہ وہ 24 گھنٹے فون پر رابطے میں رہیں گی۔ اگر شکائت کنندہ اپنی شکائت تحریری طور پر دے تو اس پر عمل ممکن ہے زبانی شکایات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پریس کلب آف پاکستان کے سرپرست اعلیٰ وسیم الطاف خواجہ نے کہا کہ بارہ سال قبل جب انہوں نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تو ان کے بہت سے مثبت مقاصد تھے جو فوری طور پر تو حاصل نہ ہوئے لیکن ارکان نے مسلسل محنت سے آج برطانیہ میں پاکستانی صحافت کو جس بلند درجے پرپہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے میں اس کو سراہتا ہوں اور پریس کلب آف پاکستان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ـ انہوںنے کہا کہ ہم آج امجد ملک کو عوام کے سامنے پیش کر کے اپنا ایک فرض پورا کیا ہے تاکہ ہم یہ واضح کر سکیں کہ صحافی کا معاشرے میں مقام و فرائض کیا ہیں۔

پریس کلب آف پاکستان کے سابق صدر اعجاز افضل نے پریس کلب کی تاریخ اور اس کے طریق کار سے حاضرین کو آگاہ کیا اور کہا کہ ہم آئندہ بھی ایسے پروگرام باقاعدگی سے کرتے رہیں گے تاکہ پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو حل کروانے میں مدد فراہم کی جا سکے ـجہاں تک امجد ملک کی طرف سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ تحریری شکایات کریں نیز شکایات کو دل کے اندر رکھنے کی بجائے رجسٹرکروائیں ہم اس کی مکمل حمائت کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیںکہ عوام کے مسائل کو ان تک پہنچانے کے لئے برطانیہ کے صحافی اپنا کردار احسن طریقے سے نبھائیں گے ـ نظامت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے پریس کلب آف پاکستان کے جائنٹ سیکرٹری (قائمقام سیکرٹری) محمود اصغر چوہدری نے امجد ملک کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ صحافت کی ڈگری کے حامل امجد ملک ہمیشہ ہی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہے ـ یہ ان کی کامیابی ہے کہ جو کام چالیس سال میں نہ ہو سکا انہوں نے کر دکھایا اور ہم آئندہ بھی ان سے یہی امید رکھتے ہیں ـ ہم برطانیہ کے صحافیوں کی طرف سے انہیں اپنی طرف سے مکمل حمائت اور امداد کا یقین دلاتے ہیں۔

پروگرام کا آغازپریس کلب کے کوارڈینیٹر لیاقت علی شفقت نے تلاوت کلام پاک سے کیاـ اس موقع پر حاجی غلام رسول علی ، ثاقب راجہ ، اسحاق چوہدری ، انعام اللہ سہری ، چوہدری نصر اقبال ، چوہدری لیاقت باجوہ ، طارق لودھی ، حنا جبین ، مخدوم امجد شاہ ، تاثیر چوہدری ، غلام حسین اور دیگر افراد نے سوال کئے ـ اس پروگرام کے آرگنائزر اور پریس کلب آف پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد مرزا تھے جن کی معاونت سنئیر نائب صدر عارف پندھیر کر رہے تھےـ۔