ایڈیسن

Thomas Alva Edison

Thomas Alva Edison

تحریر : شاہ بانو میر
دنیا کے سب سے بڑے موجد کا نام”” تھامس ایلوا ایڈیسن””” جس نے ایک ہزار سے زیادہ ایجادات کیں ان میں گراموفون بجلی کا بلب اور سینما جیسی بری بڑی ایجادات شامل ہیں جس سے تمام دنیا مستفید ہو رہی ہے اسکے لیے بڑا مشہور مقولہ ہے کہ عام زندگی میں اتنی اسکی اشیأ کا استعمال ہے کہ اسکو یاد کرنے کیلیے اسکی یاد گار بنانے کی کوئ ضرورت نہی ہے۔

یہ سن 1876 کا زکر ہے موسمِ خزاں کی ایک صبح شہرِ نیو یارک کے ایک مشینیں بنانے والے نے اپنی دوکان ابھی کھولی ہی تھی کہ ایک نوجوان نمودار ہوا اور علیک سلیک کے بعد اس نے اپنے ہاتھ میں دے ہوۓ ایک کاغذ کو اس مشین بنانے والے آدمی کے سامنے رکھتے ہوۓ کہا کہ مجھے ایسی مشین چاہے کیا تم اسے میرے لیے بنا سکتے ہو۔

مشین بنانے والے نے بغور اس کاغذ کا معائنہ کیا تو ایک پیچیدہ سا نقشہ بنا ہوا نظر آیا اس نے گہری سانس لیکر کہا بنا تو دوں لیکن یہ ہے کیا؟ یہ نوجوان نے نقشے کو فخر سے دیکھتے ہوے کہا یہ وہ مشین ہے جو تمہیں گانے سنایا کرے گی کیا اس آدمی نے اسکی زہنی حالت پر شبہ کرتے ہوۓ اسکا بغور مشاہدہ کیا نوجوان اسکے خیالات کو بھانپ گیا ہنستے ہوۓ بولا فکر نہ کرو میں کوئئ پاگل نہی ہوں بس تمہیں مجھ پر اعتبار کر کے یہ بنانا ہو گا لیکن اسکا شبہ ابھی بھی برقرار تھا 4 یہ دیکھ کر نوجوان نے اسے کہا اچھا ایک بات سنو اگر یہ مشین سچ مچ بولنے لگی تو تم مجھے کیا دو گے گویا شرط والی بات ہے دوکاندار نے سر کھجاتے ہوے کچھ دیر سوچا پھر کہا اگر میں ہار گیا تو دس ڈالر تمہیں دوں گا اور اگر تم ہار گئے تو تم کیا دو گے میں نوجوان نے کچھ دیر سوچا پھر کہا کہ پیسے تو نھی ہیں میرے پاس لیکن میں تمہیں ایک بوتل شھد اصل دوں گا 4 مشین مین کو یقین ہو گیا کہ وہ گھاٹے میں نھی رہے گا۔

اس نے شرط لگا لی اور اسکے بعد وہ مشین بنانے میں مصروف ہو گیا کچھ روز بعد وہ نوجوان واپس آیا تو مشین تیار تھی 4 اس نے بہت احتیاط سے اسکا مشاہدہ کیا اور پھر اسکے ساتھ اس نے کچھ کاروائئ بھی کی ـ اسکے بعد اس نے اسکا ہینڈل گھمایا تو اس مشین میں سے ہلکی ہلکی آواز آنے لگی یہ الفاظ دنیا کے پہلے فونو گرام سے نکلے تھے وہ الفاظ سنیے میری کا ایک ننھا بکری کا بچہ تھا جس کے بال برف کی طرح اجلے تھے مشین مین جو مشین کو بولتے دیکھا تو گھبرا کے بھاگنے لگا لیکن نوجوان نے اسے پکڑ لیا اور کہا کدھر جناب ؟ ابھی تو دس ڈالر دینے ہیں جی ہاں یہی نوجوان تھا تھامس ایلوا ایڈیسن اور یہ مشین اسکے زرخیز زہن کی پہلی تخلیق تھی۔

Thomas Edison Created the Light Bulb

Thomas Edison Created the Light Bulb

اتفاق سے دنیا کے اکثر مشہور لوگوں کی طرح ایڈیسن کا خاندان بھی بہت غریب تھا ـ وہ 1847 میں پیدا ہواتھا وہ ایک قصبے میں پیدا ہوا جسکا نام میلان تھا یہ امریکہ کی ریاست او ہایو میں واقع تھا جب ایڈیسن کچھ بڑا ہوا تو اسکے باپ نے اسے سکول داخل کروا دیا غربت کی وجہ سے وہ بہت دن سکول نہی جا سکا اور گھر بیٹھنا پڑا اور اس نے خود ہی اچھی بری تعلیم گھر میں حاصل کی اسے قدرت نے ایک اچھا ذہن عطا کیا تھا اس لیے وہ خود ہی محنت کرتا ہوا ترقی کے مدارج طے کرتا رہا بہت چھوٹی عمر سے ہی اسے سائنس کے مضمون سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اور اپنے گھر کے ایک کونے میں اس نے ایک تجربہ گاہ بنائی ہوئی تھی ـ جہاں وہ اپنے بچگانہ تجربات کرتا رہتا تھا کچھ عرصے کے بعد ایڈیسن کے گھر والے مشی گن منتقل ہو گئے یہاں انکو گھر کے اخراجات کیلیے نسبتا زیادہ رقم کی ضرورت پڑتی تو اسکے باپ نے اسے کہا کہ وہ بھی گھر چلانے میں اسکی کچھ مدد کرے ایڈیسن کو جو پہلا کام ملا وہ تھا ریل گاڑیوں میں اخبار بیچنے کا ـ یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہی تھا ٹائم بھی زیادہ نہی لگتا تھا اور ساتھ ہی اس سے کچھ بچت بھی ہو جاتی تھی اور آہستہ آہستہ ایڈیسن کے پاس رقم جمع ہونے لگی اس نے اپنی بچت سے پھر ایک مشین خرید لی جو چھاپنے کے کام آتی تھی۔

اس نے ریل کے ایک خالی ڈبے میں اجازت لے کر اس مشین سے اپنا اخبار چھاپنا شروع کر دیا اس وقت اس کی عمر صرف 15سال تھی گھر میں اتنی جگہ نہ تھی کہ یہ اپنے تجربے کرتا لہذا اس نے وہیں ڈبے میں اپنی تجربہ گاہ بھی بنا لی فارغ وقت میں وہیں اپنے تجربات کرتا رہتا ایسے ہی ایک تجربے کے دوران فاسفورس بھڑک اٹھی اور اس ڈبے میں آگ لگ گئی اسٹیشن ماسٹر کو جب پتہ چلا تو غصے سے پاگل ہو گیا اس نے اسکا سارا سامان اٹھا کر باہر پھنکوا دیا جب ایڈیسن نے کچھ کہنا چاہا تو اس نے اتنے زور کا تھپڑ مارا کہ ایڈیسن اسی دن سے اپنی سماعت ہمیشہ کیلیے کھو بیٹھا سماعت کا چلے جانا اس بچے کے لیے ایک ،سانحے سے کم نہ تھا۔

لیکن وہ بہت ڈھیٹ مٹی سے بنا ہوا تھا وہ ذرا بھی بد دل نہ ہوا یہ بات اس نے شہرت کے آسمان پر جانے کے بعد بتائی یہ بہرہ پن میرے لیے وجہ رحمت بنا کیونکہ میں”” فضول باتوں سے ہمیشہ محفوظ رہتا”” اور اپنے کام کو زیادہ یکسوئی سے سرانجام دیتا وہ اس وقت بھی اپنا علاج کروا سکتا تھا لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی ریل کے ڈبے سے نکالے جانے کے بعد وہ اخبار تو نھی چھاپتا تھا لیکن بیچنے کا سلسلہ اس نے جاری رکھا ایک روز جب وہ پلیٹ فارم پر اخبار بیچ رہا تھا اچانک اس نے دیکھا کہ سٹیشن ماسٹر کی بیٹی پٹڑی کے درمیان کھڑی ہے اور ادھر سے ٹرین آرہی تھی اس نے اخبار وہیں پھینکے اور بچی کو بچانے کیلیے جان کی پرواہ کیے بغیر پٹڑی کی طرف دوڑا اتفاق سے سٹیشن ماسٹر خود بھی یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ایڈیسن نے اسکی بچی کو چند لمحوں کی دوری سے موت کے منہ سے بچایا تھا۔

Thomas Edison

Thomas Edison

سٹیشن ماسٹر نے اسکا بہت شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اسکو سٹیشن پر تار بھیجنے کا کام دلوا دیا اب اسکے مالی حالات پہلے سے قدرے بہتر تھے اس لیے اس نے پھر سے اپنے تجربات شروع کر دیے محکمے میں اسکی ڈیوٹی یہ تھی کہ ہر ایک گھنٹے کے بعد اسے سگنل بھیجنا ہوتے تھے دن کو تو آسان ہو تا تھا لیکن رات میں اسے مشکل ہوتی تھی اسے مسلسل جاگنا پڑتا تھا آخر سوچ کے دن رات کی محنت سے اس نے ایک ایسی ڈیوائس بنا لی جو خود کار تھی اور ہر ایک گھنٹے کے بعد خود بخود سگنل بھیج دیتی اسظرح وہ خود آرام سے سوتا رہتا اور سگنل بھی ٹھیک ٹائم پر ملتے ـ
اس وقت اسکی عمر 19 سال تھی اس کے بعد اس نے ووٹ گننے والی مشین بنا لی ـ پھر اس نے ایک ٹیپ مشین بنائی۔

اسکے بعد اس نے ایک اور مشین بنائی جو اس فلم کو پردے پر دکھاتا تھا ـ یہاں یہ رکا نہی اس نے اسکے ساتھ ہی یہ کام بھی کیا کہ اس کیمرے کے ساتھ ہی فونو گرام کو بھی جوڑ دیا اب نہ صرف متحرک فلم چلتی بلکہ ساتھ ھی انکی آواز بھی آتی جب پہلی جنگِ عظیم چھڑی تھی اس وقت بھی ایڈیسن نے اپنے ملک کیلیے بہت گرانقدر خدمات سر انجام دیں تھیں ـ اس وقت اسکی عمر 67 سال تھی اور اسکی یہ ایجادات بہت کام آئیں تھیں ـ ایڈیسن بہت صابر ثابت قدم انسان تھا کہتے ہیں کہ وہ مشکل سے صرف دو گھنٹے سوتا تھا ـ بقیہ وقت وہ کام میں مشغول رہتا تھا اور اسے کسی بات کی ہِوش نہی ہوتی تھی وہ اتنا کم سوتا تھا کہ ایک بار ملازم ناشتہ بنانے میں مصروف تھا یہ انتظار کرتے کرتے میز پر ہی سو گیا ملازم ناشتہ رکھ کے چلا گیا اتنے میں اسکا ایک دوست آیا اور اسکا ناشتہ کر کے واپس جاتے ہوۓ ملازم سے کہ گیا کہ کہ اسکے آنے کا اسے بتا دیا جائے کہتے ہیں کہ ایڈیسن کچھ دیر بعد اٹھا خالی برتن دیکھ کے وہ سمجھ کہ وہ ناشتہ کر چکا ہے اس نے اطمینان سے سگار نکالا سلگایا اور پینا شروع کر دیا جیسا کہ وہ اکثر ناشتہ کرنے کے بعد پیتا تھا ـ اسکی غائب دماغی کا اپنے کام سے گھرا تعلق ظاہر کرتا تھا اور درحقیقت اس نے اپنے ملک کیلیے بہت خدمات سر انجام دی تھیں 18 اکتوبر 1921 کو اس عظیم انسان اور موجد کا انتقال ہو گیا اس وقت اسکی عمر 84 سال تھی اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنی تجربہ گاہ میں گزار دیا۔

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر