دلخراش واقعات اور ہماری حسی

Submerge

Submerge

تحریر: نذر حسین چودھری
چلو بیٹی تجھے عید کے کپڑوں لا دوں تو معصوم بیٹی نے حیران کن نظروں سے باپ کو دیکھا ۔وہ پچھلے کئی روز سے باپ سے نئے کپڑوں کی ضد کر رہی تھی ۔گزشتہ رات بھی اُس نے جب اپنی توتلی زبان سے باپ کے سامنے نئے کپڑوں کی فرمائش سامنے رکھی تو باپ نے کمرے کے ایک کونے میں پڑی فالج زدہ اپنے بوڑھی ماں کی جانب کچھ ایسی نظروں سے دیکھا کہ اُس بوڑھی کی آنکھوں سے بھی آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی۔

دوسرے روزبیٹی ہنسی خوشی باپ کے ساتھ نئے کپڑوں کی خریداری کیلئے تیار ہوئی ۔باپ مسلسل اپنی بیٹی سے نظریں چرا رہا تھا ۔بیٹی کو اُٹھایا اور باہر کی جانب چل پڑا ۔کچھ دور جانے کے بعد اُس نے راستہ بدل دیا اور نہر کی جانب اپنا رخ موڑ لیا ۔نہر کے پاس پہنچتے ہی بیٹی کو ایک جھٹکے سے نہر میں پھینکا اور وہاں سے بھاگا ۔موقع پر شور و غل برپا ہوا۔ لوگوں نے تعاقب کر کے اُس کو پکڑا لیا ۔کچھ لوگوں نے نہر میں چھلانگ لگائی اور بچی کو باہر نکالا تاہم اس وقت تک معصوم پری کوسوں دور جا چکی تھی ۔یہ کہانی نہیں سچا واقعہ ہے جو راجن پور میں پیش آیا ۔بچی کا باپ کئی روز سے بے روزگار تھا۔

Suicide

Suicide

اُوپر سے بوڑھی ماں کی بیماری اور پھر بال بچوں کی فرمائشیں سو اُس نے وہ کام کر دیا جس سے انسانیت کی بے حسی پوری طرح عیاں ہو کر رقص کرتی نظر آتی ہے ۔جیسے جیسے عید نزدیک آرہی ہے ایسے دل سوزاور دل خراش واقعات بھی بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔فیصل آباد میں بیوی نے ہر سال کی طرح عید کی شاپنگ نہ کرانے پر بیچ سڑک پر بچے اور شوہر کو چھوڑ کر قریبی نہر میں چھلانگ لگا دی ۔حال ہی میں ٹمن کے گائوں کھوئیاں میں چالیس سالہ شخص نے قرض کا بوجھ ساتھ لئے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی ۔دوسری جانب اِنہیں خبروں کے ساتھ وزیر اعظم ہائوس کے باتھ روموں کی تزئین و آرائش کیلئے 22 کروڑ کے فنڈز منظوری کی خبر پڑھ کر اِن نا ہنجار حکمرانوں کے انجام کا سوچتے ہی جیسے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اِن کا انداز حکمرانی ،اِن کے پروٹوکول دیکھیں۔کیا اِن کو احساس نہیں ہے کہ وہ اپنی ہلاکت کا ساماں سے سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں ۔چند روز قبل ہی تلہ گنگ شہر میںبڑی بڑی گاڑیوںکی اُڑتی دھول میں سڑک کنارے اپنا رزق چھاننے والوں میں وہ آزار بند اور بنیان بیچنے والا اٹھارہ سالہ لڑکا ہاتھ جوڑ جوڑ کر سامان ضبط کرنے والوں کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔شام کو وہ اپنے گھر کیا لے کر گیا ہوگا ۔اگر خدانخواستہ اُس نے اپنے ساتھ کچھ کر لیا تو کون ذمہ دار ہو گا ۔حکومتوں کا کام تو لوگوں کو اُن کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے ۔یہاں کیا ہو گیا جو لوگوں سے اُن کے چند سوروپے کمانے والے روز گارکو بھی چھینا جا رہا ہے ۔ٹی ایم اے میں بڑی تعداد میں ضبط کی گئی ریڑھیاں پڑی ہیں ۔اُن کے غریب مالکان کدھر گئے ۔ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے کیا کسی کو کوئی پتہ ہے؟۔

Fatherless

Fatherless

ان میں سے کسی نے راجن پور والے باپ کا روپ دھار لیا تو ذمہ دار کس منہ سے روز قیامت اپنے شفیق اور رحمت العالمین نبیۖ کا سامنا کرینگے ۔جو عید کی نماز ادا فرمانے گھر سے باہر تشریف لے گئے تو ایک اکیلے بچے کو دوسروں سے الگ تھلگ پاکر اُس کے پاس گئے اور پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ یتیم تھا ۔سر پر اپنا دست شفقت رکھا اور گھر لے گئے ۔خلیفہ دوئم کے دور کو ہی دیکھ لیں ۔ امیر المومنین عمر کوتمہارے حالات کا کیا پتہ ۔حضرت عمر فاروق نے جب ایک بڑھیا کو اُس کے بھوک سے بلکتے بچوں کے سامنے اپنی صفائی دینی چاہی تو بڑھیا نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق کویہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ جب اُن کو ہمارے حالات کا نہیں پتہ تو کیوں وہ ہمارے خلیفہ بنے۔

فوراً دوڑے بیت المال پہنچے کھانے پینے کی ضروری اشیاء خادم سے کہہ کر اپنے کمر پر لادی اور بڑھیا کے پاس واپس پہنچے اور جب تک اُن کے چہروں پر مسکراہٹ نہ دیکھ لی ۔چین نہ آیا۔میری حکمرانوں نہیں بلکہ سرکاری افسران سے درخواست ہے کہ خدارا حکمران تو ہیں ہی ظالم کم از کم آپ ہی ان چھوٹے چھوٹے برسرروزگار غریبوں کے ساتھ اپنا رویہ مہربانوں جیسا رکھیں اگر اُن سے کوئی غلطی ہو رہی ہے تو پیار سے سمجھائیں ۔تنبیہ کریں ۔وارننگ دیں ۔ایسا ظلم نہ کریں کہ اُن کا سامان ہی ضبط کر لیں ۔اللہ پاک سب کو ہدایت اور سیدھا راستہ پر چلنے کی توفیق عطا ء فرمائیں۔ امین

Nazar Hussain Chowdhury

Nazar Hussain Chowdhury

تحریر: نذر حسین چودھری
chnazar@gmail.com
03005326258