سچا پیار

Hazrat Zainab

Hazrat Zainab

تحریر: ڈاکٹر خالد فواد الازھری
کیا محبت تھی حضرت زینب کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گویا کہ وہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی،اور یہ محبت و عاطفیت کیوں نہ ہوتی کیوں کہ وہ کامل ترین عورت اور خواتین کی سردار حضرت خدیجہ کی بڑی بیٹی جو تھیں۔ زمانہ جاہلیت میں اسلام کی تنشیر و تبلیغ سے قبل ابوالعاص ابن ربیع نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی اور حضرت زینب سے عقد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا،تو جواب میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں کچھ بھی نہیں فیصلہ کر سکتا تاوقتیکہ میں اس کی رائے نہ جان لوں ،اور اس کو مطلع نہ کروں۔یہ عمل نبی کریم ۖ کی اعلیٰ اخلاق اور بزرگواری کا بہترین مظہر ہے کہ آپ نے جبر و ظلم اور ظاغوت اور اپنا فیصلہ بیٹی پر مسلط کرنے سے اجتناب کیا اور اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کی تحقیر و تذلیل کے ادنیٰ سے بھی خطرہ سے اجتناب کیا گیا۔نبی معزز صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متبسم چہرے کے ساتھ حضرت زینب کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تمہاری خالہ کا بیٹا ابوالعاص آیا اور اس نے تمہارا نام لے کر تم سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ،کیا تم راضی ہو؟تو وہ مسکرائیں اور اور اپنی رضامندی کا اظہار کیا،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرعت کے ساتھ اور ابوالعاص کو خوشخبری سنائی اس طرح یہ عقد تکمیل کو پہنچا اور یہیں سے حضرت زیب اور ابوالعاص میں محبت ومودت کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس شادی کا ثمرو پھل ”علی ”و ”امامہ”کی ولادت ہوئی اور اس طرح دونوں میاں بیوی خوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ابوالعاص بھی خوشحال تھے کیوں کہ انہوں نے حضرت زینب کی مثل کسی عورت کو نہیں دیکھا ۔۔۔اسی اثنا میں ایک مشکل ظاہر ہونا شروع ہوئی وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کی اور انہیں دین اسلام کی دعوت کا فریضہ سونپ کر خاتم النبیین کا اعزاز بخشا ،ابوالعاص حالت سفر میں تھے،جب وہ سفر سے واپس آئے تو حضرت زینب کو پایا کہ وہ اسلام کے آغوش میں داخل ہوچکی تھیں اور اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر ان کی مکمل اتباع کررہی تھیں۔ابوالعاص جب گھر میں داخل ہوئے تو حضرت زینب نے بتایاکہ میرے پاس تمہارے لیے ایک بڑی خبر ہے

اور ساتھ ہی اپنے قبول اسلام کی خبر دی توابوالعاص غصے کے ساتھ ان کے پاس سے اٹھے اور یہ کہتے ہوئے چلنے لگے کہ تم پر لازم تھا کہ تم مجھے اس امر سے متعلق پہلے بتاتی۔ یہ پہلی مصیبت اس خاندان میں پیش آئی۔۔۔اور یہ مشکل عقیدہ کی تھی ۔۔لیکن حضرت زینب اس کے پیچھے چل پڑیں یہ بتاتے ہوئے۔۔آئے ابوالعاص تم جانتے ہو کہ میرے ابو کبھی جھوٹ نہیں بولتے ،بیشک وہ صاق و امین ہیں،اور صرف میں نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ میری والدہ(خدیجہ)اور بہنوں ،چچازاد بھائی (علی ابن ابی طالب)،تمہارے اقربا میں سے (عثمان بن عفان)اور تمہارے دوست و محبوب (ابوبکر صدیق)نے بھی اسلام قبول کیا ہے۔

نظرمحبت و الفت کے ساتھ حضرت زینب کی طرف دیکھا اور کہاکہ ائے زینب! میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ لوگ مجھے کہیں کہ میں نے اپنا دین چھوڑ کر بیوی کے نقش قدم پر چل پڑا، لیکن اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ تمہارے ابا جان صادق ہیں اور ان پر کوئی تہمت نہیں لگائی جاسکتی۔ میرے حالات مجھ پر تنگ ہوچکے ہیں ۔۔اب میں بڑی مشکل میں گھر چکا ہوں ۔۔۔کیا تم میرا عذر قبول کروگی؟ جواب ملا کہ میں اگر تم سے درگزر نہیں کروں گی تو کون کرے گا؟ جب کہ تم میرے شوہر ہو!لیکن مجھ پر لازم ہے کہ میں تمہاری حق کے راستے میں مدد کروں یہاں تک کہ تم ایمان لے آئو۔۔۔۔حضرت زینب ٠٢ سال تک اپنے شوہر کی منتظر رہیں ،یہ وفا کی بڑی مثال ہے۔

Migrated

Migrated

وقت ہجرت آن پہنچا ،مسلمان جماعات کی شکل میں ہجرت کرنے لگے ،حضرت زینب کے سینہ میں ابی العاص کے ایمان لانے کی حرص تھی،اس لیے انہوں نے حضورۖ سے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت طلب کی تو آپۖ نے اجازت مرحمت فرمادی،ہمیشہ ان کے ساتھ مخلصانہ رویہ اختیار کیے رکھا۔بس وہ لمحہ آن پہنچا جس کا حضرت زینب کو خوف تھا کہ غزوہ بدر واقع ہوا اور ابی العاص مشرکین کی صف میں شامل ہوکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے!!کہیں خاوند قتل نہ ہوجائے ؟!یا پھر محبوب و شفیق باپ کے سایہ شفقت سے محروم نہ ہوجائے اس لئے ان کی آنکھیں برس رہی تھیں،یہاں تک کہ معرکہ ختم ہوا اور حضرت زینب مسلمانوں کی کامیابی پر خوش ہوئیں ،اور ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خاوند قید ہوگئے ہیں

اور قیدیوں کی رہائی و آزادی کے لئے فدیہ مقرر کیا گیا ہے ،انہوں نے سرعت کے ساتھ اپنے شوہر کی رہائی کے لئے فدیہ کی ادائیگی کے انتظام کرنے میں لگ گئیں مگر جب کچھ بھی نہ ملا تو انہوں نے اپنی شادی کے موقع پر اپنی والدہ کا جو ہار ملا تھا اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ،جب نبی کریم فدیہ میں پیش کیے گئے اموال کا جائزہ لے رہے تھے تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ہار پر نظر پڑی جو حضرت زینب نے ابی العاص کے فدیہ میں بھیجا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے ۔۔۔ان کو یا د آگیا کہ یہ ہار تو حضرت خدیجہ کا تھا جو انہیں عقد پر دیا گیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو حضرت خدیجہ کی نشانی واپس کردی جائے اور ابی العاص کو رہا کردیا جائے تو صحابہ نے موافقت ظاہر کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہار ابی العاص کو دیتے ہوئے کہا کہ اس کو ضائع نہ کریں ۔۔۔۔اور ہاں میں اکیلے میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان اور کافر کے عقد کو حرام قرار دیا ہے ،میں تم سے درخواست کرتاہوں کہ میری بیٹی کو مدینہ بھیج دو۔ابی العاص مشکور نظروں کے ساتھ آپۖ کو دیکھتے ہوئے مکہ روانہ ہوئے اور وہاں حضرت زینب ان کی منتظر تھیں ،ابی العاص نے وفا داری کرتے ہوئے حضرت زینب کو بچوں سمیت مدینہ رخصت کیا اگر چہ حضرت زینب کا مسلسل اسرار تھا کہ اسلام قبول کرلیں مگر وہ راضی نہ ہوئے ۔وہ بچوں کو لے کر مدینہ پہنچیں کہ اشکوں کا سیل روتھمتا نہیں تھا۔یہ جدائی ہوئی اور ابی العاص کے جملے کو یاد کرتی رہتی تھیں کہ وفا کے لیے قیمت ہے ،اور نبی کریم ۖ نے وفاداری کا حق اداکردیا ۔۔مدینہ میں ٦ سالوں تک جتنے بھی نکاح کے پیغام آئے ان کو مسترد کرتی رہیں اپنے خاوند سے وفاداری کرتے ہوئے ،اور ساتھ ہی یہ امید رکھتی تھیں کہ وہ حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔

Syria

Syria

چھے سالوں کے بعد ابی العاص تجارتی قافلے کی قیادت کرتے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں صحابہ کرام نے انہیں گھیر لیا ،مال تجارت چھین کر انہیں قیدی بنالیا،تو ابی العاص حضرت زینب کا پوچھتے ہوئے ان کے گھر پہنچے جیسے ہی دروازہ کھولا تو حضرت زینب نے سوال کیاخالہ کے بیٹے اسلام لے آئے؟تو جواب دیا نہیں ،بلکہ میں بھاگ کر آیا ہوں ۔۔ِ،تو حضرت زینب نے کہا ڈرومت خوش آمدید علی و امامہ کے ابا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو ابی العاص کی آواز سنی تو پوچھا کیا یہ آواز ابی العاص کی نہیں ہے؟تو صحابہ نے کہا جی انہی کی آوازہے۔حضرت زینب نے کہا کہ ابی العاص مجھ سے دور ہیں کیوں کہ وہ خالہ کے بیٹے ہیں اور قریب بھی ہیں کیوں کہ وہ میرے بچوں کے باپ ہیں۔حضور ۖ نے شفقت کے ساتھ حضرت زینب کی طرف دیکھا اور صحابہ سے کہا کہ میں نے ایک بار انہیں امان دی اور اگر تم چاہو تو انہیں مال دے کراپنے شہر جانے دو یہ میرے لیے باعث خوشی ہوگی اور اگر آپ مسترد کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔صحابہ کرام نے کہا کہ ہم انہیں ان کا مال عطاکرتے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب صحابہکے سامنے اعلان کیا کہ آج ہم نے ان کا حق پورا اداکردیا جس نے تمہارے حق کا تحفظ کیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمحضرت زینب کے گھر داخل ہوئے اور کہا کہ ابی العاص کا اکرام و احترام کریں مگر اس کے قریب نہ جائیں کیوں کہ وہ حرام ہیں تم پر تو جواب میں حضرت زینب نے جی ہاں کہا۔ ابی العاص کے پاس گئیں اور کہا کہ کیا تمہیں گذرے ہوئے ایام یاد نہیں آتے ؟کیا آپ بھول گئے ہمارے تعلق کو؟اسلام قبول کیجیے!ابی العاص نے انکار کیا اور مال تجارت لے کر مکہ روانہ ہوگئے۔مکہ میں داخل ہوکر لوگوں کو آواز لگائی اور جمع کیا اور کہاکہ یہ تمہارا مال ہے کیا اس میں کوئی کمی ہے؟؛لوگوں نے کہا کہ نہیں تو ابی العاص نے کہا کہ میں تم تک یہ مال پہچانے آیا ہوں اور تمہارے سامنے کہتا ہوں کہ”میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں”۔مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدھا نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوکر فرمایا کہ آپ نے کل مجھ پر احسان کیا اور زندگی بخشی اور آج میں آپ کے سامنے اسلام قبول کرتاہوں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ کیا اب مجھے اجازت ہے کہ میں حضرت زینب سے رجوع کرلوں !نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آجائو میرے ساتھ ۔حضرت زینب نے دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماور حضرت ابی العاص کو پایا ۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہاری خالہ کے بیٹے آئے ہیں تمہیں اختیار کرنا چاہتے ہیں

کیا تم قبول کرتی ہو؟ حضرت زینب کا چہر ہ سرخ پڑ گیااور مسکرائیں۔ کتنا مثالی اخلاص اور وفا ہے! کس قدر قلب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انسانیت کے لیے رحمت و شفقت ہے اور ان کے لئے رواداری۔ دونوں محبوب ایک ساتھ جمع ہوگئے مگر زمانہ کی طویل آزمائشوں کی بدولت حضرت زینب بیمار ہوچکی تھی صرف ایک سال بعد وہ انتقال کرگئیں۔حضرت ابی العاص غمگین ہوئے اورحضرت زینب کے فراق کے سبب ہرمقام پر روتے تھے نبی کریمۖ انہیں تسلی دیتے تھے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیتے تھے کہ مجھ پر موت آسان ہے بنسبت اس جدائی کے لمحات کو برداشت کرنے سے۔نبی معزز صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی انہیں دیکھتے تو انہیں تسلی دیتے تھے ،حضرت ابی العاص اپنی زندگی کے لطف کو کھوبیٹھے جب سے حضرت زینب کا انتقال ہو،اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بہت زیادہ روئے ان کی وفات پر۔ کیا ہی محبت ووفاتھی؟!

Dr Khalid Fawad

Dr Khalid Fawad

تحریر: ڈاکٹر خالد فواد الازھری
Khalidfuaad313@gmail.com
03135265617