ٹرمپ کا تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی میں نرمی کا عندیہ

Trump

Trump

واشنگٹن (جیوڈیسک) ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق اپنے مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکہ سے زبردستی بے دخل نہیں کریں گے۔

رواں ہفتے اپنے مختلف انٹرویوز میں ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مقیم تارکینِ وطن سے متعلق اپنی پالیسی کی وضاحت کی جس پر انہیں ماضی میں مخالفین کی کڑی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

تاہم، ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکی شہریت بھی نہیں دیں گے۔ امریکہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ 10 لاکھ کے قریب دوسرے ملکوں کے ایسے شہری موجود ہیں جن کے پاس امریکہ میں قیام کی قانونی دستاویزات نہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو ان تمام افراد کو ان کے آبائی ملکوں کو واپس بھجوا دیں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جرائم میں ملؤث غیر قانونی تارکینِ وطن کی امریکہ سے فوری بے دخلی اور دیگر افراد کے امریکہ میں قیام کا فیصلہ عدالتوں پر چھوڑنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی حکومت کی غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق موجودہ پالیسی سے قریب تر ہے۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار کا مزید کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکی شہریت نہیں دیں گے، بلکہ انہیں ٹیکس دینے کا بھی پابند بنائیں گے، تاکہ وہ امریکہ میں اپنے قیام کی قیمت ادا کریں۔ ان کے بقول ان افراد کے امریکہ میں غیر قانونی داخلے کا جرم معاف نہیں کیا جائے گا۔ لیکن، ان تارکینِ وطن کے مستقبل کا فیصلہ ان کے ساتھ مل بیٹھ کر طے کیا جائے گا۔

اپنے انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کی اپنی تجویز پر قائم ہیں، تاکہ لاطینی امریکہ سے آنے والے تارکینِ وطن کے امریکہ میں غیر قانونی داخلے کو روکا جاسکے۔

ٹرمپ کے مخالفین ان کی اس تجویز کا ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن ری پبلکن کے سخت گیر اور تارکینِ وطن مخالف حلقوں میں اس تجویز نے ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔