ٹوئٹر مافیا اور پختون

Pashtun Peoples

Pashtun Peoples

تحریر : قادر خان افغان
پختونوں کی تاریخ اس قدر طویل ہے کہ اس پر بحث ہزاروں سال سے جاری ہے اور ہزاروں سال تک جاری رہے گی لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری اولادیں اپنی حسب و نسب کے بارے میں زیادہ معلومات رکھنے کے بجائے ، ڈسکو ، راک ، الاپ اور مغربی میراثیوں اور پاکستانی بھانڈوں پر زیادہ ریسرچ کرنے لگے ہیں۔ یہاںپختون کی تاریخ پر بحث مقصود نہیں ہے ، لیکن دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ پختون قوم کو پاکستان میں آباد دیگر قومیتوں کے کچھ تعصب پسند عناصر ان کی اہمیت و قابلیت تسلیم کرنے کے بجائے ان کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش رچتے رہتے ہیں ، پختون قوم کے ساتھ ملک کے ہر گوشے اور ادارے میں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ہمارا میڈیا بھی اس عصبیت میں سر فہرست ہے۔ مثال کے طورجب شمال مغربی سرحدی صوبہ ، کا قابل قبول نام رکھنے کے مطالبات کئے جاتے تو اسے فوری طور پر پاکستان سے الگ ہونے کا سنگ بنیاد قرار دیا جاتا تھا ، لیکن بالاآخر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری و اسفندیار ولی خان کی کوششوں سے میاں نواز شریف اس بات کیلئے راضی ہوگئے کہ آئینی ترمیم میں اگردو بار سے زائد وزیر اعظم بننے کی پابندی ختم کرنی ہے تو شمالی مغربی سرحدی صوبے ، کے پختونوں کو اس کی پہچان دینی ہوگی۔

پختون قوم آصف علی زرداری کی احسان مند ہیں اگر وہ چاہتے تو اس کا مکمل کریڈٹ لے سکتے تھے ، لیکن بقول اسفندیا ر ولی خان ، آصف علی زرداری نے ان پر ہی نہیں بلکہ قوم کو تشخص دینے پر پوری پختون قوم پر احسان کیا ہے۔نام کے انتخاب کیلئے پختونستان ، کا نام رکھنے میںبظاہر کوئی مضائقہ نہیں تھا ، جب بلوچستان ، ہوسکتا ہے ،( حالاں کہ وہاں بلوچوں کی تعداد دیگر قومیتوں کے مقابلے میں بلوچستان میں کم ہے) ، پنجاب کے پنجابی ، ( پنجاب میں پنجابی، سندھ میںسندھی ہو سکتا تھا تو پختون کا پختونستان کیوں نہیں ہوسکتا تھا ۔ اسفندیار ولی خان تو کہتے تھے کہ پختونستان بھی چھوڑیں ، جو قائد اعظم نے نام افغانیہ رکھا تھا وہی دے دیں ۔لیکن ایک تعصب تھا جو برتنا تھا ، اس لئے فیصلہ ہوا کہ پختونخوا رکھا جائے۔اس نام کی عظیم تاریخی شناخت تھی، عظیم پختون شہنشاہ احمد شاہ ابدالی، جن کا تعلق قندھار سے تھا ، انھوںنے تین سو سال پہلے اپنی شاعری میں اپنے وطن کا نام پختونخوا لکھا۔پیر محمد کاکڑ، عبدالسلام اشزائی ،علامیہ عبدالعلی اخوندزادہ نے بھی صدیوں پہلے اپنی کتابوں میں اپنے وطن کا نام پختونخوا لکھا۔رحمان بابا نے چار سو سال پہلے پشاور میں اور خوشحال خان خٹک بابا نے ساڑھے چار سو سال پہلے اکوڑہ خٹک میں اپنے شاعری میں اپنے وطن کا نام پختونخوا ہی استعمال کیا۔

افغانستان کا نام سرکاری طور پر اس وقت ابھرا جب دیگر اقوام نے ، قوم ، حکومتوں کے لین دین اور رابطوں میں افغانستان کا نام استعمال کرنا شروع کیا ۔ یوں آہستہ آہستہ اسی نام کی کرنسی بھی بنی اور حکومت بھی۔پختونخوا ، کا نام جب پاکستان کے شمالی مغربی سرحدی صوبے ، کیلئے منتخب کئے جانے لگا تو حسب توقع اس نام پر اعتراضات شروع کردیئے گئے ، اور میاں نواز شریف نے بلا وجہ خیبر کے غیر ضروری لفظ کو ساتھ لگا کر دوبارہ نام لمبا چوڑا بنا دیا، اور خیبر لگانے کی مضحکہ خیز توجہہ پیش کی، ان کے اس تعصب کی وجہ سے اب صوبے کو اس کے پورے نام کے بجائے’ کے پی کے ‘کے نام سے لکھے جانے لگا ہے۔ یہاں تک کہ بعض نا اہل اور تعصب پسند اخبارات کے رپورٹرز نے’ خیبر پختون’ ، کسی نے ‘ خیبر پختونخواہ ‘ لکھنا شروع کردیا ۔پاکستان کا نام جب تجویز کیا جا رہا تھا ، تو پاکستان میں لفظ ‘ الف ‘، شمالی مغربی سرحدی صوبے ، کے لئے افغانیہ رکھا جاناتھا ۔پ سے پنجابی ، الف سے افغان ( نسلی اعتبار سے پختون افغان کہلاتے ہیں ، وطنی لحاظ سے پختون قوم کا نام ہے )۔ک سے کشمیر، س سے سندھ ، تان سے بلوچستان، یعنی بلوچ۔ لیکن پاکستان کے حروف سے الف پر رکھے گئے نام پر صوبے کا نام نہیں رکھا گیا۔ پاکستان کا نام رکھے جانے میںصوبہ پختونخوا کو بعد میں شامل ہی نہیں کیا گیا ، شائد یہی وجہ تھی کہ وہاں کی جمہوری صوبائی حکومت کو برخاست کرکے گورنر راج لگا دیا گیا۔

NWFP

NWFP

صوبہ سرحد، عام نام کے طور پر لکھے اور پکارے جانے لگا ، جس کے معنی اس کے نام سے ہی ظاہر ہیں ، بھلا ہزاروں سال کی قومیت کا تشخص رکھنے والی قوم کا نام فرنٹیئر ہوسکتا ہے، جب آئین میں نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ ہی لیا گیا تو بعد میںصوبہ پختونخوا میں ” ہ” کا اضافہ کیا معنی رکھتا تھا۔ پختونخوا کے معنی ‘ پختونوں کا علاقہ ‘ ۔ خوا ، پشتو کا لفظ ہے ۔جس کے معنی” سمت ، طر ف ” کے ہیں ۔جغرافیہ کے حوالے سے “علاقہ ، زمین ، وطن یا لینڈ” خواہ کا لفظ نہ تو پشتو ڈکشنری میں ہے اور نہ ہی اس کے کوئی معنی ہیں ، یہ فارسی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مطلب ، چاہتا ، مانگتا ہوں ،پختونخواہ لکھنا بالکل غلط ہے ، اور بعض اخبارات خاص طور پر صوبے کے نام کو خیبر پختون ، کے پختونخوا لکھتے ہیں ، ان کو بھی چاہیے کہ وہ اصلاح کریں اور کسی قوم کے تشخص کو بگاڑنے کی کوشش نہ کریں ۔پٹھان نام کا کوئی تاریخی پس منظر نہیں ہے ،روایات و تاریخ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پختون صحابی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو “بتان”کا لقب دیا تھا ، جس کے معنی مضبوط سپہ سالار تھے ، حضرت خالدن بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر ابن رشید ،( جنھیں قیص یا قیس ابن رشیدکے نام سے یاد کیا جاتا ہے) ، افغانستان سے جرگے کی صورت میں آکر اسلام قبول کیا تھا اور اس جرگے کی گواہی پر افغانستان میں اسلام داخل ہوا اور 99فیصد افغانیوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔اب اگر کوئی پاکستانی اپنے نام کے ساتھ افغان لکھتا یا کہلواتا ہے تو یہ غلط اس نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کے نام میں الف ، افغان کیلئے مختص کیا گیا اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں یہی پڑھایا جاتا رہا ، اب بھی دیکھ لیں کہ شمالی مغربی سرحدی صوبے ، جیسے فرنٹیئر بھی کہا جاتا تھا ، اس کے نام پر مشتمل نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور کا نام ابھی تک تبدیل نہیں کیا گیا۔

شمالی مغربی سرحدی صوبے ، کے ساتھ کے علاقوں کو 70سال سے فاٹا ، یا علاقہ غیر کہاجارہا ہے ۔یہ وہ تعصبات ہیں جو خواص کی وجہ سے مسلط ہوچکے ہیں ، پاکستان شائد دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں تین وزیر اعظم ہیں ، اگر قبائلی علاقے جات کو ایک صوبے کا درجہ دے جاتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخو ا میں اسے ضم کرنے کے بجائے مناسب ہوگا کہ وہاں کی عوام سے ہی رائے لے لی جائے ، انگریزوں کے دیئے گئے نظام کو ابھی تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ، فاٹا ، پاٹا اورایجنسیوں کے نام سے پختونوں کو تقسیم کرکے ان کے وسائل کو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ، لیکن اس کا کوئی پوچھنے والا نہیں، کیونکہ وہاں پر نظام ہی ایسا رکھا گیا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق اور قومی دولت سے ملنے والے حصے سے بے خبری میں رکھا جائے ، ایف سی آر کا کالا قانون منسوخ تک نہیں کیا گیا اور انگریزوں کے دور 1877کابنایا گیا کالا قانون ایف سی آر پاکستان کے قیام کے70 سال بعد بھی ابھی تک پاکستانیوں پر مسلط ہے۔ قبائلی علاقے جات پر مشتمل عوام سے ، استصواب رائے لے لی جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ، جب ملک میں تین وزیر اعظم ہوسکتے ہیں اور نظریہ ضرورت کے تحت نائب وزیر اعظم کا عہدہ ایجاد کیا جا سکتا ہے تو ، قبائلی عوام کو اپنا صوبہ بنانے میں کیا قباحت حائل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انھیں معاشی طور پر وسائل کی تنگی کا سامنا بھی نہیں ہوگا کیونکہ ان کی چلغوزے کی فصل ہی اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ کروڑوں روپوں کا زر مبادلہ جہاں پاکستان کے لئے نعمت ہے وہاں صوبے کی عوام کی ضروریات کیلئے کاشت کاری سے حاصل رقوم اور تاریخی مقامات کی سیاحت ، صوبے کے اپنے اخراجات پورے کرسکتے ہیں۔

ویسے بھی پاکستان میں کراچی ، جو پورے پاکستان کو 70فیصدریونیو دے رہا ہے ، اس کا انفرا اسٹرکچر پاکستان کے تمام شہروں سے بُرا ، روڈ خستہ حال ، کچرے سے تعفن زدہ شہر ، کا یہ حال ہے تو قبائلی علاقوں پر مشتمل نیا صوبہ انتظامی لحاظ سے بنا نے سے پاکستان کی مسلح افواج کو 2600 کلو میٹر طویل بارڈر کی نگرانی کیلئے یہیں کی عوام کی کمک با آسانی مل سکتی ہے ۔فرنٹیئر کور میں شامل پختونوںکو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ہر جگہ استعمال کرنے کے سے تعصبات میں اضافہ ہوتا ہے ، جیسے کراچی میں فرنٹیئر کور کو ماضی میں کئے جانے آپریشن کی بنا پر آج تک اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا ۔حاصل بحث یہ ہے کہ ہمارے سنیئر صحافی دوست سردار عبدالقدیر خان صاحب نے جو ٹوئٹر مافیا کی اصلاح استعمال کی ، یہ اصلاح #KPKبھی ٹویٹر مافیا کی ایجاد ہے ، جیسے پختون قوم کے تشخص کو ختم کرنے کیلئے پر تعصب سوچ کیساتھ استعمال کیا گیا ۔ اس لئے مجھے آپ کے جملے “ٹوئٹر مافیا”سے اتفاق ہے #KPK,کے پختون ، خیبر پختون، خیبر پختواہ ، لکھے ، کہے اور بولے جانے پر اعتراض اور پختونخوا پر اتفاق ہے۔ ٹویٹر مافیا ، سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے پر بنی ہوئی ہے۔یہ ثابت شدہ ہے۔

Qadir Khan

Qadir Khan

تحریر : قادر خان افغان