جماعت اہل سنت برطانیہ کے زیر اہتمام سالانہ انٹرنیشنل سنی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی

International Sunni Conference, Birmingham

International Sunni Conference, Birmingham

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) جماعت اہل سنت برطانیہ کے زیر اہتمام 19 ویں سالانہ انٹرنیشنل سنی کانفرنس جا مع مسجدگھمکول شریف میں انعقاد پذیر ہوئی جس کی میزبانی کے فرائض سرپر ست اعلیٰ جماعت اہل سنت برطانیہ مفتی گل رحمن قادری، امیر مفتی یار محمد قادری، ناظم اعلیٰ علامہ غلام ربانی افغانی، ناظم مالیات حافظ سعید احمد مکی، چیئرمین قادریہ ٹرسٹ برطانیہ پیر محمد طیب الرحمن قادری، چیئرمین ادارہ مصباح القرآن برطانیہ الشیخ مصباح المالک لقمانوی اور مولانا محمد نصیر اللہ نقشبندی نے سرانجام دیے۔

اس موقع پر علامہ عبد المنان رضا المعروف حضور منانی میا ں بریلی شریف انڈیا ،چیئرمین محی الدین ٹرسٹ و نور ٹی وی برطانیہ سجادہ نشین نیریاں شریف آزادکشمیر پیرمحمد علائو الدین صدیقی نقشبندی،پیر محمد نقیب الرحمن عید گاہ شریف ، علامہ سید ہا شمی میاں آف انڈیا ،صاحبزادہ پیر خالد سلطان القادری مرکزی چیف آرگنائزر جماعت اہلسنت پاکستان و امیر جما عت صالحین حضرت سخی سلطان با ہو، الشیخ محمد احمددباغ طریقہ محمدیہ، صاحبزادہ پیر سید محمد لخت حسنین چیئرمین مسلم ہینڈز برطانیہ ،صوفی جا وید اختر سجاد ہ نشین گھمکول شریف برطانیہ ، صاحبزادہ پیر نجیب الرحمن فیض پوری ، صاحبزادہ پیر محمد جمیل جمالی ، صاحبزادہ پیرمحمد رفیق احمد چشتی ، قاری خلیل احمد حقانی ،علامہ جمشید سعیدی ،مفتی فیض رسول ،قاری شعیب چشتی ،راجہ ظہیر،مفتی محبوب الرحمن، مولانا سید محمد فاروق شاہ ،خلیفہ محمد حنیف، علامہ فاروق احمد نظامی ، پیر صوفی محمد اقبال ، قاری علی محمد قادری ، قاری محمد امین چشتی ، خالد محمود قادری ،مولانا محمد فرمان ، علامہ ضیاء الاسلام ہزاروی ،مولانا تمیز الدین چشتی، راجہ امتیاز احمد ، مولانا محمد رمضان سیالوی خطیب داتا دربار لاہور ، انچار ج ضیاء الا مہ سنٹر بوزلے گرین امام شاہد تمیز ،حاجی عصمت اقبال قا دری ،راجہ حق نواز جا نباز ،ڈاکٹر امانت گل،علامہ فاروق نظامی ، قمر خلیل ،محمد فیاض ، محمد غضنفر اور دیگر نے خصوصی شرکت کی۔

اس موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہو ئے چیئرمین رویت حلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ضروریات دین اور ضروریات اہلسنت پر ہر گز سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے ، امام حج پاکستان میں ظلم و ستم پر خاموش رہے جب بات اپنی سرحدوں تک پہنچی توانتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف فتویٰ دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ، صرف مجرد قرآن کو ماننا ہی لازم نہیں بلکہ صاحب قرآن کو بھی ماننااور دل و جاں سے تسلیم کرنا ضروری ہے ۔انہو ں نے مزید کہا کہ کلمہ بھی اگر مصطفی کے خلاف ہو تو اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ان نامساد حالات میں مسلم امہ کے لیے سچ کہنا اور حق برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ مسلم امہ کے اتفاق و اتحاد اور یگا نگت کیلیے علماء اہلسنت کو موجودہ حالات میں مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہو ں نے کہا کہ علماء دین پر تنقید کرنے والے اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ ہم دین کے ٹھیکیدار تو نہیں لیکن دین کے خدمت گا ر ضرور ہیں جو بھی دین میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس پر کڑی ضرب لگائیں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ افسوس آج نعت پڑھنے والوںکے پرموٹر پیدا کیے جا رہے ہیں اسے ایک آرٹ کی شکل دے دی گئی ہے نا چنے گا نے والوں واعظ کرنے اور نعت پڑھنے والوں پر پیسے پھینکے جا تے ہیں ۔ دین کے معاملہ میں فہم و فراست اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے اگر ہم نے اپنا کلچر نہ تبدیل کیا تو مٹ جائیں گے۔

انہو ں نے کاکہاکہ ہمیں متفقہ طور پر انسانیت کے حقوق اور ان کی آبیاری کے لیے کوشش کرنا ہو گی ۔ انہو ں نے کہاکہ علماء دین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اسلام کا حقیقی چہرہ نہ دکھایا تو وہ ہم سے خائف ہو کر پرائی صفوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ اسلام کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے جواں سال نسل کی تعلیم و تربیت اور انہیں اسلام کی بنیا دی تعلیمات سے روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے ۔ مفتی لیا قت حسین الا زہری نے کہاکہ برطانیہ کے اندر بے شما ر مدارس اور مساجد ہو نے کے باوجود خوارج اور داعش وا لے ہما ری بچیوں کو جہا دی دلہنیں بنا کر لیجا رہے ہیں نوجوان لڑکے ڈرگ میںڈوبے ہو ئے ہیں ان تمام برائیوں کو روکنے کے لیے علماء و مشائخ کو روایت سے ہٹ کر مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہو ں نے کہاکہ ہما ری نوجوان نسل کے لیے مختلف فتنے کھڑے ہو ر ہے ہیں عالمی اور سوشل میڈیا محض بے حیائی عریانی و فحاشی پھیلا نے میں مبتلاء ہے نوجوانوں کو یہو د و نصاریٰ سے محفوظ بنا نے کے لیے اسلامک سنٹرز کو اپنا موئثر کردار ادا کرنا ہو گا ۔ حضرت علامہ عبدالمنان رضا کا کہنا تھا کہ محبت رسول ۖ ہی ہمارا اوڑھنا اور بچھونا ہو نی چا ہیے یہی ہما ری فلا ح اور نجا ت کا زریعہ ہے ۔ صاحبزادہ پیر خالد سلطان نے کہا کہ جس نازک دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں اپنا احتساب لازم ہے ۔ درود والوں اور بارود والوں کو پہچاننا ہو گا ، جہا د والوں اور فساد والوں کی نوجوان نسل کو پہچان کروانا ہو گی ۔ انہو ں نے کہاکہ سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو حکومت پاکستان قانونی طور پر گرفتار کر کے سزائے موت دے جس نے قادیانیت کا پرچار کرتے ہو ئے آئین پاکستان سے غداری کی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ بلوچستان میں علماء اہلسنت کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے حکومت پاکستان پر اسے رکوانے کے لیے زور دینا چاہیے ۔ ناظم اعلیٰ جما عت اہلسنت برطانیہ علامہ غلام ربانی افغانی نے اعلامیہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ہم آج بین الاقوامی سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے تمام مفسدین اور دہشت گردوں سے اعلان جنگ کرتے ہیں جو اسلام کے روشن چہرے پر ایک سیاہ دھبہ ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ اسلام امن اور سکون کا درس دیتا ہے پو ری دنیا میں انسانیت اور اسلام کو بدنام کرنے والے جہادی فساد برپا کرنے والوں کو نیست و نابوت کرنے میں تمام اسلامی ممالک اپنا کردار ادا کریں ۔ انہو ں نے کہا کہ عالمی قوتوں کی ناانصافیوں کی بدولت بھی دنیا میں فتنہ پھیل رہا ہے عیسائی آبا دی پر مشتمل ایسٹ تیمور کے جزیرے اور جنوبی سوڈان کو عالمی قوتوں کے دبائو کے تحت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو استعمال کر کے آزاد کردیا جا تا ہے لیکن کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو وعدے کے باوجود آزادی سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کو دیگر شہریوں کے مساوی معاشی ، مذہبی ، قانونی اور سماجی حقوق حاصل ہیں اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ جہا ں وہ بس رہے ہیں وہاں کے قوانین کا احترام کریں اور امن و امان کے قیام میں مدد گار بنیں۔

انہو ں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے قومی اتفاق را ئے سے جو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دستور پاکستان میں اکسویں ترمیم کے لیے جو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں ہم ان کی بھی حما یت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کو دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جا ری رکھا جا ئے ۔ انہو ں نے کہاکہ ما ہرین فقہ و مفتیان کرام اور سائنسی ماہرین پر مشتمل ایک حلال آگہی کونسل قائم کی جا ئے جو آگے چل کر مختلف اشیا ئے خوردونوش کا تمام تر سائنسی تجزیہ کر کے ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرے اور تا کہ ایک حلال سر ٹیفکیشن فا ئونڈیشن قائم کرسکیں ۔ انہو ں نے کہا کہ حال ہی میں برطانیہ میں پاکستان کے سابق سفیر واجد شمس الحسن نے ایک قادیانی اجتماع میں پاکستان کے دستور کی ساتویں ترمیم کے بارے میں جو ارتداد قا دیانیت کی ضامن ہے اور جس میں عقیدہ ختم نبوت کو پاکستان کے دستور ی نظام میں تحفظ عطا کیا گیا ہے ، ہرزہ سرائی کی ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالہ سے اپنا موقف واضح کرے ۔ ہم برطانیہ ، یو رپی یونین ، امریکہ اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حقوق انسانی کے چا رٹر پر نظر ثانی کی جا ئے اور حق آزادی اظہا ر کو مسلمانوں کی دل آزاری اور مذہبی جذبا ت مجروح کر نے کے لیے استعمال کرنے پر پا بندی عائد کی جا ئے اور اس جرم کو بھی دہشت گردی کے جرائم میں شامل کیا جا ئے۔

پیرذادہ محمد عدنان قا دری نے کہاکہ وہی تحریک ہما رے لیے قابل قبول ہے جس کا مقصد اور منزل مصطفوی ماحول اور مصطفوی نظام کا نفاذ ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو با رود اور آگ میں دھکیلنے والوں کے خلا ف علم جہا د بلند کیا جا ئے انہو ں نے کہاکہ 2008 میں میرے گھر کی ٤ ہستیو ں کو دہشتگردوں نے شہید کردیا اسی طرح کوئی بچہ اپنے والد کے ساتھ مسجد میں جاتا تو واپسی پر اسے اسکے والد کی لاش کندھوں پر دی جا تی ہم سراپا رحمت نبی ۖ کے امتی ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی رحم کا درس دیتے ہیں جو انکی تعلیمات اور احکامات کی پیروی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ نظریہ پاکستان کو منہدم کرنے کی سازشیں تیار کی جا رہی ہیں انہو ں نے کاکہا کہ ہما رے بزرگوں نے اس وطن کے قیام سے لیکر اسے تحفظ فراہم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے بے شمار قربانیا دی ہیں اور تا دم مرگ اس وطن عزیز کی آبرو اور سلامتی کیلیے قربانیا دیتے رہیں گے ۔ قا ری عبد الرئوف نے کہاکہ امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے ہمیں کوششیں جا ری رکھنا ہو ں گی ۔ پروفیسر ڈاکٹر جلیل الرحمن چشتی نے کہا کہ رسول اکرم ۖ کے سوا کوئی اور نبی نہیں ہے قادیانیوں کے خلاف ایک منظم تحریک چلا نے کی ضرورت ہے قا دیانیوں کو پاکستان اسمبلی نے اقلیت قرار دیا ہے اور یہ لوگ اسلام کا نام شائر اور نعرے ہر گز استعمال نہیں کرسکتے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ حکومت پاکستان قادیانیوں کی حما یت کرنے والے ملعون واجد شمس الحسن کو کڑی سے کڑی سزا دے۔

الشیخ احمدبداغ نے کہاکہ جس شخص نے دین کو پیسہ کما نے اور حب جاء کا زریعہ بنایا تو وہ گنہگار ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ قا دیانیت کا رد ہما رے ایمان کا تقاضا ہے ان منفی عناصر کو منظر عام پر لا نے کے لیے ہر شخص اپنا کردار ادا کرے ۔ مولانا نثار بیگ نے کہا کہ نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے محفوظ بنا نے کے لیے علماء و مشائخ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا ۔ صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن نے کاکہا کہ اسلام امن و آشتی اور محبت کادین ہے اس کی حقیقی تعلیمات کو دنیا میں عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ علامہ سید فا روق شاہ نے کہا کہ اللہ اور اسکے رسول ۖ کے ذکر کی محافل میں شمولیت باعث رحمت و نجات ہے ۔ صاحبزادہ برکات محمد چشتی نے کہاکہ آج کا دن عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہے ۔ علامہ فرمان سلطانی نے کہا کہ اللہ اور اسکے رسول ۖ کی اطاعت میں ہی ہما ری دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضممر ہے۔

مولانا بوستان قادری نے کہا کہ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو تے ہو ئے مخالف قوتوں کا ہتھیا ر بن رہی ہے ہمیں نوجوانوں کو راہ راست پر لا نے کے لیے اپنا موئثر کردار ادا کرنا ہو گا اس حوالہ سے دینی مدارس ، علماء و مشائخ اور والدین کو مل کرنوجوانوں کی حقیقی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی انٹرنیشنل سنی کانفرنس سے علامہ قاری زبیر احمد ، صاحبزادہ رفیق احمد چشتی ، مولانا الطاف حسین ، مفتی عبدالکریم جما عتی ، مولانا ثناء اللہ سیٹھی ، مولانا فضل احمد قادری، مولانا نیاز احمد صدیقی ، مولانا غلام محمد صمدانی ، راجہ زاہد نواز خان، مولانا حفیظ الرحمن ، صاحبزادہ محمد عرفان شاہ ، سید ظفراللہ شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر امیر جما عت اہلسنت برطانیہ مفتی یا ر محمد قا دری اور دیگر تین علماء کو حضرت مولانا عبدالمنان رضا بریلی شریف انڈیاکی طرف سے خلافت بھی عطا کی گئی۔