گلف اردو کونسل کویت یونٹ کا پہلا عظیم الشان محفل مشاعرہ

Kamran Ghani

Kamran Ghani

کویت (کامران غنی) گلف اردو کونسل کویت کے زیرِ اہتمام 15 جولائی 2016ء کی شام سوئس بیل ہوٹل پلازہ کویت میں خلیج مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں عالمی شہرت کے حامل شعراء کی کثیر تعداد نے شرکت کی گلف اردو کونسل کے زیرِ اہتمام یہ کویت میں پہلا مشاعرہ تھا۔

گلف اردو کونسل کے صدر اور شہرہ آفاق شاعر جناب افروز عالم نے مشاعرے کے آغاز سے پہلے کویت میں مقیم نوجوان شاعر جناب سید صداقت علی ترمذی کو تلاوتِ کلامِ پاک کے لئے بلایا اور ان کے بعد معروف نعت خواں جناب غلام سرور نے نذرانہء نعت پیش کیا۔ کویت میں مقیم مذہبی و دینی شخصیت جناب حکیم طارق محمود صدیقی نے عبدالستار ایدھی اور امجد صابری کے ایصالِ ثواب کے لئے خصوصی دعاکی۔

گلف اردو کونسل کویت کے جنرل سیکرٹری اور نامور شاعر جناب خالد سجاد صاحب نے گلف اردو کونسل کے قیام کے اغراض ومقاصد بیان فرماتے ہوئے کہا کہ خلیج میں مقیم شعراء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے کافی عرصہ سے ایک ایسی تنظیم کے قیام کے بارے سوچا جا رہا تھا جہاں صرف اور صرف خلیج میں بسنے والے شعراء کو متعارف کروایا جا سکے۔

بالآخر کچھ دوستوں کی محنت سے گلف اردو کونسل کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کے زیرِ انصرام جدہ میں پہلا عظیم الشان مشاعرہ اور اردو کانفرنس منعقد کی گئی جس میں خلیجی ممالک سے شعراء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ گلف اردو کونسل کے قیام کا مقصد فقط مشاعروں کا انعقاد نہیں ہے بلکہ نثرا ور دیگر اصناف کو فروغ دینا بھی ہے۔ خلیج میں اردو کے فروغ کے لئے کونسل کے ایجنڈے میں سالانہ دو مشاعروں کے علاوہ دو اردو کانفرسیں شامل ہیں۔

جناب خالدسجاد صاحب نے سعودی عرب سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے شاعر جناب نعیم جاوید صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ خالد سجاد کے خطاب کے بعد سائیں نواز صدر پاکستان کلچرل سوسائٹی کویت، انجنیئر اشرف ضیائ، پروفیسر مرزا عبدالقدوس، شبیر قمر( صدر انڈین یوتھ سوسائٹی)، عبد اللہ عباسی (صدر فروغِ اردو ادب کویت) اور محترمہ مسرت جبیں زیبا صاحبہ کو گلدستے پیش کئے اور اسٹیج پر براجمان ہونے کی دعوت دی گئی۔

سعودی عرب سے تشریف لانے والے مہمان محترم نعیم جاوید صاحب کو گلدستہ، شال، اور اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔ محفلِ مشاعرہ کی نظامت بھی محترم نعیم جاوید صاحب کو سونپی گئی۔ مشاعرہ کی صدارت کویت کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ محترمہ مسرت جبین زیبا کے حصے میں آئی۔ افروز عالم، خالد سجاد ، آمنہ جاپان والہ ، اور سید صداقت علی نے شمع روشن کی۔ جس کے بعد مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔مشاعرہ میں شرکت کرنے والے شعراء کرام کے نام اور نمونہء کلام درج ذیل ہے۔

امیر الدین امیر ، فائزہ صدیقی، کمال انصاری، سید صداقت علی ترمذی، کمال اظہر،خالد سجاد احمد، قمر منٹو، محمد افضل شافی، تاجور سلطانہ، میمونہ علی چوغلے،افروز عالم، اور محترمہ مسرت جبیں زیبا۔
دل سے میرے ملال جاتا رہا
اس کا پاگل خیال جاتا رہا
اب اثر میری بھی دعا میں ہوا
اور سارا زوال جاتا رہا (فائزہ صدیقی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدم قدم پہ غلط فہمیاں مٹاتے ہوئے
پسینے چھوٹ گئے دوستی نبھاتے ہوئے
یہ کیفیت بھی عجیب و غریب ہے میری
میں ڈر رہا ہوں تیری انجمن میں آتے ہوئے (کمال انصاری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ کو تمہارے عشق میں رسوائیاں ملیں
محفل پسند شخص تھا مجھے تنہائیاں ملیں
سوچا تھا جیت جائیں گے اک شام ہم تمہیں
سوچوں کو اب کی بار بھی پسپائیاں ملیں
۔۔۔۔۔۔
عزم و ہمت اگر مسلسل ہے
کامیابی نشانِ منزل ہے
ننھی چڑیا کی چونچ کا پانی
نارِ نمرود کے مقابل ہے
تیرا سجدہ بغیر فکر وعمل
خود فریبی ہے ، زہرِ قاتل ہے (سید صداقت علی ترمذی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضعیفی اس لئے مجھ کو سہانی لگتی ہے
اسے کمانے میں پوری جوانی لگتی ہے
۔۔۔۔۔
مجھے مکمل کر دیتے ہیں
آپ تو پاگل کر دیتے ہیں
تم نے آنا ہو تو آئو
رستے مخمل کر دیتے ہیں
عشق دھمال جنہیں آتی ہو
دھرتی دلدل کر دیتے ہیں (خالد سجاد احمد )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار کو دنیا میں آباد تو کرنا ہوگا
نفرتیں روک کر اک ساتھ ہی چلنا ہو گا
ایسے ارمانوں کی بستی سے نکلنا ہو گا
آج کے دور میں انسان کو سمجھنا ہو گا (قمر منٹو )
۔۔۔۔۔
عبد الستار ایدھی مرحوم کی یاد میں
خدمت انسان کا تارا ہوگیا
مر کے ہر اک کا پیارا ہو گیا
آدمی ہیں آئو اب انسان بنیں
خدمت انسان کے ہم عنوان بنیں
دل کریں آباد جو ویران ہیں
ایدھی کے کاموں میں ہم پہچان بنیں (محمد افضل شافی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے گھر سے جو کہیں دور بہت ہے
اک نئے شہر میں مشہور بہت ہے
اجنبی بن کے مجھے آج ملا وہ
دل کے ہاتھوں بھی تو مجبور بہت ہے
چاند کو پانے کی ہے میری بھی تمنا
بس ذرا گھر سے میرے دور بہت ہے (تاجور سلطانہ )
۔۔۔۔۔۔
جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے
یہی تو ذہن کی الجھن ہے کیا کیا جائے
وفا پرست ہے آتش فشاں کا رکھوالا
صنم کدہ میں برہمن ہے کیا کیا جائے (افروز عالم)

کویت میں مقیم سینئر شاعرہ اور نثر نگار میمونہ علی چوغلے نے گلف اردو کونسل کو شاندار مشاعرے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور بیٹی کے عنوان سے ایک نظم پیش کی۔ سعودی عرب سے تشریف لائے ہوئے شاعر محترم نعیم جاوید نے برجستہ اشعار پیش کرکے اور اپنے منفرد اندازِ بیاں سے نظامت کو نبھاتے ہوئے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا۔ سامعین نے ان کی نظم ”اقامہ اقامہ” کو بہت پسند کیا اور ڈھیرو داد و تحسین سے نوازا۔ انہوں نے تمام سامعین اور منتظمین کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا۔ اور سید صداقت علی ترمذی کی شاعری کو سراہتے ہوئے انہیں جلد سعودی عرب میں مشاعرے میں مدعو کرنے کا وعدہ کیا۔

تقریب کے آخر میں خطابات کا سلسلہ شروع ہوا، وقت کی قلت کی وجہ سے مقررین نے مختصر الفاظ میں کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر جناب خالد سجاد احمد، اور افروز عالم صاحب کو مبارکباد دی۔ صدرِ محفل نے تمام شعراء کرام کے کلام کو سراہا اور انتظامیہ کو عظیم الشان مشاعرے کے انعقاد کی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خوشگوار، سب رنگ مشاعرہ تھا۔ وہ افروز عالم کو مبارکباد دیتی ہیں۔ انہوں نے محترم نعیم جاودی کی نظامت کی بہت تعریف کی۔ مشاعرہ کے مہمانِ خصوصی پروفیسر عبدالقدوس صاحب نے کویت میں ایک شاندار مشاعرے کے انعقاد پر افروز عالم اور خالد سجاد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

15 جولائی کی شام کو شروع ہونے والے مشاعرے کا اختتام 16 جولائی کی سحر کو چھوتے ہوئے ہوا۔ مشاعرے کے اختتام پر تمام مہمانوں کے لئے پُر تکلف عشائیے کا انتظام کیا گیا تھا۔ یوں شعر و سخن سے سجا یہ پروگرام اختتام کو پہنچا۔ آخر میں سینئر شاعرہ اور صدرِ محفل محترمہ مسرت جبیں زیبا کو اظہارِ سخن کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے مولانا عبد الستار ایدھی کے بارے میں خوبصورت کلام پیش کیا۔
ہر شہر میں رہتا تھا ایدھی
ہر دل، ہر گھر میں بستا تھا ایدھی
رحمت کا وہ ایسا بادل تھا
جو خشک اور تر پہ برستا تھا
اک ایسا وہ پاکستانی تھا
جو سارے جہاں پہ چھایہ تھا