فلاح و بہبود کے کاموں میں حکومت کا تعاون

Air pollution

Air pollution

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی
کل صبح دہلی کے پرگتی میدان میں جاری عالمی کتاب میلہ میں شرکت کا موقع ملا تو کیا دیکھتے ہیں کہ دہلی کی وہ سڑکیں جہاں سکون و اطمینان کے ساتھ کم ٹریفک میں گزشتہ کئی دنوں سے سفر کیا جاناممکن تھا ایک بار پھر بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک جام کی کیفیت میں تبدیل ہوگئی ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ دہلی حکومت نے یکم تا پندرہ جنوری 2016 آزمائشی طور پر ایک مہم چلائی تھی جس کا سبب دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ہے۔دوران مہم شہر میں تقریبا ایک چوتھائی گاڑیوں کو سڑک پر آنے سے روکا گیا جس سے ٹریفک کی روانی سہل انداز میں ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں 30 لاکھ گاڑیاں ہیں۔ان میں سے پرائیوٹ گاڑیوں پر جب چند دنوں کے لیے روک لگائی گئی تو اس کے فوائد بھی سامنے آئے ۔دوسری جانب سال رواں کے موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دیے جانے والے حکم کے بعد ہی ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

عوام نے جس مثبت انداز سے مہم کا خیر مقدم اوربھر پور تعاون کیااس کی امید مہم سے قبل نہ انتظامیہ کو تھی ،نہ حکومت کو اور نہ ہی حزب اختلاف کو۔یہی وجہ ہے کہ مہم سے قبل کئی جانب سے مخالفت میں اٹھنے والی آوازیںاُس وقت اچانک بند ہو گئیں جبکہ شہریوں نے نہ صرف دلچسپی دکھائی بلکہ تعاون بھی کیا۔اور چونکہ دہلی میں فضائی آلودگی ایک بڑا مسئلہ ہے جس میںہر شخص مبتلا ہے لہذا یہ مسئلہ ،مسئلہ کا حل اور طریقہ کار،جو گرچہ حکومت نے طے کیا تھا،ہر شخص کا مسئلہ بن گیا۔اور واقعہ یہ ہے کہ تمام ہی لوگوں نے موجودہ حکومت کے جفت اور طاق اعداد کے فارمولہ پر عمل کرنا پسند کیا۔لیکن چونکہ یہ بہت محدود مدت کے لیے تھا،اس کے خیر خواہ نتائج فوراً نظر آنا ممکن نہیں ہیں۔ضرورت ہے کہ آئندہ دنوں میں ہم اور آپ مل کر نہ صرف حکومت کی بلکہ خود اپنی اور اہل خانہ کی بھی مدد کریں۔

Delhi

Delhi

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی نے دنیا کے سب سے آلودہ شہر بیجنگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بیجنگ سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔فضائی آلودگی کا مطلب ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونوآکسائیڈ کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طے کیے گئے معیار سے زیادہ ہونا ہے۔آلودگی کامعیار سے زیادہ ہونا اور سانس کے ذریعے کاربن مونو آکسائیڈ، سیسہ اور کیڈمیئم پھیپھڑوں میں جانے کے باعث نہ صرف سانس کی بیماریوں میں حد درجہ اضافہ ہواہے بلکہ آنکھوں اور دل کے امراض بھی عام ہوتے جا رہے ہیں۔نئی دہلی میں قائم سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر انومیتا رائے چوہدری کہتی ہیں کہ اس شہر نے 2004ء اور 2005ء میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، اب وہ ان سے محروم ہو چکا ہے۔ایک دور میں جب نئی دہلی کی آبادی 9.4 ملین تھی،شہر کو کنٹرول کرنا نسبتاً آسان تھا۔ لیکن اس وقت آبادی 16 ملین تک جا پہنچی ہے،جسے کنٹرول کرنا ایک مشکل ترین عمل ہے۔دارالحکومت کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے 1998سے 2003ء تک ایک کامیاب پروگرام چلایاگیاتھا، جس کے تحت بجلی گھروں کو شہر کے مرکز سے دور منتقل کیاگیا ،بسیں اور رکشے چلانے کے لیے سی این جی استعمال کی گئی، جو ا یندھن کی دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے کم آلودگی پیدا کرتی ہے ،لیکن یہ عمل برقرار نہ رہ سکا۔

وہیں دوسری جانب عالمی ادارہء صحت (WHO) کے مطابق ہوا میں دس مائیکرو میٹر سے کم سائز کے PM10s کہلانے والے ذرات انسانی صحت کے لیے بے انتہاخطرناک ہیں۔ چونکہ یہ انتہائی باریک ذرات انسانی پھیپھڑے تک بہ آسانی پہنچ جاتے ہیں اور مستقل اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا انہیں ذرات کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں 1.34 ملین انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں بھی ایسی اموات ہزاروں میں درج کی جا رہی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر جہاں ایک طرفWHOنے ہوا میں اِن ذرات کی زیادہ سے زیادہ مقدار 20 ذرات فی کیوبک میٹر تجویز کی ہے۔ وہیں دوسری طرف نئی دہلی انتظامیہ نے 100 ذرات فی کیوبک میٹر کی قانونی حد مقرر کی ہے۔برخلاف اس کے آج کل اکثر دہلی میں 300 ذرات فی کیوبک میٹر ناپے جارہے ہیں۔تجزیہ کی روشنی میںیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دارالحکومت دہلی کی فضا حد درجہ زہر آلود ہے۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف انسان بلکہ چرند و پرند،حیوان اور نباتات تک حد درجہ متاثر ہیں۔اب جبکہ مسئلہ کے حل کے طور پر صرف پندرہ دن کے تجرباتی دور میں 30%فضائی آلودگی میں کمی آئی ہے ۔اگر یہ عمل مستقل انجام دیا جائے ساتھ ہی این سی آر میں چلنے والی ڈیزل گاڑیوں پر بھی کنڑول کیا جائے تو ممکن ہے فضا صاف ہو،مسئلہ کا حل متعین ہواور صحت عامہ کی بڑی پریشانیوں سے بھی ہم نجات پا جائیں۔لہذا اس مسئلہ کو حکومتی وعوامی ہر دوسطح پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

Alcohol

Alcohol

ایک اور خوش آئند خبر گزشتہ دنوں ریاست بہار سے آئی ہے۔خبر کے مطابق بہار میں اپریل 2016 سے شراب نوشی اور اس کی فروخت پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں ریاستی انتخابات کے دوران شراب پر مکمل پابندی کا وعدہ کیا تھا۔شراب نوشی اور منشیات کی خرید فروخت گرچہ مرکزی و ریاستی حکومت کی آمدنی میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔اس کے باوجود یہ معاونت بے شمار سماجی،معاشی،معاشرتی ،خاندانی اور صحت کے مسائل میں اضافہ کا سبب ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خواتین شراب نوشی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، اس وجہ سے میں نے اپنے افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال سے اس پابندی پر عمل درآمد کی تیاریاں کریں۔تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی کہ وہ اس پابندی پر کس طرح عمل درآمد کروائیں گے ۔اور اس سے ہونے ہونے والی مالی خسارہ کو کیسے پورا کیا جائے گا؟بحر حال یہ حکومت کا معاملہ ہے اور حل کے لیے لازماً اس نے کوئی نہ کوئی طریقہ بھی طے ہوگا۔لیکن ایک مرحلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حکومت کو خسارہ ہوتا ہے ۔ تب بھی شراب پر پابندی سے حکومت معاشرتی،خاندانی اور صحت کے بے شمارمسائل سے نجات پائے گی ۔ جس کے نتیجہ میں ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پائے گا۔او ر اس صحت مند معاشرے سے لازماًیہ امید وابستہ کی جاسکتی ہے کہ وہ معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ یہ بات بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ منشیات کے استعمال سے خرابی ٔ صحت کے مسائل بڑے پیمانہ پر رونما ہوتے ہیں۔ہاضمہ متاثر ہوتا ہے،جگر کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں،ہائی بلڈ پریشر اور لو بلڈ پریشر جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں،دل متاثر اور دل کی بیماریاں بڑھتی ہیں،ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں،کینسر پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،انیمیا ہوتا ہے،یادداشت کمزور ہوتی ہے،خود پر کنڑول رکھنے یہاں تک کہ چلنے پھرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے،نیند متاثر ہوتی ہے ،ساتھ ہی متاثرہ افراد بڑے پیمانہ پر ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں،وغیرہ۔وہیں دوسری جانب سماجی مسائل میں خاندان متاثر ہوتے ہیں،رشتوں میں ناچاقیاں بڑھتی ہیں،صنف نازک پر ظلم و زیادتیوں میں اضافہ ہوتا ہے،بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سڑک حادثات ،انسداد قانون کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے،نشہ خوری کی لت میں چوری و ڈکیٹی کے واقعات میں مزید بڑھ جاتے ہیںساتھ ہی صحیح و غلط اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔اس صورت میں ہم اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ ریاستی سطح پر اس میں تعاون کیا جائے گا۔اور ایک اچھے فیصلہ میں تعاون کیون نہ کیا جائے جبکہ راست فائدہ ہمارا ہی ہے!

تحریر: محمد آصف ا قبال، نئی دہلی

maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com