سفید جھوٹ

Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif

Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif

تحریر: رانا ظفر اقبال ظفر
پاکستان کی ہر دور حکومت میں سیاستدانوں اور انکے سیاسی منشیوں کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ بلا وجہ کا شور مچا کر ثابت کیا جاتا ہے کہ ترقی کا سیلاب ہو چکا ہے کرپشن کو مات دیکر، بے روزگاری، مہنگائی، افراتفری پر قابو پا لیا گیا ہے کسان خوشحال ہے غریبوں کے چہروں رونق آ چکی ہے پاکستان کے ہر مکین کو تحفظ کا احساس ہے سرکاری اداروں نے عوام کو لوٹنے کی بجائے دفتروں میں،، جائے نماز، ٹوپی، تسبیح ،، رکھ لی ہے سب اچھا ہے کی رپورٹ میں عوام سے دور، وزیر اعظم نواز شریف اور میاں شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب امن کا گیت گاتے دورے پہ دورہ کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی وزرا کی فوج حکومتی کارناموں کے گیتوں پر ٹھمکے لگاتے نہیں تھک رہے اور اگر ڈھول ہتھ چڑھ جائے تو لڈیاں اور دھمال دیدنی ہوتی ہے اسی طرح میاں شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب نے حکومتی کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ فلاح عامہ کے منصوبوں کو اعلی معیار کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے پنجاب حکومت دیہی اور شہری علاقوں کے لیے ترقی کی متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے اعلی سطحی اجلاس میں فلاح عامہ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا ہے کہ منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے عوام کی بے لوث خدمت ہمارا مشن ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے شفافیت ،اعلی معیار، تیز رفتاری سے منصوبوں کی تکمیل کے کلچر کو پروان چڑھایا ہے جہاں حکومت کی شفافیت پالیسی کا اعتراف نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی ادارے بھی کر رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ اڑھائی سال میں تعلیم،صحت،پینے کے صاف پانی،کی فراہمی سمیت عوام کو بہترین سہولیات مہیاء کرنے کے لیے وسائل میں کمی نہیں آنے دیں گے پنجاب حکومت دیہی و شہری علاقوں کے لیے ترقی کی متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے بڑے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کیا جا رہا ہے جس سے معشیت کو بے پناہ فائدہ ہو گا۔

PML-N

PML-N

تعلیم وصحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جبکہ فلاح عامہ کے منصوبوں کو اعلی معیار کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں عوام کی بے لوث خدمت کا مشن جاری ہے اور رکھا جائے گا۔

پوری پریس کانفرنس میں لاہور کے حوالے سے جو کہا گیا وہ درست ہے جبکہ دیہی علاقوں کی فلاح ،ڈویلپمنٹ،اربوں کے منصوبے سفید جھوت کی طرح چبھتا ہے کیونکہ لاہور یا دیگر بڑے شہروں میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام ہوا یا ہو رہا ہے لاہور میں میٹرو بس،میٹرو اورینج ٹرین،بل،فلائی اوور،لاہور و جاتی عمرہ کے اطراف کارپٹ سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہونگے جہاں تک تعصیل،قصبات،اور دیہاتی عوام کے مسائل حل کرنا ،مسائل پر یکساں نظر رکھنا،اور انکو حل کرنے کی بات ہے تو آج کا کسان مسلم لیگ ن حکومت میں بالکل تباہ و برباد ہو چکا ہے پنجاب کی زیادہ تر اابادی کا روزگار ہی زراعت ہے ہر بار کی طرح آج بھی دھان، چاول، مکی،آلو سمیت دیگر فصلون کے ریٹ گر چکے ہیں ہر بار اس امید پر کسان فصل اگاتے رہے کہ شاید اائندہ فصل پر ریٹس میں بہتری جائے گی مگر ہر بار کی طرح فصلوں کے ریٹ گرتے چلے گئے خصوصا آلو کی فصل نے تو کسانوں کے گھر بارگروہی رکھوا دیے ہیں۔

فصل کو کھیت سے منڈی لیجانے میں جتنا فی فوری خرچہ آتا ہے اسکا نسف بھی ریٹ نہیں ملتا جس سے کسان اپنی ہی فصل کو فروخت کرنے کی بجائے پھینکنے پر ہر بار مجبور ہورہا ہے اور سفید پوشی کا بھرم بھی ٹوٹنے لگا ہے ڈویلپمنٹ کے حوالے سے چھوٹے شہروں ،اضلاع،کی سڑجات گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جن پر سفر کرنا تو تکلیف دہ ہے ہی ساتھ گڑھوں کی بدولت آئے روز کے حادثات اور ان میں ہونے والی اموات و معذوری ھکمرانوں کا تحفہ ہے متعدد ایسے روڈز ہیں جنکو پہلی فرصت میں ون وے کیا جانا ضروری ہے ان روڈز پر شدید ٹریفک کے دبائو کی وجہ سے سفر ممکن نہیں رہا روزانہ کی بنیاد پر حادثات معمول بن چکے ہیں ۔شہروں ۔قصبات،اور دیہاتوں میں تعلیمی نظام حکومتی اکابرین کے منہ پر طمانچے سے کم نہیں ہے ان جگہوں پر آج بھی گورئمنٹ سکولز میں ،،دو دونی چار اور چار دونی آٹھ،،کا پہاڑا پرھایا جا رہا ہے میترک ،رٹس اساتذہ سے سائنس پڑھانے کی توقع رکھنا اور جدید دور کے مطابق،پرائیویٹ سکولز کا مقابلہ کرتے ہوئے نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے خواب صرف خواب ہی بن گئے ہیں ان حالات میں غریبوں،مزدوروں،بے بس،مجبوروں کی اولادوں کو ان پڑھ رکھنے کی سازش ہو رہی ہے۔

پرائیویٹ سکولز کی مہنگی تعلیم،برھتی فیسیں ،آئے روز مینگو ڈے،سنگترہ ڈے،کینو ڈے،بارش ڈے،کلر ڈے اور نوٹس کے نام پر طلباء والدین کی جیبوں پر ڈاکے اور سکولز کنٹینوں پر ڈبل ریٹ میں اشیائے خوردونوش فروخت کرنا حکومتی اقدامات کی نفی ہے ۔ سرکاری اداروں میں کرپشن،لوٹ مار،فیشن بن چکی ہے سرکاری ملازمین پیشہ وارانہ فرائض ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ دیہاڑی لگانیدفتروں میں آتے ہیں اور ان پر چیک رکھنے والے ادارے ،،چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں،بڑے میاں سبحان اللہ،،کی مثال ہیں ہر سو مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان بدتمیزی برپا ہے ۔اشیائے خوردونوش غریبوں ،مزدوروں،سمیت سفید پوش طبقہ کی عوام بس کی بات نہیں رہی ہے تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں پکڑے دفتروں میں ،،رل،، رہے ہیں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بے روزگاری کی چکی میں پستے پستے درجہ چہارم کی سیٹوں پر ملازمت کرنے کو تیار ہیں جہاں میرٹ کی قبر کھود کر نوجوان نسل کے خوابوں کو دفنایا جا رہا ہے جسکی وجہ سے با صلاحیت نوجوان ذہینی مریض بن رہے ہیں۔

Unemployment

Unemployment

کسی بھی تھانے میں بھاری نذرانے کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور انصاف نوٹوں میں تول کر دیا جاتا ہے سرکاری ہستالوں میں علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ضلع،تعصیل،قصبات اور دیہاتوں میں ،ڈاکٹرز کی کمی،مشینری کا نہ ہونا،لیڈی ڈاکٹرز کی جگی ایل ایچ ویز سے خواتین کا قتل عام،کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کا ڈیوٹی سے زیادی اپنے کلینک اور پرائیویٹ ہسپتالوں تائم دینا، دیہاتی ہسپتالوں اور سکولز کو وڈیروں،جاگیرداروں کی طرف سے ڈیروں میں تبدیل کرکے ن لیگ کے بورڈ آویزاں کر دینا آپکی کئی سالہ حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے پینے کے صاف پانی کے حوالے سے لاہور سمیت اسی فیصد آبادی اس تکلیف میں مبتلا ہے پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے سے عوام ،جگر ، معدہ، پیٹ ،سمیت کئی بیماریوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے جسکی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔سب سے بڑھ کر ڈویلپمنٹ کروانے والے اداروں کی دلیرانہ کرپشن کی بدولت سالانہ خزانہ سرکار کو کھربوں کا چونا لگایا جاتا ہے۔

ان حالات میں شہری اور دیہاتی علاقوں میں متوازن پالیسی کی بات کر کے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا سیاسی نعرہ سے بڑھ کر کچھ نہ ہے اور نہ ہی عوامی خلدمت کا اڑن کٹولہ عوام کے سروں پر منڈلاتا نظر آیا ہے اگر عوامی خدمت کرنا مقصود ہے تو لاہور سے نکل کر تعصیل،قصبات اور دیہاتوں کے میں بسنے والی عوام کے مسئل جاننا ہونگے اور انکے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے جو دور دور تک نظر نہیں آتے رہی بات حکومت کی شفافیت کی تو نیب کی کاروائی شروع ہونے سے قبل،،باں باں،کر دینا ہی شفافیت کی گوہی ہے اور رانا مشہود صوبائی وزیر کے خلاف نیب کا حرکت میں آنا ہی گواہی ہے۔

Rana Zafar Iqbal

Rana Zafar Iqbal

تحریر: رانا ظفر اقبال ظفر