ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

Sheikhupura Punjab

Sheikhupura Punjab

تحریر : طاہرہ یوسف کھرل
31 دسمبر 2016 کا سورج غروب ہوتے ہی ای ۔ڈی ۔اوز،ایجوکیشن کا ایک صبر آزما اور کربناک دور اختتام پزیر ہو جائیگا۔ کچھ اضلاع میں کامیابیاں اور اعزازات تو کہیں مایوس کن صورت حال سامنے آئی۔یقینا اس میں بھی بے شمار عوامل کار فرما ہونگے۔ اپنا پیارا ضلع شیخوپورہ پنجاب بھر کے اضلاع کی رینکنگ میں اکژ و بیشتر آخری نمبر پر لڑکھڑاتا نظر آیا۔

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
اور

کوئی کارواں سے ٹوٹا تو کوئی بدگماں حرم سے

کہ میر کارواں میں نہیں ہے خوئے دلنوازی

محکمہ تعلیم کے انتظامی افسران کو ذاتی یادداشتوں پر مشتمل ایک رپورٹ لکھنی چاہیے۔جس میں رسمی و غیر رسمی تجربات کی روشنی میں ان عوامل کا تجزیہ پیش کرنا چاہیے جو کر وڑوں روپے خرچ کرکے بھی ضلع شیخوپورہ کو پینتیسویں نمبر پر قلابازیاں کھلاتے رہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک واقعہ کہیں پڑھا تھا کہ کسی مصور نے ایک شاہکار تصویر بنائی ۔یہ فن پارا نہ صرف انتہائی بے مثال تھا بلکہ اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کا نقطئہ عروج بھی ۔لیکن یہ شہ پارہ بھی اسکے ذوق جمالیات کو مطمئن نہ کر سکا۔ اس نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ یہ فن پارہ شہر کے وسط میں لٹکا دے ۔تاکہ لوگ اسکی غلطیوں کی نشاندہی کرکے اس کے فن کو مزید جلابخشیں ۔ چنانچہ اس نے وہ تصویر شہر کے وسط میں لٹکا دی۔ ایک دن کے بعد جب وہ دوبارہ وہاں گیا تو اسکی پیشمانی کی انتہا نہ رہی ۔کہ وہ تصویر تقریباََ ناقابل شناخت ہو چکی تھی۔ لوگوں کو اس میں اتنی خامیاں نظر آئیں کہ اس نے مزید تحلیقی کام کرنے سے توبہ کرلی۔لیکن اس کے اندر کے فنکارنے سر ابھارا کہ اچھے تخلیق کار کے سیکھنے کا عمل کبھی نہیں رکتا چنانچہ اس نے سوچا کیوں نہ وہ لوگوں سے اصلاح کی درخواست کرے ۔چنانچہ اگلے دن وہ دوبارہ اسی چوراہے میں گیاوہاں پھر ایک نئی تصویر لٹکائی اور نیچے لکھا کہ براہ مہربانی اغلاط کی نشاندہی کے بعد اصلاح بھی کر دیں۔

Working Day

Working Day

وہ ایک ہفتہ کے دوبارہ وہاں پر گیا اسے ایک ناقابل یقین حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ کہ کسی نے اس تصویر پر ایک نقطئہ بھی نہیں لگایا تھا۔ غالباََ اہل شہر میں اصلاح کا پہلو کم یا فنکارانہ صلاحیتیں ناپید تھیں۔وطن عزیز میں بھی کم و بیش یہی صورت حال نمایا ں ہے غیر صحت مند تنقید بے جا نکتہ چینی ، اور نامناسب آرا ہمارا خاصہ بن چکا ہے۔تعلیمی ادارے بھی آج گوناں گوں مسائل کا شکار ہیں ۔ملازمین افسروں سے نالاں تو افسران ملازمین سے خفا ،مانٹیرنگ ونگ اور ضلعی انتظامیہ ان سب پر”چہ بجبیں” ۔پری۔ڈی ۔ آر ۔سی اور ڈی۔آر۔ سی میٹنگ میں ڈی ۔ایم ۔او ، اور ڈی ۔سی ۔او صاحبان کی طرف سے محکمہ تعلیم کے افسران کی سرزنشیں ، ڈراوے ، جواب طلبیاں ، کٹوتیاں اور جرمانے ،جواباََ محکمہ تعلیم کے افسران کی وضاحتیں ، معذرتیں ، پیشیما نیاں ، چشم پوشیاں ، دلیلیں ، وعدے اور پھر یہی ناکامیاں ، غلط فہمیاں ، ناراضگیاں ، تلخیاں اور جھنجھلاہٹیں ، اور غیر حاصل شدہ اہداف اداروں کا رُخ کر لیتے ہیں ۔ناجانے ہمارے لہجے اتنے سخت اور ہمارے الفاظ اتنے پتھریلے کیوں ہو گئے ہیں ۔ مختلف اسٹیک ہولڈرز کاٹارگٹ ایک ہی ہے ——وزیر اعلی پنجاب کے ویژن کا حصول —–پڑھا لکھا پنجاب ۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ پنجاب میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ، بچی تعلیم حاصل کرئے ۔جب سب کی منزل ایک ہی ہے تو سب ہاتھوں میں ہاتھ دیکر چلیں۔تاکہ منزل سہل ہواور وزیر اعلی کے خوابوں کو تعبیر مل سکے ۔کاش جناب خادم اعلی صاحب کے وژن میں غیر ملکی امداد کا کڑوا ذائقہ شامل نہ ہوتا۔کاش ہم شاہین بچوں کو (بال و پر ) دے سکتے۔ کیونکہ بقول بانو قدسیہ، راجہ گدھ کے مصداق جب انسان کے رزق میں ملاوٹ شامل ہو جاتی ہے تو یا” انسان خود دیوانہ ہو جاتا ہے یا پھر اس کی آنے والی نسلیں دیوانی ہو جاتی ہیں”۔

غیر حقیقی پالیسیاں افسران کے غیر صحت مند رویے اور تنقید نے سب سے زیادہ خواتین کے سکول اور زنانہ سربراہان ادارہ جات کو متاثر کیا ہے۔پیشہ ورانہ آداب کا تقاضا ہے اور ہمارے اسلامی معاشرتی نظام کا خاصہ ہے کہ خواتین کے ادارے میں جب مرد آفیسر داخل ہوں تو اجازت لیکر۔۔اپنے دفتر میں بلائیں تو عزت سے پیش آئیں۔تاکہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ حیا کے تقاضے بھی پورے ہو سکیں جہاںپر صنفی تضاد ہو۔مرد حضرات چاہے افسر ہوں یا ماتحت اپنے لب و لہجے،طرز گفتار،حرکات و سکنات اور باڈی لینگویج کا خیال رکھیں۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق لڑکیوں کو سکول نہ بھیجنے والے ممالک میں پاکستان دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔جب ایک تعلیم یافتہ عورت کو ہی عزت نہیں ملے گی تو کیا کسی کا دماغ خراب ہے کہ لڑکیوں کو سکول بھیجے۔ورکنگ ویمن کو عزت دیں ، ان کو عزت نفس کا احساس دلائیں،کہ ان کی خدمات ملک عزیز کیلئے ناگزیر ہیں۔وہ ماں ہے تو جنت ،بہن اور بیٹی ہے تو رحمت،سرکاری ملازم ہے تومجاہدہ ۔ڈانٹ ڈپٹ، جھڑکیوں اور تیوریوں کی بجائے مینٹورنگ،مشاورت،میٹنگز رکھیے۔حالات سدھارئیے۔ رہنمائی کیجئے ۔جب بھی افسران بالا اداروں کا وزٹ کریں تو مسائل کا حل بتا کر آئیں۔طے شدہ وزٹ کریںاغلاط کی نشاندہی بھی کریں،خامیوں کا ذکر بھی کریں لیکن مسائل کا حل بتا کر بھی آئیں۔اہل جفا کی طرح صرف تصویر پر نقطے نہ لگائیں۔

خواتین کے اداروں کے مسائل مرد حضرات کے اداروں سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر گائوں کے زنانہ سکول مسائل کا گڑھ ہیں خواتین نے ہر کام درجئہ چہارم کے ملازمین سے کروانا ہوتا ہے۔(جن کی آدھی اسامیاں ہمیشہ خالی رہتی ہیں)سارے گائوں میں ایک الیکٹریشن ، تو فرنیچر مرمت کرنے والا بھی ایک ۔تو ایک ہی فوٹو سٹیٹ مشین اور آپ کے انوکھے لاڈلے سی سی ٹی وی کیمرے جات کو ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں۔اس کیلئے کوئی ماہر شہر سے بلوانا پڑتا ہے۔سکول کی ہر چیز ٹھیک ملنے پر چلتے چلتے سی سی ٹی وی کیمرہ جات کو پروٹیکٹر کی مدد سے ناپنے کی کوشش نہ کریں کہ یہ کیمرہ .001کے زاویہ سے انحراف کر رہا ہے۔لہذا 19گریڈ کی خاتون آفیسر جو گریڈ میں آپ کے برابر ہے کو سرنڈر کی دھمکیوں سے نوازتے جائیں۔اگر آپ کو دوران وزٹ قابل ذکر خامیاں نظر نہیں آرہی تو یہ درحقیقت آپکی رہنمائی اور جانفشانی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس پر فخر کیجئے اور سربراہ ادارہ کی بھی ستائش کیجئے۔

Budget

Budget

انتظامی و تعلیی دفاتر کی کارکردگی کے پیچھے ایک اور خاموش کردار ، جوان اداروں کی کارکردگی کو گہنا دیتا ہے۔وہ ہے ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس (دام بنائے کام) جب بجٹ وقت پر نہیں ملے گا(اس کی منظوری اور ترسیل تو سربراہ ادارں کے بس میں نہیں ) تو کام کیسے ہوگا۔ترقیاتی کام رُکا ہوا دیکھ کر اکثر افسران فرماتے ہیں اپنے پاس سے خرچ کریں جو افسران لمبے عرصہ سے ایک سیٹ پر بیٹھے ہیں وہ تو شاید خرچ کرلیں جن کا دورانیہ مختصر ہو ان کیلئے قرضے، انکی وصولیاں ایک نیا جھنجٹ بن جاتے ہیں ۔اس سے بہتر ہے کہ بجٹ کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ اداروں کا نظام چل سکے۔
اس ضمن میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔

٭ خواتین کے اداروں میں مرد حضرات کے وزٹ طے شدہ ہوں ۔
٭ ان کے دفاتر میں اطلاع دے کر داخل ہوں ۔
٭ غیر ضروری انکوئریوں سے اجتناب کیا جائے۔
٭ بجٹ کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔
٭ سربراہان ادارہ جات کو حسب ضرورت وسیع انتظامی اختیارات دیے جائیں۔
٭ طلباء و اساتذہ کی 90%حاضری یقینی بنانے کے لئے ان کی مینٹورنگ کی جائے۔
٭ وقتاََ فوقتاََ پیشہ وارانہ مہارتیں سکھانے کا بندوبست کیا جائے تاکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق کام کیا جاسکے۔
٭ یکم جنوری سے نافذالعمل نئے نظام کے بارے میں بروقت اطلاع دی جائے۔

تحریر ؛ طاہرہ یوسف کھرل