کیرالہ کی 18 سالہ دلت طالبہ نے 64 مردوں پر گینگ ریپ کا الزام عائد کیا ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد گذشتہ پانچ سال سے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ پولیس نے اب تک 28 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں سے دو نابالغ ہیں جبکہ دیگر کی عمریں 19 سے 47 سال کے درمیان ہیں۔ ملزمان میں طالبہ کے پڑوسی، کھیلوں کے کوچ اور اس کے والد کے دوست شامل ہیں۔
طالبہ نے یہ معلومات پہلی بار ایک سرکاری پروگرام کے تحت اس کے گھر کا دورہ کرنے والے کونسلرز کی ٹیم کو بتائیں۔ پولیس نے اس معاملے میں انڈیا کے مختلف فوجداری قوانین کے ساتھ ساتھ شیڈول ذاتوں اور قبائل سے مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت 18 مقدمات درج کیے ہیں۔ یہ شکایات دو تھانوں میں درج کی گئی ہیں۔
دلت ہندو مذہب میں ذاتوں کے درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر ہیں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کے قوانین کے باوجود انڈیا میں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ سینیئر پولیس اہلکار نند کمار ایس کے مطابق، جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے ایکٹ کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں کیونکہ یہ جرائم پچھلے پانچ سالوں میں ہوئے ہیں جب طالبہ نابالغ تھی۔
پولیس کے مطابق، طالبہ کے ساتھ پچھلے پانچ سالوں میں تین بار اجتماعی ریپ کیا گیا۔ آنے والے دنوں میں مزید مقدمات درج ہونے کی توقع ہے کیونکہ پولیس ابھی بھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں 25 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وی جی ونود کمار کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ جنسی استحصال اس وقت شروع ہوا جب طالبہ کی عمر 13 سال تھی۔ اس معاملے میں متاثرہ طالبہ کے پڑوسی اور بچپن کے دوست کو پہلا ملزم بنایا گیا ہے۔ الزامات کے مطابق، طالبہ کو پہلی بار اس کے گھر کے قریب گینگ ریپ کیا گیا تھا۔ ملزم نے مبینہ طور پر دوبارہ اس کا جنسی استحصال اس وقت کیا جب وہ 16 سال کی تھی۔ اس دوران ملزم نے اس عمل کی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور انہیں کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کیا، جو آنے والے کئی برسوں تک طالبہ کو جنسی حملوں کا نشانہ بناتے رہے۔
کرائم برانچ کے میڈیا سیل کے سجیو ایم نے بتایا کہ ملزم کے فون پر جنسی ہراسانی کے ثبوت ملے ہیں۔ اس نے ان کا استعمال طالبہ کو بلیک میل کرنے، اس کا جنسی استحصال کرنے اور اسے اپنے دوستوں کے پاس لے جانے کے لیے کیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کمیونٹی کونسلرز کی ایک ٹیم نے طالبہ کے گھر کا دورہ کیا۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے ایڈووکیٹ این راجیو کے مطابق، طالبہ نے ماہر نفسیات کے سامنے کھل کر بتایا کہ وہ 13 سال کی عمر سے جنسی استحصال کا سامنا کر رہی ہے۔ اس دوران طالبہ کی ماں باہر انتظار کر رہی تھیں۔
مبینہ طور پر طالبہ کے اہل خانہ کو اس زیادتی کے بارے میں علم نہیں تھا۔ عام طور پر ایسے معاملات میں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی مقامی پولیس سٹیشن انچارج کو مطلع کرتی ہے، لیکن اس معاملے میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کو براہ راست اطلاع دی گئی۔
خواتین کے قومی کمیشن نے اس معاملے میں ریاستی حکومت سے تین دن کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔ کیرالہ خواتین کمیشن نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے۔ طالبہ اور اس کی ماں کو محفوظ گھر لے جایا گیا ہے۔
خواتین کے حقوق کی تنظیم سخی کی وکیل سندھیا جناردنا پلئی نے کہا کہ یہ کیس واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے لیے صرف قوانین ہی کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت میں سسٹم ناکام ہو چکا ہے اور غریب اور کمزور افراد زیادہ شکار بن رہے ہیں۔
طالبہ کے الزامات نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ توقع ہے کہ وہ ایک خاتون پولیس افسر کے سامنے مبینہ بدسلوکی کے بارے میں تفصیلی بیان دیں گی۔
